آٹے کا بحران؟

آٹے کا بحران؟

  

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے صوبائی محکمہ خوراک کو  ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان سے درآمدی گندم خریدنے کی اجازت دے دی، اور صوبائی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ آئندہ موسم کے لئے گندم کی نئی امدادی قیمت مقرر کی جائے، اِس وقت یہ نرخ1400روپے فی من ہیں، پنجاب حکومت کا یہ فیصلہ صوبے میں آٹے کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے ہے، اور کابینہ نے اطمینان کا اظہار کیا کہ صوبے میں آٹے کی قلت نہیں اور سرکاری نرخوں پر دستیاب ہے۔ وزیراعلیٰ اور صوبائی کابینہ کے یہ فیصلے اپنی جگہ تاہم صارفین کو شکایت ہے کہ بازار میں آٹا  سرکاری نرخوں پر دستیاب نہیں اور صرف بڑے جنرل سٹوروں یا شاپنگ مالز سے ملتا ہے، جہاں سے گراسری کا دوسرا سامان بھی خریدنا ہوتا ہے۔پنجاب حکومت کا دعویٰ تھا کہ اس کے پاس گندم کے ذخائر وافر مقدار میں موجود ہیں اور اسی بنا پر سرکاری گوداموں سے سستے نرخوں پر گندم فلور ملز کو مہیا کی جا رہی ہے کہ آٹا680 روپے(20کلو تھیلا) اور 340 روپے(10کلو تھیلا) فروخت ہو، اس سے یہی یقین ہوتا ہے کہ محکمہ خوراک کے پاس گندم وافر  ہے، تاہم اب درآمدی گندم کی خریداری کے فیصلہ سے بھی یہ پتہ چلتا ہے کہ یہاں بھی ذخائر میں کمی کا اندیشہ ہے۔ یوں اب صوبائی محکمہ خوراک مہنگی گندم خرید کر سستے داموں مل مالکان کو مہیا کرے گا اور سبسڈی صوبائی خزانہ سے دی جائے گی۔صوبائی حکومت کی ان کوششوں کے باوجود بازار میں چکی آٹا74سے75 روپے فی کلو بک رہا ہے کہ چکی مالکان نے بھی مطالبہ کیا کہ ان کو سستے داموں گندم فراہم کی جائے تو وہ آٹا سستا کر دیں گے کہ بازار سے گندم مہنگے داموں ملتی ہے۔ فلور ملز مالکان نے محکمہ خوراک سے سستی(سبسڈی والی) گندم لے کر سرکاری نرخوں پر آٹا مارکیٹ میں بھیجا، تاہم بعض فلور ملز والے چکی آٹا پانچ کلو کی پیکنگ میں بھی بازار میں بیچتے ہیں، اس کی قیمت375 روپے ہے۔ یوں یہ75 روپے فی کلو بنتا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ آٹا وہ بازار سے خریدی گندم سے تیار کرتے ہیں۔صارفین کی شکایت ہے کہ حکومت اپنے تمام تر دعوؤں کے باوجود ان کو آٹا مناسب نرخوں پر مہیا نہیں کر سکی۔ ان کا مطالبہ ہے کہ کھلا دیسی آٹا(چکی آٹا) بھی سستا کیا جائے۔ حکومت کی طرف سے آئندہ موسم کے لئے گندم کی امدادی قیمت پر نظرثانی کے لئے کمیٹی بنانے سے یہی انداز ہوتا ہے کہ ان کو بھی یہ احساس ہے کہ بازار میں گندم مہنگی ہے۔صوبائی حکومت کو بہرحال اپنے دعویٰ کو یقینی بنانا چاہئے کہ بازار میں روٹی کی قیمت بھی بڑھ گئی ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -