یوم خواندگی:تعلیم کیلئے شہباز شریف کے اقدامات

یوم خواندگی:تعلیم کیلئے شہباز شریف کے اقدامات
یوم خواندگی:تعلیم کیلئے شہباز شریف کے اقدامات

  

قوموں کی ترقی کا خواب تعلیم کے بغیر ممکن نہیں جن ممالک نے تعلیم پر توجہ دی ہے بجٹ میں تعلیم کے لئے خطیر رقم مختص کی اُن ممالک نے ترقی کی۔بنگلہ دیشن،سری لنکا اور نیپال بھی شرح خواندگی میں پاکستان سے آگے نکل چکے ہیں جو نہ صرف حکمرانوں کے لئے، بلکہ پوری قوم کے لئے لمحہ ئ  فکریہ ہے قیام پاکستان کے 73 سال گزرنے کے باوجود ملک میں یکساں نظام تعلیم رائج نہیں کیاجاسکا، ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے مطابق قومی زبان اُردو کو تمام سرکاری اداروں میں سرکاری زبان کے طور پر استعمال کیا جائے،لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ترقی یافتہ ممالک نے اپنی مادری زبان میں ترقی کی ہے ہمیں اُن ممالک کی طرح اپنے قومی زبان کو رائج کرنا چاہئے تھا، لیکن اس کے برعکس انگریزی زبان کو ترجیح دی گئی جس کی وجہ سے پاکستان میں ناخواندگی کی شرح بڑھ گئی موجودہ حکومت نے ہائیر ایجوکیشن کے بجٹ میں اضافہ کرنے کی بجائے 15 ارب روپے کی کٹوتی کر دی ہے،جس کی وجہ سے یونیورسٹیاں مالی بحران کاشکار ہوچکی ہیں ملازمین اور دیگر اخراجات کے لئے جامعات قرضے لے رہی ہیں فیسوں میں بے تحاشہ اضافہ کیا گیا حکمرانوں کی ناقص معاشی پالسیوں کی وجہ سے ملک کی طرح اب جامعات بھی قرضوں پر چل رہی ہیں۔ 

پاکستان مسلم لیگ(ن)حکومت نے تعلیم کے بجٹ میں اربوں روپے اضافہ کیا تھا تعلیم کے فروغ کے لئے مثالی اقدامات اُٹھائے تھے اُس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کے احکامات پر بھٹہ مزدوروں کے تقریباً96ہزار بچوں کو سکولوں میں داخل کرا کے اُن کے لئے ماہانہ ایک ہزار روپے وظیفہ مقرر کیا گیا تھا اور خود بحیثیت وزیراعلیٰ مختلف بھٹوں کا دورہ کرتے تھے اسی طرح شہباز شریف نے وزراتِ اعلیٰ کے دوران ناخواندگی کے خاتمے کے لئے انقلابی اقدامات اُٹھا کر طلباء کے لئے لیپ ٹاپ سکیم شروع کی تھی، 4 لاکھ 25 ہزار لیپ ٹاپ میرٹ کی بنیاد پر طلباء میں تقسیم کئے جنوبی پنجاب کے غریب طلباء کے لئے وظائف مقرر کئے جس کے تحت چھ لاکھ بچوں کو تعلیمی وظائف دیئے گئے اسی طرح اُجالا پروگرام کے تحت طلباء میں 2لاکھ 10 ہزار سولر لیمپس میرٹ پر تقسیم کیے تھے ان سے 18 گھنٹے بالا تعطل بجلی کی ترسیل ممکن تھی۔ پنجاب کے 8 پسماندہ اضلاع کے لئے ”دانش ماڈل سکول“ قائم کئے گئے، جس میں غریب اور نادار بچے مفت تعلیم حاصل کررہے ہیں دانش ماڈل سکول میں پورے ملک کے طلباء کے لئے کوٹہ مقرر کیا تھا۔ پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ 1 ارب روپے سے قائم کیا تھا، تقریبا2 لاکھ طلباء کو وظائف دئیے گئے، جبکہ دس سال میں اس فنڈ کا حجم 20 ارب تک پہنچ گیا۔4500 سکولوں میں طلبا ء کی تعداد  دُوگنا کی، 80 ہزار اساتذہ کو میرٹ کے بنیاد پر بھرتی کیا، جن میں 50فیصد خواتین اساتذہ تھیں۔

تعلیمی اصلاحات کے تحت دُنیا بھر کی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی ڈگری کے حصول کے لئے ”شہباز شریف میرٹ سکالر شپ“ سکیم شروع کی تھی، ذہین طلباء جو غربت کی وجہ سے امریکہ ویورپ کی یونیورسٹیوں میں ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل نہیں کرسکتے تھے۔ خادم پنجاب سکالر شپ کے تحت بیرونی ممالک کے اعلیٰ یونیورسٹیوں میں ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کررہے ہیں اور میرٹ سکالر شپ سکیم میں پورے ملک کے طلباء کو  شامل کیا گیا تھا اور میرٹ کی بنیادپر طلباء کو بیرونی ممالک بھیجوا یاگیا تھا ہر سال میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں پوزیشن ہولڈر طلباء کو لاہور بلا کر اُن کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی اور اُن میں نقد انعامات تقسیم کیے جاتے تھے اور پوزیشن حاصل کرنے والے تعلیمی اداروں کے اساتذہ کو بھی کڑوروں روپے کے نقد انعامات دیئے جاتے تھے اور یورپین ممالک کے مطالعاتی دورے میں کرائے جاتے تھے۔شہباز شریف کے ان اقدامات کو ملک اور بیرونی ملک سمیت عالمی ادارے بھی سراہتے ہیں۔ شہبا ز شریف کے تعلیم کے لئے انقلابی اقدامات سے پنجاب کے علاوہ پورے ملک کے طلباء مستفید ہو رہے ہیں اور ملک کے طلباء آج بھی پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ لیپ ٹا پ سکیم کو اچھا الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت نے نہ صرف لیپ ٹاپ سکیم، اُجالا پروگرام سمیت میرٹ سکالر شپ سکیم کو بند کیا ہے۔طلباء مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت کے مثالی اقدامات سے محروم کر دئیے گئے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -