یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے

یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے
یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے

  

علامہ اقبالؒ نے اپنی کتاب ”بال جبریل“ میں اپنے زور تخیل سے " طارق کی دعا،اندلس کے میدان  جنگ سے " تخلیق کی۔یہ نظم ان شہیدوں اور غازیوں کے لئے ہے جن کے راز دشمن پر عیاں نہیں ہوتے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق دنیا کی حکمرانی کا ذوق رکھتے ہیں۔اور ان غازیوں کی پیش قدمی کو جنگل،پہاڑ اور سمندر بھی نہیں روک سکتے…… مسلمانوں کی تاریخ عروج و زوال سے رقم ہے، لیکن  فتح و شکست کی اس داستان میں کچھ لوگ اپنی خداداد،دلیرانہ صلاحیتوں کے باعث ہمارے لئے قابل فخر ہیں۔ایسے ہی ایک مجاہد اور غازی لیفٹیننٹ کرنل شجاعت لطیف ہیں،جن کی کتاب " یہ غازی یہ تیرے پُر اسرا ر بندے……شجاعت کی کہانی،مٹھو کی زبانی" ان دنوں  میرے زیر مطالعہ ہے۔کرنل شجاعت نے اپنی عسکری سوانح عمری میں تما م حالات،واقعاتاور مشکلات کا بہت مہارت سے احاطہ کیا ہے۔ انہوں نے سیالکوٹ میں 1965ء کی جنگ کے واقعات(آرمی جوائن کرنے سے پہلے)، کیڈٹ دور اور مشرقی پاکستان کے محاذ پر آنے والے واقعات کو بہت عمدہ طریقے سے بیان کیا ہے۔

مصنف کے مطابق شاعر مشرق علامہ اقبالؒ سے ان کے دادا کی بہت دوستی تھی اور وہ علامہ اقبال سے مشاورت کرتے تھے۔جب کرنل شجاعت 1971ء کی جنگ میں ہندوستان کی قید میں تھے تو ان کے والد اپنے بیٹے کی محبت میں زمین پر سوتے تھے اور اکثر اپنے بیٹے کو یاد کرتے رہتے تھے۔کرنل شجاعت ابھی ہندوستان میں پابند سلاسل تھے کہ ان کے والد انتقال کر گئے۔دیار غیر، قید اور والد کے انتقال کی خبر نے کرنل شجاعت کی زندگی پر گہرے اثرات چھوڑے۔کرنل شجاعت نے اپنی قید کو دل سے تسلیم نہیں کیا تھا اور کیمپ نمبر 44 سے رانچی شفٹنگ کے دوران چلتی ٹرین سے چھلانگ لگا دی،لیکن جہاں وہ گرے تھے، وہاں کے ایک شخص کی رپورٹ پر دوبارہ پولیس نے انہیں پکڑ لیا۔اور کچھ عرصہ کیمپ 98 میں رکھنے کے بعد انہیں کیمپ نمبر 95 میں منتقل کر دیا گیا۔بریگیڈ صدیق سالک (مرحوم) بھی کرنل شجاعت کے ساتھ کیمپ 44 آگرہ میں قید تھے۔انہوں نے چلتی ٹرین سے چھلانگ لگانے والا قصہ اپنی کتاب " ہمہ یاراں دوزخ"میں بیان کیا ہے۔

بریگیڈ صدیق سالک لکھتے ہیں کہ " ہم نے کیمپ میں سنا کہ یکم جولائی 1972ء کو تیز رفتار گاڑی سے چھلانگ لگانے سے کیپٹن شجاعت کو شدید چوٹیں آئیں،جس سے اس کا خون بہنے لگا، لیکن وہ اس سے بے نیاز ہتھکڑی سمیت بھاگتا رہا۔وہ جن راہوں سے گزرا،انہیں خون حریت سے سجاتا گیا، وہ جن ویرانوں سے ہو کر نکلا، وہاں شجاعت کی داستانیں بکھیرتا گیا۔وہ جن بستیوں سے گزرا، طوق و سلاسل کا مذاق اڑاتا گیا، حتیٰ کہ اس کے جسم سے بہنے والے خون نے اس کے قدم تھام لئے اور خون کی باقی بوندوں کا واسطہ دے کر اسے یہ سفر ترک کرنے پر مجبور کیا۔وہ بے ہوش ہو کر گر پڑا  اور جسم کی ناتوانی کے ہاتھوں بے بس ہو کر دوبارہ اسیر ہوا۔ایک طرف اس مرد مجاہد کی شجاعت ملاحظہ ہو اور دوسری طرف گارڈ کی بزدلی۔یہ محافظ شجاعت کا راستہ تو نہ روک سکے، لیکن اس کے ساتھی میجر نصیب اللہ کو نماز کی تیاری کرتے ہوئے عین ریل گاڑی کے اندر شہید کر دیا گیا اور بہانہ یہ بنایا کہ دونوں نے بھاگنے کی کوشش کی تھی۔ایک شہید ہو گیا، دوسرا بچ نکلا“۔

کرنل شجاعت نے میجر قادر کی پلاننگ کے تحت اپنے ساتھیوں کی اجتماعی کوشش سے کیمپ 95 میں 169 فٹ سرنگ بھی کھودی،لیکن فرار کے لئے کامیاب نہ ہو سکے، جبکہ دوسری جنگ عظیم میں سرنگ بنانے والے قیدیوں کی یاد میں …… The Great Escape…… نامی فلم بھی بنی تھی۔کرنل شجاعت لطیف پاکستان ملٹری اکیڈمی میں بطور پلاٹون کمانڈر بھی تعینات رہے، اس دوران جولائی 1977ء میں ایک تفریحی دورے کے دوران ان کی بس کو حادثہ پیش آیا  اور بس قلابازیاں کھاتی ہوئی تقریباً 1500 فٹ گہری کھائی میں جا گری۔جس کے نتیجے میں سولہ کیڈٹس موقع پر ہی شہید ہو گئے اور کئی زخمی ہوئے، ان میں میجر شجاعت بھی شامل تھے وہ بیس دن تک بے ہوش رہے۔ان کی ریڑھ کی ہڈی میں شدید چوٹ آئی اور دھڑ سے نچلا حصہ مکمل طور پر مفلوج ہو گیا۔ اس موقع پر ان کے آہنی عزم اور پارسا ماں کی دعاؤں نے انہیں موت کے فرشتے سے چھین لیا۔انہوں نے بعد میں کینسر کے خلاف بھی بہت طویل جنگ لڑی۔کرنل شجاعت کی اپنے جونیئرز سے شفقت اور محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب وہ ہلنے جلنے کے قابل بھی نہیں تھے، تب بھی ہر وقت یہ سوچتے رہتے کہ ان کے ماتحت ساتھیوں کا کیا حال ہوگا۔وہ ایک مثالی افسر تھے۔

سرمیلا بوس نے 1971ء پاک و ہند جنگ کے نتیجے میں بنگلہ دیش میں رونما ہونے والے واقعات اپنی کتاب……Dead Reckoning …… میں تفصیلی ریسرچ کے بعد لکھے ہیں۔یہ کتاب 2011ء میں منظر عام پر آئی۔ سرمیلا بوس کی ریسرچ کا بنیادی مواد ان لوگوں کے انٹریوز پر مبنی ہے جن کا بالواسطہ یا بلا واسطہ جنگ سے کوئی تعلق تھا۔ان میں کیپٹن شجاعت بھی شامل تھے۔مصنفہ نے بھی کیپٹن شجاعت کے آگرہ سے رانچی جاتے ہوئے ٹرین  سے فرار ہونے کی تفصیل لکھی ہے اور انڈین گارڈ کے ہاتھوں نہتے میجر نصیب اللہ کے قتل کی متعلقہ احکام سے تحقیقات کا مطالبہ کیاہے۔ کتاب کے مطابق 90 ہزار قیدیوں کی تعداد مبالغہ آرائی ہے۔ 1971ء کی جنگ کے آخر میں پاکستانی فوجیوں کی تعداد پچیس ہزار کے لگ بھگ تھی اور یہ تمام وہ فوجی تھے جو ایک سال تک کی جنگ لڑ چکے تھے۔ اس کے علاوہ پینسٹھ ہزار وہ پاکستانی تھے جن کا تعلق تعلیم،بینکاری، زراعت، ریلوے اور دیگر سول اداروں سے تھا، جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔جنگ کے آخر میں ان سب کو قیدی بنا لیا گیا۔ کتاب"یہ غازی یہ تیرے پُر اسرا ر بندے" میں اس طرح کے بیشمار واقعات درج ہیں اور 1971ء کے سا نحہ کی درست عکاسی کی گئی ہے،جو ہماری نئی نسل کے خون میں جرات و بہادری اور ولولہ پیدا کرتی ہے۔ایوان علم و فن کے زیر اہتمام شائع ہونے والی یہ کتاب ہر محب وطن شخص بالخصوص افواج پاکستان کے ہر سپاہی اور افسر کو پڑھنی چاہیے۔

مزید :

رائے -کالم -