نیب نے بجلی چوری میں ملوث لیسکو ملازمین کی تفصیلات طلب کر لیں 

    نیب نے بجلی چوری میں ملوث لیسکو ملازمین کی تفصیلات طلب کر لیں 

  

لاہور(خبر نگار)قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور میں لیسکو میں مبینہ بدعنوانی اور بجلی چوری کی شکایات کے علاوہ انتظامی امور میں بہتری لانے کیلئے بریفنگ کا انعقاد کیا گیا۔بریفنگ میں نیب لاہور کے سینئر افسران نے شرکت کی جبکہ چیف ایگزیکٹو  لیسکو مجاہد پرویز چٹھہ، جنرل مینجر آپریشنز پرویز اقبال اور ڈائریکٹر کسٹمر سروسز بشیر احمد نے مختلف امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں نیب لاہور کے اے اینڈ پی ونگ کیجانب سے لاہور کی تمام نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے بجلی بلوں کے ٹیرف کی مکمل تفصیلات طلب کی گئی ہیں جبکہ لیسکو حکام کو ڈی فیکٹِو  میڑز کے ذریعے کرپشن و بجلی چوری کے حوالے  سے شکایات پر لیسکو کیجانب سے اٹھائے گئے اقدامات سے بھی نیب کوآگاہ کرنے کا کہا گیا ہے۔ نیب لاہور کیجانب سے گذشتہ5سالوں کے دوران بجلی چوری میں معاونت کے مرتکب لیسکو ملازمین کیخلاف لیسکو کیجانب سے اٹھائے گئے اقدامات کی مکمل تفصیلات بھی طلب کر لی گئی ہیں۔

 اسکے علاوہ  لاہور میں سمارٹ میٹرز کی تنصیب کے منصوبہ کی مکمل تفصیلات نیب لاہور کو جلد از جلد فراہم کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں علاوہ ازیں نیب لاہورکی جانب سے اس امر کی وضاحت بھی مانگی گئی ہے کہ جن علاقہ جات میں بجلی چوری کی شکایات ہیں وہاں سمارٹ میٹرز کیوں نہ لگائے جا سکے؟۔اس موقع پر چیف ایگزیکٹو لیسکو مجاہد پرویز چٹھہ کیجانب سے لیسکو کے موجودہ عملہ میں کمی کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ لیسکو میں 2015سے تاحال نئی بھرتیاں نہ کی جاسکی ہیں تاہم رواں سال محدود بھرتیوں کی اجازت  فراہم کی گئی ہے جبکہ لیسکو میں کم و بیش9ہزار سے زائد اسامیاں خالی ہیں۔انہوں نے کہا کہ لیسکو کو فی الوقت4.12فیصد لائن لاسز کا سامنا ہے اگرچہ لیسکو کی مجموعی کارکردگی کراچی کی نجی الیکٹرک کمپنی سے بہت بہتر ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تین سال قبل لیسکو کو سالانہ 8  ارب روپے نقصان کا سامنا تھا تاہم فی الوقت لیسکو ایک منافع بخش ادارہ بن چکا ہے جس کی366  ارب کی سالانہ  کولیکشن ہے۔انہوں نے اس امر کی وضاحت کی کہ موجودہ بلنگ کے نظام کی کوتاہی کے سبب کسانوں کیجانب سے فیول ایڈ جسٹمنٹ کی شکایات معمول بن چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیپرا کیجانب سے ڈیڈ ڈیفالٹ(Dead Default) ریکوری کیلئے ٹھوس احکامات کے منتظر ہیں جبکہ سمارٹ میٹرز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر 2023تک لاہور کے  دو مخصوص علاقہ جات سمارٹ میٹرز پر منتقل ہو جائینگے۔چیئر مین نیب کی ہدایات کے مطابق نیب اے اینڈ پی ونگ حکومتی اداروں میں مبینہ کرپشن کے سد باب کیلئے کوشاں ہے اس حوالہ سے بریفنگز اور تجاویز کے ذریعے حکومتی منصوبہ جات میں شفافیت کو فروغ دینا نیب کی ترجیحات میں شامل ہے تاکہ عوام کا پیسہ حقیقی معنوں میں عوام پر ہی استعمال ہو سکے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -