حکومت مخالف تحریک کے چند پہلو

حکومت مخالف تحریک کے چند پہلو

  

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اے پی سی میں بیٹھے چہروں اور ان کے ذاتی مقاصد سے قوم آگاہ ہے،اپوزیشن کی اداروں پر تنقید اپنی کرپشن سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اے پی سی کے فیصلے سے کسی کو پریشانی نہیں، پہلے ہی بتا دیا تھا یہ سارے اپنے مفادات کی خاطر اکٹھے ہو جائیں گے، مُلک کے تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) نے ایک بار پھر بھارتی ایجنڈے کو فروغ دیا، بیرون مُلک ایک پوری لابی پاک فوج کے خلاف سرگرم عمل ہے، قومی ادارے قابل ِ احترام ہیں اور تمام مسائل کے حل میں ایک پیج پر ہیں،وزیراعظم نے اپنے رفقا سے مشاورت کی اور حزبِ اختلاف کی اے پی سی کا موثر طریقے سے جواب دینے کا فیصلہ کیا گیا، نواز شریف کی تقریر ”مجھے کیوں نکالا“ کا پارٹ ٹو تھی، تقریر کے ذریعے اُن کی اصلیت پوری  قوم کے سامنے آ گئی، نہ پہلے بلیک میل ہوئے نہ اب ہوں گے۔ چار وفاقی وزراء شبلی فراز،شاہ محمود قریشی،اسد عمر اور فواد چودھری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اے پی سی میں فوج، عدلیہ،الیکشن کمیشن نیب سمیت تمام ریاستی اداروں اور انتخابی عمل کو متنازعہ بنا کر ملک اور جمہوریت کی خدمت نہیں کی جا رہی، ایک جمہوری حکومت کے خلاف تمام مفاد پرست اکٹھے ہو گئے ہیں۔ نواز شریف کو باہر جانے دینا ہماری غلطی ہے، نواز شریف جان کو لاحق خطرات پر عدالت کے ذریعے مُلک سے باہر گئے تھے، اب وہ بہتر ہو گئے ہیں تو اُنہیں فوری طور پر واپس آ جانا چاہئے، وزیراعظم عمران خان اپنے دو ٹوک موقف پر قائم ہیں کہ کسی کو این آر او نہیں دینا،عسکری قیادت نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی فوج کا ملک میں کسی بھی سیاسی عمل سے براہِ راست یا بالواسطہ کوئی تعلق نہیں ہے۔

وزیراعظم عمران خان تسلسل کے ساتھ کہتے رہتے ہیں اور اب پھر کہا ہے اس وقت حکومت اور فوجی قیادت ایک صفحے پر ہیں، اور فیصلے اتفاق رائے سے کئے جا رہے ہیں، فوج ملکی سلامتی کا ذمہ دار ادارہ ہے اور ہر سطح پر ملک کو  درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کامیابی کے ساتھ کرتا ہے، بیرونی خطرہ ہو یا اندرونِ ملک دہشت گردی، اس ادارے کے افسر اور جوان ہر وقت اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ان کا مقابلہ کرتے ہیں،خون کے نذرانے پیش کرنے کے لئے ہر وقت آمادہ و تیار رہتے ہیں،اِس لئے اس ادارے کے فرائض کی نوعیت اور نزاکت کے لحاظ سے سلامتی کے امور میں رائے کو اولیت حاصل ہونی چاہئے۔ اگر قومی سلامتی کے امور میں فوجی قیادت کی رائے کو پیش  ِ نظر رکھا جائے تو درست فیصلے کرنے میں آسانی رہتی ہے،اِس لئے پارلیمانی رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی عسکری قیادت کی ملاقات کے دور رس نتائج ہونے چاہئیں، جن قومی امور پر بھی اس موقع پر اظہارِ خیال کیا گیا۔ ظاہر ہے اُن پر اپوزیشن لیڈروں نے بھی اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہو گا اور یوں زیر بحث آنے والے امور پر فوجی قیادت کو سیاسی رہنماؤں کے خیالات سے براہِ راست آگاہی ہوئی ہو گی،ایسی ملاقاتوں میں جب گفت و شنید کا آغاز ہوتا ہے تو طے شدہ امور سے ہٹ کر بھی معاملات پر بات ہو جاتی ہے، یہاں بھی ہوئی ہو گی،اس کی پوری تفصیلات تو نہیں بتائی گئیں، تاہم وفاقی وزراء اور دوسرے شرکائے اجلاس جو اجمالی گفتگو کر رہے ہیں اِس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ فوجی قیادت نے سیاسی امور میں اپنی مداخلت کی واضح طور پر تردید کی، اور پارلیمانی رہنماؤں سے کہا گیا کہ وہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹیں۔

ہماری سیاست میں فوج کے کردار کا تذکرہ کسی نہ کسی انداز میں ہوتا رہتا ہے اور بعض سیاست دانوں کا تو یہ دِل پسند مشغلہ ہے کہ وہ اپنے مخصوص انداز میں فوج کے ساتھ اپنے روابط کا ذکر بڑے فخر سے کرتے ہیں،اب اگر وزیراعظم ہر دوسرے چوتھے روز قوم کو یہ بتانا ضروری سمجھے گا کہ حکومت اور فوج اس وقت ایک صفحے پر ہیں اور کوئی دوسرا سیاست دان یہ بتانے میں کوئی حجاب محسوس نہیں کرے گا کہ وہ پہلے سے جی ایچ کیو کے دروازے پر بیٹھا ہوا ہے،اِس لئے کوئی دوسرا اس گیٹ سے اندر جانے کی کوشش نہ کرے تو پھر ظاہر ہے اس پر مخالفانہ تبصرے بھی ہوں گے،اِس لئے اگر یہ کہا جائے کہ صرف اپوزیشن ہی فوج کے سیاسی کردار پر اظہارِ خیال کرتی ہے، تو یہ غلط ہو گا، لطیف انداز میں حکومت کے تبصرے بھی اسی ذیل میں آتے ہیں،اِس لئے بہتر تو یہ ہے کہ حکومت اور مخالف سیاسی جماعتیں دونوں ہی اپنے اپنے طرزِ کلام پر نظرثانی فرمائیں، اگر حکومت سے وابستہ لوگ موقع بے موقع فوج کے ساتھ اپنے ”روابط“ کا تذکرہ کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے تو پھر مخالفین کو کیسے روکا جائے گا؟ انہیں روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ پہلے وزیراعظم اور اُن کے وزراء اس معاملے میں محتاط رویہ اپنائیں،پھر مخالفین سے ایسی توقع رکھیں۔

آج اگر حزبِ اختلاف کی جماعتیں متحد ہو کر وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کر رہی ہیں تو یہ کوئی ایسا ”گناہ“ نہیں ہے، جو اِس ملک میں پہلی مرتبہ کیا جا رہا ہو،ہماری سیاست میں حکومتوں کے خلاف تحریکوں کا چلن بہت پرانا ہے، فیلڈ مارشل ایوب خان سے لے کر آج تک کون سا حکمران ہے، جس کے خلاف مخالف جماعتوں نے تحریک نہیں چلائی؟ ہر حکمران کو محرومِ اقتدار کرنے کے لئے مخالفین متحد ہو کر یا علیحدہ علیحدہ اپنی اپنی بساط کے مطابق تحریکیں چلاتے رہے ہیں،زیادہ دور نہیں جاتے، عمران خان نے نواز شریف سے استعفا طلب کرنے کے لئے اسلام آباد میں جو دھرنا دیا تھا وہ تو ابھی کل کی بات ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ مخالف جماعتوں نے جو عمران خان کے الفاظ میں چوروں کا ٹولہ ہیں،اگر اُن سے استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے تو کیا غلط کِیا ہے؟ انہوں نے وہی مطالبہ کیا ہے جو ابھی چند برس پہلے تک عمران خان صاحب خود کر رہے تھے،اپوزیشن جماعتوں نے تو ابھی سول نافرمانی کی کوئی بات نہیں کی، نہ کسی نے عوام سے یہ کہا ہے کہ وہ بجلی کے بل جمع نہ کرائیں،نہ عوام کو اِس بات پر اُکسایا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنا پیسہ بینکوں کے ذریعے بھیجنے کی بجائے ہنڈی کے ذریعے بھیجیں۔وزیراعظم عمران خان سے استعفا مانگنے والی جماعتوں نے تو ابھی صرف اپنے پروگرام کا اعلان کیا ہے،حکومت کے نزدیک اس پروگرام کا مطلب ہے کہ این آر او مانگا جا رہا ہے،لیکن فی الحال پروگرام یہ ہے کہ جلسے ہوں گے،احتجاجی مظاہرے اور جلوس نکلیں گے، آخر میں اسلام آباد تک لانگ مارچ ہو گا اور پھر ضرورت پڑی تو دھرنا ہو گا، ہو سکتا ہے ان جلسوں، مظاہروں، لانگ مارچوں اور دھرنوں میں شریک جماعتیں ویسی ہی باتیں کریں جیسی عمران خان اپنے احتجاجی جلسوں میں کرتے رہے ہیں،اِس لئے اب اپوزیشن جماعتوں کو اس سے روکنا مشکل ہو گا، کامیابی اور ناکامی تو الگ بات ہے،احتجاج ہمیشہ نتیجہ خیز بھی نہیں ہوتا،مطالبہ ہمیشہ مانا بھی نہیں جاتا،جیسے نواز شریف نے عمران خان کا استعفے کا مطالبہ نہیں مانا تھا۔اب ظاہر ہے عمران خان اپوزیشن کا یہ مطالبہ کیوں مانیں گے؟ لیکن مطالبہ نہ ماننے کا یہ مطلب تو نہیں کہ حکومت کے خاتمے کے لئے باقی سارے دروازے بند ہو گئے،نواز شریف نے استعفا نہیں دیا، لیکن وہ اپنی حکومت کو نہ بچا سکے، تو کیا اب کوئی ایسی ضمانت ہے کہ اگر عمران خان استعفا نہیں دیں گے تو اُن کی حکومت قائم رہے گی؟ بس اس ایک نکتے پر غور کریں تو ساری گرہیں کھلتی چلی جائیں گی،لیکن حکمرانوں اور اُن کے مخالفوں کی سوچ کے زاویئے دریا کے دو متوازی کنارے ہیں، جو کبھی آپس میں نہیں ملتے۔حکومت اور مخالفین اپنی اپنی سیاست کریں،لیکن دونوں کو چاہئے کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹیں،ایک فریق اگر ایسا کرے گا تو دوسرے کو کیسے روکا جائے گا؟

مزید :

رائے -اداریہ -