انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس کہیں نہیں جا رہے۔

انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس کہیں نہیں جا رہے۔
انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس کہیں نہیں جا رہے۔

  


افواہوں کی سب سے زیادہ فیکٹریاں شائدہمارے ملک میں ہی لگی ہوئی ہیں۔ ذاتی خواہشات کو خبر کا رنگ دینے والے سوشل میڈیا ئی دانشوروں کا نہ حقائق سے کوئی تعلق ہوتا ہے اور نہ ہی انہیں کسی واقعہ کی حساسیت اور اہمیت کا اندازہ ہو پاتا ہے۔ ہم ایک ایسے ماحول کا شکار ہیں جو معاشرے کے سدھار کی بجائے بگاڑ کی جانب مائل ہے۔ کبھی خبروں پر بے لاگ تجزئیے ہوا کرتے تھے اور تجزیہ نگار صورت حال کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ واقعہ کے جزوی پہلوؤں سے بھی بخوبی آشنا ہوتے تھے۔ ایک مدت لگتی ہے ایسی ریاضت اور مطالعہ میں لیکن یہاں تو حالات یہ ہیں کہ جو شخص زندگی میں کبھی وزیر اعظم کے پی اے سے بھی نہیں ملا ہوتا وہ بھی انتہائی یقین کے ساتھ بتا رہا ہوتا ہے کہ آج ملک کے وزیر اعظم یہ فیصلہ کر دیں گے یا اعلی سطح پر فلاں فیصلہ کر لیا گیا ہے جس سے جلد ہی عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔ ان سے کوئی یہ سوال پوچھنے کی جرات نہیں کرتا کہ جو فیصلہ عوام کو ابھی بتایا ہی نہیں گیا وہ آپ نے خواب میں دیکھا تھا یا پھر کسی اعلی شخصیت کو اچانک خیال آ گیا کہ چونکہ اتنے بڑے دانشور سے مشاورت نہیں کی گئی لہذا انہیں فون کر لیا جائے۔ ریاستوں کے فیصلے اس طرح قطعا ً نہیں ہوتے کہ پہلے پورے ملک کو سینہ بہ سینہ بتا دیئے جائیں اور پھر ان کاباقاعدہ اعلان کیا جائے۔ گزشتہ کئی روز سے سوشل میڈیا پرافواہ ساز فیکٹریوں میں ایک نئی افواہ تیار کی گئی کہ آئی جی پنجاب کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے کئی صحافی دوست بھی اس افواہ کا شکار ہو گئے جس کا نہ تو کوئی سورس تھا اور نہ ہی کسی اہم حلقہ نے اس حوالے سے کوئی بات کی تھی۔ یہ وہ ہی تو ہیں جو پہلے سی سی پی او لا ہور بی اے ناصر کے تبدیل ہو نے کی افواہیں پھیلا رہے تھے دوسری جانب اس افواہ سے ایک نئی بات سامنے آئی کہ پنجاب پولیس کے اہلکار پہلی بار اپنے کسی کمانڈر کے حق میں اس طرح کھڑے ہوئے کہ انہوں نے سب کو حیران کر دیا۔ سوشل میڈیا پر آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان کی تصویر کو پروفائل پکچر کے طور پر لگایا جانے لگا اور کئی ایسی پوسٹیں سامنے آئیں جن میں پولیس افسران و اہلکاروں کا کہنا تھا کہ پہلی بار انہیں ایسا سربراہ ملا ہے جس نے ان کے مسائل پر بات کی اور ان کے فریز الاؤنسز کو ڈی فریز کروانے کے ساتھ ساتھ دیگر مسائل اسی طرح حل کئے جس طرح گھر کا سربراہ اپنے گھر کے افراد کے لئے کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی جی پنجاب ڈسپلن کے حوالے سے سخت ضرور ہیں لیکن یہ سختی انہی کو بری لگ رہی ہے جو فرائض میں غفلت کا مظاہرہ کرتے تھے جبکہ فرض شناس اہلکاروں کی عزت مزید بڑھی ہے اور ڈسپلن کی سختی کی وجہ سے ان کے فرائض کی انجام دہی کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور ہو گئی ہیں۔ آئی جی پنجاب کی تبدیلی کی خبر محض ایسے ہی ایک افواہ تھی جیسے ان عناصر نے سی سی پی اولاہور بی اے ناصر کے تبدیل ہونے کی اڑائی تھی لیکن اس افواہ نے بھی پنجاب پولیس کوجس طرح اکٹھا کر دیااس سے یہ بات غلط ثابت ہو گئی کہ شائدسینئر افسران اور جونیئر رینک کے درمیان کوئی خلا موجود ہے بلکہ اس سے واضح ہوا کہ جو افسران اپنے جونیئرز کے مسائل کو اپنے مسائل سمجھ کر حل کرتے ہیں ان کی عزت کے لئے جونیئر ز جان تک داؤ پر لگا دیتے ہیں اور موجودہ آئی جی پنجاب داد و تحسین کے حقدار ہیں کہ ان کا اپنی فورس کے ساتھ اسی قسم کا تعلق ہے۔جہاں تک آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان کی تبدیلی کی بات ہے تو اس میں دو رائے نہیں کہ ایسی کوئی بات کسی اعلی حلقہ میں نہیں ہوئی کیونکہ اعلی سطح پر افواہوں کی بجائے کارکردگی دیکھی جاتی ہے۔ اگر تبدیلی کی افواہ پولیس تشدد کے واقعات کی وجہ سے اڑائی گئی تو سوال یہ ہے کہ کیا آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے کسی ایک واقعہ میں ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کرنے میں کسی قسم کی لچک کا مظاہرہ کیا؟ کیا صلاح الدین کیس میں ذمہ داران کے خلاف قتل کے مقدمات درج نہیں کئے گئے؟ کیا لاہور تھانہ شمالی چھاؤنی اور گجر پورہ میں پولیس تشدد کے ذمہ داران کے خلاف مقدمات درج نہیں کئے گئے۔ گزشتہ دنوں لڈن کے علاقہ میں خاتون پر تشدد کے واقعہ میں ڈی ایس پی سمیت دیگر ذمہ داران کو حوالات میں بند کر کے مقدمہ نہیں درج کیا گیا؟ یہاں تک کہ سی پی او کے باہر معمر خاتون کے بدکلامی کے مرتکب اہلکار کو بھی اسی وقت گرفتار کر کے حوالات کی سلاخوں کے پیچھے بھیجا گیا۔ کیا آئی جی پنجاب نے ایسی کالی بھیڑوں کا سماجی رتبہ ختم کر کے انہیں ملازمت سے برطرف نہیں کیا؟ اگر ان سب سوالوں کا جواب یہی ہے کہ آئی جی پنجاب نے ایسے افراد کے خلاف فوری اور انتہائی حد تک کارروائی کرتے ہوئے سزائیں دیں اور ان سے پولیس کی وردی پہننے کا حق تک چھین لیا تو پھر آئی جی پنجاب پر کس بات کا اعتراض کیا جائے؟ اگر آئی جی نے اپنی فورس میں موجود ایسی کالی بھیڑوں کو بچانے کی کوشش کی ہو تو یقینا آئی جی پنجاب ذمہ دار ٹھہرتے ہیں لیکن اگر انہوں نے ایسے افراد کو ہی فورس سے نکال دیا ہے تو پھر وہ قابل تعریف ہیں جن کے نزدیک عوام کے حقوق سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ یہ بات طے ہے کہ بے حس قومیں وہ ہیں جو ظلم کو دیکھ کر خاموش رہیں یا اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کریں جبکہ زندہ قومیں یہ اعزاز رکھتی ہیں کہ وہ ظلم پر خاموش نہیں رہتیں بلکہ اسے روکنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہیں۔ یہاں سوال اس معاشرے پر بھی اٹھتا ہے جس نے صلاح الدین کو پولیس کے حوالے کرنے سے پہلے اس پر تشدد کیا تھاآ?پ کوئی بھی ایسا واقعہ اٹھا کر دیکھ لیں جس میں کوئی ملزم پولیس سے پہلے شہریوں کے ہتھے چڑھ گیا ہو، شائد آپ کو ایک بھی ایسا واقعہ نہ ملے جس میں شہریوں نے ملزم پر تشدد نہ کیا ہو۔ تلخ ہی سہی لیکن سچ یہ ہے کہ ہم اسی بے حس معاشرے کا حصہ ہیں۔ دوسری جانب پہلی بار پنجاب پولیس کے کسی سربراہ نے اختیارات سے تجاوز کرنے والوں کے خلاف بھرپور ایکشن لیا ہے اور ان کے جرائم کو محکمہ کی عزت کے نام پر چھپانے کی کوشش نہیں کی تو پھر ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان حقیقی معنوں میں پولیس فورس میں تبدیلی لانے کے لئے کوشاں ہیں۔ ایسے سربراہ کے خلاف منفی پراپیگنڈہ کرنے والے وہی ہیں جن کی چودھراہٹ کمیونٹی پولیس اور تبدیل شدہ تھانہ کلچر سے ختم ہو جائے گی۔ وہ لوگ جو محکمہ پولیس کو اپنے گھر کا ادارہ سمجھے بیٹھے تھے اب بوکھلا چکے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ کسی طرح ایسا پولیس سربراہ تبدیل ہو جائے جو پولیس کا پورا نظام ہی تبدیل کرنے کے لئے دن رات مصروف نظر آ رہا ہے۔ شہریوں پر تشدد کے ذمہ داران کے خلاف مقدمات درج کرواتے ہوئے انہیں جیل بھیجنے والے پہلے آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان کی تبدیلی کے لئے کوئی ایک بھی ٹھوس وجہ موجود نہیں ہے اور نہ ہی اس سلسلہ میں اعلی سطح پر کسی قسم کی کوئی بات ہو رہی ہے اس لئے موجودہ آئی جی کی تبدیلی کے خواب دیکھنے والوں کو چاہئے کہ وہ اپنے اندر تبدیلی لائیں کہیں ایسا نہ ہو کہ اسی زعم میں قانون شکنی کے مرتکب ہو کر خود جیل پہنچ جائیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...