اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے کس کی مرضی درکار ہے؟ چیئرمین سینیٹ نے واضح اعلان کردیا

اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے کس کی مرضی درکار ہے؟ چیئرمین سینیٹ نے واضح اعلان ...
اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے کس کی مرضی درکار ہے؟ چیئرمین سینیٹ نے واضح اعلان کردیا

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان اسرائیل کو کسی صورت تسلیم نہیں کر سکتا ، کشمیر اور فلسطین کے عوام کے ساتھ ہیں،کشمیر ، فلسطین امت مسلمہ کے مسائل ہیں ، ارض حرمین شریفین امت مسلمہ کی وحدت اور اتحاد کا مرکز ہے ، مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں ہونے والے مظالم اور سعودی عرب کی آئیل تنصیبات پر حملے نا قابل قبول ہیں ، پاک سعودی عرب دوستی قابل فخر اور لازوال ہے ، پاکستان اور سعودی عرب کی سلامتی و دفاع ایک ہیں ، سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ تصور ہو گا۔ کشمیر اور فلسطین کے مسئلہ کے حل کیلئے امت مسلمہ کی وحدت اور اتحاد وقت کی ضرورت ہے ، انتہا پسندی اور دہشت گردی نے امت مسلمہ کو شدید نقصان پہنچایا ہے ، مقبوضہ کشمیر سے کرفیو فی الفور ختم کر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کا وادی اردن کو اسرائیل کا حصہ بنانے کا اعلان قابل تشویش اور مذمت ہے۔

یہ بات پاکستان علماءکونسل کے زیر اہتمام وحدت ا±مت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہی ، کانفرنس کی صدارت چیئرمین پاکستان علماءکونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کی ، جبکہ کانفرنس کے مہمان خصوصی صادق سنجرانی چیئرمین سینٹ ، سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی ، فلسطین کے سفیر ، اردن کے سفیر ، بحرین کے سفیر ، جامعہ الازہر کے نمائندے تھے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے کہا کہ عالمی برادری مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے ساتھ مکمل طور پر کھڑی ہو ، مسلم ممالک اور سعودی عرب کا کشمیر پر موقف پاکستان کے موقف کی ترجمانی ہے ، پاکستان فلسطینی عوام کی مرضی کے بغیر کسی بھی صورت اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتا ، مملکت سعودی عرب کی سلامتی ، دفاع اور استحکام ہر مسلمان کو عزیز ہے ، ہم سعودی عرب کو مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہیں۔

سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی نے کہا کہ امت مسلمہ کی وحدت اور اتحاد سے ہی مسلمانوں کے مسائل حل ہوں گے ، مملکت سعودی عرب مسلمانوں کے مسائل کے حل کیلئے ہر وقت کوشاں رہتی ہے ، حجاج کرام اور زائرین کی خدمت ہمارا اعزاز ہے ، سعودی عرب کی قیادت اور عوام پاکستان سے محبت رکھتے ہیں۔

فلسطین کے سفیر احمد ربی نے کہا کہ فلسطینی پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں ، پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کی عوام کی ترجمانی کی ہے ، وحدت امت ہی مسائل کا حل ہے ، پاکستان علماءکونسل کو اس جدوجہد پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

کانفرنس سے پیر نقیب الرحمن ،سردار عتیق احمد، فیصل کریم کنڈی، صاحبزادہ حسان نقیب ، مولانا حامد الحق حقانی ، مولانا محمد حنیف بھٹی ، علامہ سید ضیاءاللہ شاہ بخاری ،علامہ طاہر الحسن، علامہ غلام اکبر ساقی ،قاری جاوید اختر ، علامہ زبیر عابد ، مولانا نعمان حاشر ، مولانا یوسف شاہ ، مولانا محمد اشفاق پتافی ، مولانا اسد اللہ فاروق ، مولانا اسید الرحمن سعید، مولانا سعد اللہ لدھیانوی، مولانا طاہر عقیل اعوان، مولانا ابو بکر صابری، مفتی حفیظ الرحمن ، مولانا نائب خان ، مولانا شہباز احمد ، مولانا افضل شاہ الحسینی ،مولانا گلستان، اردن ، بحرین ، مصر اور دیگر اسلامی ممالک کے سفارتکاروں نے بھی خطاب کیا۔

کانفرنس میں ایک قرارداد کے ذریعے اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کا فوری طور پر سربراہی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا گیا اور مقبوضہ کشمیر ، فلسطین اور سعودی عرب پر ہونے والے آئل تنصیبات پر حملوں کے حوالہ سے متفقہ اور عملی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا۔

ایک اور قرارداد کے ذریعے سعودی عرب کے 89 ویں قومی دن کے موقع پر سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز ، ولی عہد امیر محمد بن سلمان اور سعودی عرب کی عوام کو مبارکباد پیش کی گئی اور سعودی عرب کی اسلام، مسلمانوں اور انسانیت کیلئے خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا ، پاک سعودی عرب تعلقات میں مزید مضبوطی اور استحکام کیلئے ولی عہد امیر محمد بن سلمان ، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیر اعظم عمران خان کے کردار کو سراہا گیا۔

ایک اور قرارداد کے ذریعے فوری طور پر مقبوضہ کشمیر سے کرفیو کا خاتمہ ، انسانی حقوق کی بحالی ، کشمیری قیادت کی رہائی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کا حل نکالنے کا مطالبہ کیا۔

وحدت امت کانفرنس میں سات سے زائد اسلامی ممالک کے سفراء، سفارتی نمائندوں کے کشمیر و فلسطین کی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی اور پاکستان کے موقف کی مکمل تائید کی ، اسلام آباد میں موجود ہ کشمیر کی صورتحال پر یہ سفارتی سطح پر بہتر سمت قدم قرار دیا گیا ہے۔

مزید : قومی


loading...