سعودی ولی عہد نے وزیر اعظم عمران خان کو قائل کر کے خصوصی طیارہ پیش کیا

سعودی ولی عہد نے وزیر اعظم عمران خان کو قائل کر کے خصوصی طیارہ پیش کیا

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بالآخر وزیراعظم عمران خان کو قائل کر ہی لیا کہ وہ خصوصی طیارے کے ذریعے نیویارک جائیں اور اس مقصد کے لئے اپنا طیارہ بھی پیش کردیا۔ ویسے تو اپنے ملک میں بھی وزیراعظم کے ایسے اسفار کے لئے خصوصی طیارہ موجود ہے اور اگر اطلاعات غلط نہیں ہیں تو وہ سعودی عرب اسی طیارے ہی میں گئے تھے لیکن آگے کے سفر میں ان کا ارادہ کسی کمرشل فلائٹ پر جانے کا تھا، پچھلی بار بھی جب وہ واشنگٹن گئے تھے تو انہوں نے قطر ائر لائنز کی کمرشل فلائٹ سے سفر کیا تھا اور واپسی پر دوحا میں اس ائر لائنز کے سربراہ نے ان سے خاص طور پر ملاقات کرکے ان کا شکریہ ادا کیا تھا کہ انہوں نے امریکہ کے سفر کے لئے ان کی ائر لائن کا انتخاب کیا۔ ویسے تو اگر دیکھا جائے تو واشنگٹن جانے کے لئے پاکستان سے یہی ایک پرواز دستیاب ہے جو براستہ دوحا امریکی دارالحکومت جاتی ہے، غالباً کوئی دوسری فلائٹ ایسی نہیں جو ایک سٹاپ کے بعد براہ راست واشنگٹن جاتی ہو، سنا ہے بعض دوسری ائر لائنز اس روٹ پر اپنی پروازیں شروع کر رہی ہیں لیکن ابھی تک پروگرام نہیں بنا۔

وزیراعظم چونکہ کفایت شعار ہیں اور ان کی کفایت شعاری کی یہ مہم جوبن پر ہے، اس لئے انہوں نے اسلام آباد سے ریاض تک کے سفر کے دوران  تو اس کفایت شعاری کو وقتی طور پر  طاق نسیاں پر رکھ دیا اور اپنے خصوصی جہاز میں ریاض گئے، لیکن آگے جانے کا ان کا پروگرام یہ تھا کہ وہ ریاض سے نیو یارک کمرشل فلائٹ پر جائیں گے۔ ظاہر ہے یہ بات ایم بی ایس (شہزادہ محمد بن سلمان) کے علم میں ہوگی اس لئے انہوں نے انہیں نہ صرف قائل کیا کہ وہ کمرشل فلائٹ پر سفر کا شوق کسی اور روٹ پر پورا کرلیں۔ ہمارے  دارالحکومت سے ایسا نہ کریں اور خصوصی جہاز سے سفر کریں، اس مقصد کے لئے ولی عہد نے انہیں اپنا طیارہ فراہم کردیا جس پر اب وہ نیو یارک پہنچ چکے ہیں اور 27 ستمبر کو عالمی ادارے میں کشمیر پر دھواں دھار تقریر کا ارادہ رکھتے ہیں۔ خود وزیراعظم یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران جو خطاب کریں گے اس سے دنیا حیران رہ جائے گی۔  یہ تو خیر تقریر سن اور پڑھ کر ہی پتہ چلے گا، لیکن فی الحال ہم اس بات پر حیران ہیں کہ جس طیارے میں وزیراعظم صاحب ریاض گئے تھے وہ وہیں کھڑا ہے یا واپس آ چکاہے، کیونکہ واشنگٹن سے ان کی واپسی تو اب براہ راست اسلام آباد ہوگی۔ کیونکہ واپسی کے سفر میں تو ریاض میں رکنا ان کے شیڈول میں شامل نہیں، ایسے لگتا ہے شہزادے کا خصوصی طیارہ انہیں اسلام آباد  چھوڑ کر واپس جائے گا، اس طیارے کا ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ وزیراعظم کا کفایت شعاری کا ویژن بھی متاثر نہیں ہوا اور انہیں کمرشل طیارے سے بھی سفر نہیں کرنا پڑا۔ ویسے اگر وزیراعظم اپنے ہی طیارے میں ریاض سے امریکہ چلے جاتے تو اس میں بھی کوئی مضائقہ نہ تھا، لیکن ایسی صورت میں شاید شہزادہ محمد بن سلمان کا ممنون احسان نہ ہونا پڑتا۔ ویسے اس سارے معاملے سے ایک خیر کا پہلو یہ برآمد ہوا ہے کہ وزیراعظم عمران خان خصوصی طیارے کی افادیت کے قائل ہوگئے ہیں، بھلے سے یہ طیارہ ان کا اپنا نہیں، سعودی ولی عہد کا ہے لیکن ہے تو خصوصی طیارہ۔

دنیا کے بہت سے وزرائے اعظم اپنی افتاد طبع کے باعث مہم جو ہوتے ہیں اور اپنی اس مہم جوئی کا کبھی نہ کبھی اظہار کرتے رہتے ہیں۔ ناروے کے ایک آنجہانی وزیراعظم اولف پالمے تھے، سینما گھر کا ٹکٹ خریدنے کے لئے قطار میں کھڑے تھے کہ کسی ظالم نے انہیں قتل کردیا۔ جب وہ وزیراعظم تھے پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو ایک بڑے وفد کے ساتھ ناروے کے دورے پر گئے، پاکستانی وفد وقت مقررہ پر ملاقات کے مقام پر پہنچ گیا، لیکن اس وقت انہیں بہت حیرت ہوئی جب ناروے کے وزیراعظم اولف پالمے وہاں موجود نہیں تھے،  کچھ مدت گزری تھی کہ وہ تشریف لے آئے اورآتے ہی معذرت گزار ہوئے کہ ان کی گاڑی ٹریفک میں پھنس گئی تھی اس لئے انہیں یہاں پہنچنے میں تاخیر ہوگئی، یہ سن کر پاکستانی وفد کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے کہ وزیراعظم کی گاڑی بھی ٹریفک میں پھنس سکتی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں وزیراعظم کے لئے ٹریفک نہیں روکی جاتی تھی۔ شاید آج تک بھی یہی صورت حال ہو، سنگا پور میں تو ان سطور کے راقم نے بچشم خود دیکھا ہے کہ وزیراعظم کے لئے ٹریفک صرف ایک منٹ کے لئے رکتی ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ وزیراعظم کی گاڑی جس سڑک پر سے گزر رہی ہوتی ہے۔ دائیں بائیں سے آکر اس سڑک سے ملنے والی سڑکوں پر آنے والی ٹریفک ایک منٹ کے لئے روک دی جاتی ہے، جونہی وزیراعظم کی سواری گزر جاتی ہے اس ٹریفک کو گزرنے کی اجازت دے دی جاتی ہے، پاکستان کے وزیراعظم بھی اگر ایسے امور کی جانب توجہ دیں تو یہ کفایت شعاری کی طرح قابل تعریف کام ہے، ہمارے ہاں وزیراعظم کے لئے ٹریفک کئی کئی گھنٹے روک دی جاتی ہے اگر وہ لاہور آتے ہیں تو آدھا لاہور ٹریفک جام کا منظر پیش کر رہا ہوتا ہے۔ کفایت شعاری کے ساتھ ساتھ ادھر بھی توجہ دی جائے تو مضائقہ نہیں۔

خصوصی طیارہ

مزید : تجزیہ /رائے


loading...