تدبیر کوئی بھی ستمِ ناگہاں کی ہے؟

تدبیر کوئی بھی ستمِ ناگہاں کی ہے؟
تدبیر کوئی بھی ستمِ ناگہاں کی ہے؟

  

ایک شیخ صاحب کا گفٹ سنٹر ہے جہاں چند ایک بار بیٹھنے سے کئی رازآشکار ہوئے یعنی شیخ صاحب خواتین کو پرفیوم۔ رومال اور دیگر اشیاء فروخت کرکے بعد میں ان سے ہی بطور تحفہ وصول بھی کر لیا کرتے ہمارے بیٹھے ایک رو ز ایک دوشیزہ جلوہ افروز ہوئی اور شیخ صاحب سے  مختلف اشیاء خریدنا شروع کر دیں شیخ صاحب نے بل بنا کر خاتون کو دیا خاتون نے شیخ صا حب کو پیسے ادا کئے اور اسی وقت ان خریدی ہوئی چیزوں سے کچھ شیخ صاحب کو گفٹ کر دیں جنہیں شیخ صاحب نے خندہ پیشانی سے قبول بھی کر لیا شیخ صاحب کا یہ بھی کمال ہے کہ ٹوٹی پھوٹی چیزیں بھی اصل قیمت سے زائد فروخت کر دیتے ایک بار کسی خاتون نے ان سے کوئی شو پیس دکھانے کو کہا تو شیخ صاحب نے ایک ڈیکوریشن پیس جو ایک کونے سے ٹوٹا ہوا تھا دیتے کہا دیکھئے یہ ایک طرف سے ٹوٹا ہوا ہے اس کو ڈھانپ بھی دیا ہے آپ نے تو اسے کمرے میں ہی رکھنا ہے آپ اسے ٹوٹے ہوئے کونے سے چھپا کر رکھیے گا کسی کو کیا معلوم ہوگا اور اس کی قیمت تو زیادہ ہے لیکن آپ کو رعائتی قیمت پر دے سکتا ہوں خاتون شیخ صاحب کی باتوں سے قائل ہوئی اور اس نے ان سے وہ ڈیکوریشن پیس خرید لیا ہم پر یہ عقدہ بعد میں کھلا کہ وہ ڈیکوریشن پیس شیخ صاحب اصل قیمت سے کچھ زائد پر ہی فروخت کر چکے ہیں 

قارئین کرام!مجھے اس تمہید کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ لاہور سیالکوٹ موٹر وے پرسفر کرنے والی بد نصیب خاتون کے ساتھ اس کے تین بچوں کے سامنے ہونے والے گینگ ریپ اور ڈکیتی کی لرزہ خیز واردات کے بعدسی سی پی او لاہور عمر شیخ نے خاتون کو ہی قصور وار ٹھہرا دیا کہ انہوں نے موٹر وے پر سفر ہی کیوں کیا اور ساتھ دیگر کوتاہیوں کی نشاندہی بھی کر دی یعنی ثابت ہوا کہ شیخ صاحب دکاندار ہوں کہ پولیس کے اعلی افسر وہ زیادہ دوسروں پر ہی قناعت کرتے ہیں جیسا کہ سانحہ موٹر وے کے بارے شیخ عمر فرماچکے کہ خاتون کو خود ہی احتیاط کرنی چاہئے تھی یہاں مجھے وہ ملنگ بابا بھی یا د آگئے کہ جن سے پوچھا گیا بابا جی بھنگ پئیں گے؟ تو انہوں نے فرمایا تو اور ہم ملنگ کس لئے بنے ہیں تو جناب عمر شیخ صاحب!اگر احتیاط خاتون نے ہی کرنی تھی تو آپ پولیس افسر کیوں بنے ہیں؟ 

اس واقعہ سے دنیا میں ہمارے معاشرے کی کیا تصویر پیش ہوئی اس سے کسی کو کچھ غرض نہیں سانحہ ساہیوال کے بعد جب اپوزیشن حکومت پر سوال اٹھاتی تو حکومت اس کے جواب میں ماڈل ٹاؤن سانحہ کا ذکر کرتی اور اب لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر حوا کی بیٹی کے ساتھ اس کے معصوم بچوں کے سامنے جو دلدوز اور جاں سوز واقعہ پیش آیا ہے اب بھی حکمران جماعت سے کوئی اس بابت سوال اٹھا رہا ہے تو حکمران پچھلی حکومتوں کے دور میں ہونے والے واقعات گنوارہے ہیں حالانکہ اس شرمناک۔ دردناک اور المناک سانحہ سے نہ صرف پوری قوم تلملا کررہ گئی ہے بلکہ دنیا بھر میں ہماری سبکی ہوئی ہے ستم تویہ بھی ہے کہ خاتون کی جانب سے موٹروے پولیس کو کی گئی فون کال پر ایکشن ہی نہیں لیا گیااس واقعہ کی ہولناکی اور خوفناکی ایسی کم بھی نہیں اس نے قوم کی بیٹیوں کو گہری تشویش اور فکر میں مبتلا کر دیا ہے متاثرہ خاندان نے اپنے تحفظ کی ہر ممکن کوشش کی گاڑی کو اندر سے مقفل کر لیا لیکن وحشیوں نے کس درندگی سے گاڑی کے شیشے توڑ کر خاتون اور اس کے معصوم بچوں کو گھسیٹا اور جنگل میں لے جا کر یہ وحشیانہ کھیل کھیلا س متاثرہ خاندان کے لئے تو یہ نظام اور حکمران ہی ذمہ دار ہیں وہ اور اس کے بچے زندگی بھر کے لئے احساس کے جس اندھے کنویں میں گر چکے ہیں شائد وہاں سے وہ کبھی نہ نکل سکیں دہشت کے جو نقش انکے ذہنوں پر نقش کردئیے گئے شائد وہ کبھی نہ مٹ سکیں  

 قارئین مکرم! اس سانحہ کے رونما ہونے سے پہلے صوبہ میں جو سین چل رہا تھا ذرا ملاحظہ فرمائیے شعیب دستگیر کو 26 نومبر 2019 کو آئی جی پنجاب تعینات کیا گیا تھا جناب عمران خان وزیر اعظم پاکستان نے انکے قصیدے بھی پڑھے پھر کیا ہوا؟ کہ شعیب دستگیر بطور آئی جی پنجاب 10 ماہ بھی مکمل نہ کرسکے۔ مشاورت کے بغیر سی سی پی او لاہور کی تعیناتی پر انسپکٹر جنرل آف پنجاب پولیس شعیب دستگیر صوبائی حکومت سے خفا تھے ور احتجاجاً تین روز سے دفتر نہیں گئے تھے۔ سننے میں آیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے شعیب دستگیر تو طلب کر کے سی سی پی او لاہور کی تعیناتی سے متعلق ان کے تحفظات سنے تھے، اس کے باوصف معاملات جوں کے توں رہے بلکہ مبینہ طور پر سردار عثمان بزدا ر صاحب نے سی سی پی او لاہور کو تبدیل کرنے سے انکار کردیا تھا جس پر آئی جی پنجاب کو ہی ہزیمت اٹھانا پڑی تھی اور بالآخر آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کو ہی تبدیل کر دیا گیا نئے تعینات ہونے والے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کا کہنا تھا کہ میں پروفیشل آفیسر ہوں اسی لیے مجھے سی سی پی او لاہور لگایا گیا ہے۔ لاہور کو ٹھیک کرنے آیا ہوں اگر لاہور ٹھیک ہوا تو اس کا تاثر پنجاب بھر میں جائیگا اور اس کے فوری بعد ہی سی سی پی او کی کارکردگی سامنے آگئی کہ لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر خاتون اور اس کے بچوں کے ساتھ شرما دینے والا تڑپا دینے والا واقعہ سامنے آگیا جس نے حکمرانوں کے تمام دعووں کی قلعی ہی کھول دی، قارئین کرام! مذکورہ بالا سطور میں شیخ صاحبان کے جن رویوں کا ذکر کیا گیا ہے اگرچہ درست ہے لیکن بعض دریا دل شیخ بھی ہوتے ہیں لیکن سی سی پی او لاہور عمر شیخ صاحب کے متاثرہ خاتون کے بیان سے فرشتہ صفات شیوخ صاحبان تو بہت نادم ہوئے ہوں گے۔

مزید :

رائے -کالم -