وباء کی وجہ سے ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار رہے، غزن جمال 

وباء کی وجہ سے ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار رہے، غزن جمال 

  

ہنگو(ڈسٹرکٹ رپورٹر)ضم شدہ قبائلی اضلاع ٹیکس فری زون میں ایکسائز کے دفاتر صرف منشیات پر توجہ دیں گے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی محمود خان قبائلی اضلاع کی ترقی کو خصوصی توجہ دے رہے ہیں ضلع اورکزئی میں پانی بجلی صحت سڑکوں کی تعمیر کیڈٹ کالج ٹیکنیکل کالج کی تعمیر سمیت بڑے بڑے ترقیاتی منصوبے منظور ہوئے ہیں ایک سال میں صوبائی انتخابی کے بعد قبائلی اضلاع اور خصوصا ضلع اورکزئی میں جتنے منصوبے صوبائی حکومت نے منظور کئے ہیں اس سے پہلے کسی حکومت نے نہیں کی ہیں کرونا وباء کی وجہ سے ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار ہو گئے تھے مگر اب ان منصوبوں پر کام شروع ہو چکاہے ان خیالات کا اظہار ممبر صوبائی اسمبلی و زیر اعلی خیبر پختونخواہ کے صوبائی مشیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سید غزن جمال نے پریس کانفرنس کے دوران اپنے ایک سالہ کارکردگی کے حوالے سے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا سید غزن جمال نے بتایاکہ عوام کا حق بنتاہے کہ وہ اپنے منتخب کردہ ممبر سے کاکردگی کے حوالے سے پوچھے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں ایک سال پہلے پہلی بار صوبائی اسمبلی کے اتنخابات ہو چکے ہیں وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی خیبر پختونخواہ محمود خان قبائلی اضلاع کی ترقی کو خصوصی توجہ دے رہے ہیں گزشتہ ایک سال کے دورا ن صوبائی حکومت نے جو قبائلی ضلع اورکزئی میں ترقیاتی منصوبے منظور کئے ہیں وہ اس سے پہلے کسی بھی حکومت نے نہیں کی ہیں ضلع اورکزئی میں نو نئی سڑکیں منظور ہوئی ہیں جو ایک ارب ستر کروڑ روپے کی لاگت سے چاروں تحصیلوں میں تعمیر کئے جائیں گے غلجو سے ڈبوری تک 80کروڑ وپے کے لاگت سے تعمیر کیاجارہاہے غلجو سے سامہ ماموزئی تک ایک ارب روپے سے سڑک بننے گا علاقہ سپائے کو 15کلو میٹر روڈ پاک ارمی کے نگرانی میں بنے گا شاہو ٹو غلجو منی خیل درہ روڈ پر مرمت کا کام شروع ہو چکاہے زیڑہ سے ڈبوری تک روڈ کی فنڈ دو ارب سے بڑھاکر تین ارب 5کروڑ کردیاگیاہے جس میں 5انچ اسفالٹ اور روڈ کے دوونوں اطراف نالے شامل ہے 18کروڑ روپے کے لاگت سے توئی مشتی پل منظور ہو چکاہے کاشہ کازوے پر کام جاری ہے تعلیم کے سیکٹر میں ضلع اورکزئی میں کیڈٹ کالج اور خادیزئی ٹیکنیکل کالج کی تعمیر منظور ہو چکے ہیں طلباء کو دو ارب روپے کے وظیفے دئے جائیں گے جبکہ سکولوں کی تعمیر و مرمت کیلئے متعلقہ سکولوں کی کمیٹیوں کے زریعے 50کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے صحت کے سیکٹر میں غلجو ہسپتال کو مشتی ہسپتال کے طرز پر غیر سرکاری تنظیم مرف کو دیاہے جس میں تمام تر سہولیات میسر ہونگے اور ڈسٹرکٹ ہسپتال مشتی میلہ میں اچھی کاکردگی کی وجہ سے غیر سرکاری تنظیم مرف کے ساتھ دوبارہ معاہدہ کیاگیاہے کلایا کریز ڈبوری کے ہسپتالوں کی دوبارہ تعمیر جلد از جلد شروع ہو گی سامہ بی ایچ یو بحال کر دی گئی ہیں ضلع اورکزئی میں تین ماہ تک فری میڈیکل کیمپ لگیں گے بجلی کے حوالے سے ضلع اورکزئی میں دو بجلی گریڈ اسٹیشن کلایا اور غلجو گریڈ اسٹیشنز اور 14نئی فیڈر ز پر کام شروع ہے جبکہ بیگو تنگی بجلی لائن پر بھی کام جاری ہے ضلع اورکزئی میں ایک تیسرے گریڈ اسٹیشن کی بھی جلد منظور ی ہو گی سید غزن جمال نے کہاکہ 20مساجد کو سولرائز کیاگیاہے ڈبوری مشتی میلہ انجانی بازاروں کو ماڈل بازاروں کی طرز پر بنانے کی منظوری ہو چکی ہیں جس میں تمام تر سہولیات میسر ہونگے ضلع اورکزئی کے تمام گاوں کے اندر غیر سرکاری تنظیموں کی مدد سے نالیاں اور گلیاں پکی کی جائیگی انہوں نے کہاکہ واٹر سپلائی کے 4بڑے سکیموں منظور ہو چکی ہیں جبکہ 6کروڑ روپے سے پرانی سیکیموں کی مرمت کی جائیگی 19کروڑ روپے کی لاگت سے 18نئی سولر ٹیوب ویل منظور ہو چکے ہیں کلایا میں سپورٹس کمپلس اور غلجو میں سٹیڈیم بنایاجائیگا انہوں نے کہاکہ تعلیم لوکل گورنمنٹ ایکسائز نادرا صحت میں ضلع اورکزئی کی تعلیم یافتہ قبائلی نوجوانوں کیلئے سینکڑوں اسامیاں پیدا کی گئی جس میں نوجوان سرکاری بھرتی ہونگے اس میں عوام کی مدد اور ساتھ ضروری ہیں بدقسمتی سے عوام حکومت کی پیسے کو اپنا پیسہ نہیں مانتے ہیں جس کی وجہ سے اکثر ترقیاتی منصوبے کرپشن اور سستے کے شکار ہو جاتے ہیں متعلقہ علاقے کے لوگوں کو چاہئے کہ وہ جاری ترقیاتی منصوبوں پر کھڑی نظررکھیں اور ان پر چیک رکھیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -