سانحہ بلدیہ فیکٹری، رحمان بھولا، زبیر چریا کو 263بار سزائے موت، 4ملزموں کو عمر قید، رؤف صدیقی، ادیب، حسن قادری عبد الستار عدم ثبوت کی بنیاد پربری، ماسٹر مائنڈ حماد صدیقی، علی حسن اشتہاری قرار، دائمی وارنٹ جاری 

      سانحہ بلدیہ فیکٹری، رحمان بھولا، زبیر چریا کو 263بار سزائے موت، 4ملزموں ...

  

کراچی (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 8 سال بعد سانحہ بلدیہ فیکٹری کا فیصلہ سنا دیا۔عدالت نے بھتا نہ دینے پربلدیہ فیکٹری میں آگ لگا کر ڈھائی سو سے زائد افراد کو قتل کرنے کے اس مقدمے میں رحمان بھولا اور زبیر چریا کو 263 مرتبہ سزائے موت دینے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں 4  ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا جن میں ایم کیو ایم رہنما رؤف صدیقی، ادیب خانم، علی حسن  اور عبدالستار  شامل ہیں۔عدالت نے 4 ملزمان فضل احمد، علی محمد، ارشد محمود اور فیکٹری منیجر شاہ رخ کو بھی سہولت کاری کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔عدالت نے واردات کے ماسٹر مائنڈ حماد صدیقی اور علی حسن قادری کو اشتہاری قرار دیا ہے اور ان کے دائمی وارنٹ جاری کردیے گئے ہیں۔انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد 2 ستمبر کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔عدالت کے تحریری حکمنامے مین کہا گیا ہے کہرحمان بھولا اور زبیر چریا کو 263 افراد کے قتل 263مرتبہ سزائے موت دی جائے دونوں مجرموں کو فیکٹری کے اندر ملازمین کو قتل کے جرم 263 مرتبہ عمر قید کی سزا سنا دی۔  60 لوگوں کو زخمی کرنے کے جرم میں 10،10 سال قید اور 1, 1 لاکھ جرمانہ بھی عائدکیا گیاعدالت نے263 جاں بحق افراد کے ورثا کو 2، 2 لاکھ روپے دینے کا حکم دیا۔  مجرموں کو بھتا خوری کے الزم میں 10، 10 سال قید اور 1،1لاکھ روپے جرمانہ کیا گیاعدالت نے کہاکہ روف صدیقی، حسن قادری، ڈاکٹر عبدالستار اور ادیب خانم کے خلاف استغاثہ جرم ثابت نہیں کر سکے عدالت نے  مفرور ملزم حماد صدیقی اور علی حسن کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کردییعدالت نے چار مجرموں شارخ،علی محمد،فضل محمد، ارشد محمود کوسہولت فراہم کرنے الزام میں عمر قیدسزا سنائی جنہوں نے مجرموں کو فیکٹری میں داخل ہونے میں مدد کی فیکٹری منیجر شاہ رْخ، علی احمد، فضل محمد اور ارشد محمود کو سہولت کاری کے الزام میں عمر قید کی سزا  سنائی گئی ہے،  ان چاروں کا جرم یہ ہے کہ انہوں نے رحمان بھولا اور زبیر چریا کیلئے فیکٹری کے گیٹ کھلوائے اور آتش گیر کیمیکل فیکٹری کے اندر لانے کی راہ ہموار کی۔ایم کیو ایم کے سابق صوبائی وزیر روف صدیقی، حسن قادری، ڈاکٹر عبدالستار اور ادیب خانم کو عدم شواہد کی بنا پر بری کردیا گیا۔ان پر سیاسی اثر ورسوخ استعمال کرنے اور لواحقین کی امداد کے نام پر فیکٹری مالکان سے پانچ کروڑ روپے وصول کرنے کا الزام تھا۔عدالتی فیصلے میں قرار دیا گیا کہ ملزمان سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو دیت کی مد میں 27 لاکھ 77 ہزار 353 روپے فی کس کے حساب سے ادا کریں۔سزائے موت پانے والازبیر چریا واردات کے بعد سعودی عرب فرار ہوگیا تھا اور اسے کراچی واپس آنے پر رینجرز نے گرفتار کیا تھا  جبکہ رحمان بھولا کو دسمبر 2016 میں انٹرپول کی مدد سے اْس وقت پکڑا گیا جب وہ بینکاک سے جنوبی افریقا فرار ہونے کی کوشش کررہا تھا۔۔خیال رہے 11 ستمبر 2012 کو کراچی کی بلدیہ فیکٹری کو کیمیکل ڈال کر آگ لگا دی گئی، جس میں ڈھائی سو سے زائد مزدور زندہ جل گئے، 50 سے زائد افراد جھلسنے سے زخمی ہوئے۔ سائٹ پولیس نے 24 گھنٹے بعد مقدمہ درج کیا، فیکٹری مالکان شاہد بھائلہ اور ارشد بھائلہ نے سندھ ہائیکورٹ لاڑکانہ سے حفاظتی ضمانت حاصل کرلی۔بعد میں ایڈیشنل ڈسرکٹ اینڈ سیشن جج ویسٹ عبداللہ چنہ نے فیکٹری مالکان کی ضمانت مسترد کر دی، پولیس نے مقدمے کا چالان پیش کیا تو گواہوں کی تعداد 15 سو تھی، لگتا تھا کہ پولیس مقدمہ کا فیصلہ نہیں چاہتی۔2013 میں سندھ ہائی کورٹ کے سابق جج زاہد قربان علوی کی سربراہی میں بننے والے جوڈیشنل کمیشن نے آگ کی وجہ شارٹ سرکٹ اور متعلقہ اداروں کی غفلت کو قرا دیا۔ کمیشن کی رپورٹ کے بعد حکومتی سطح پر ہلچل ہوئی اور مقدمے میں تبدیلیاں آنی شروع ہوگئیں۔پولیس نے دوسرا چالان پیش کیا تو مقدمے میں قتل کی دفعہ 302 خارج کرنے کے ساتھ مقدمے کے گواہوں کی تعداد آدھی کر دی گئی، 2014 میں مقدمہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نوشابہ قاضی کی عدالت میں منتقل کر دیا گیا۔ فیکٹری مالکان ضمانت کے بعد عدالتی اجازت سے بیرون ملک چلے گئے۔سال 2015 شروع ہوا تو صوبائی حکومت نے ڈی آئی جی سلطان خواجہ کی سربراہی میں نو رکنی جے آئی ٹی بنا دی، اسی دوران سندھ رینجرز کی ایک رپورٹ نے مقدمہ میں طوفان برپا کر دیا۔6 فروری 2015 کو رینجرز رپورٹ میں بتایا گیا کہ ناجائز اسلحہ کیس کے ملزم رضوان قریشی نے انکشاف کیا کہ بلدیہ فیکٹری میں آگ لگی نہیں بلکہ لگائی گئی تھی، آگ لگانے والا کوئی اور نہیں بلکہ ایم کیوایم تھی۔ مقدمے کے ایک اور چالان میں ملزمان حماد صدیقی، رحمان بھولا، زبیر عرف چریا کا اضافہ کر دیا گیا۔2016 میں دہشت گردی کی دفعات کے ساتھ مقدمہ انسداد دہشت گردی عدالت منتقل کر دیا گیا۔ حماد صدیقی، رحمان بھولا کے ریڈ وارنٹ جاری ہوئے، ملزم زبیر چریا سعودیہ، رحمن بھولا تھائی لینڈ میں انٹر پول کی مدد سے گرفتار ہوئے، دسمبر 2016 میں پاکستان لایا گیا۔رحمان بھولا نے عدالت کے سامنے بیان میں کہا کہ 20 کروڑ روپے بھتہ نہ ملنے پر اس نے زبیر چریا کے ذریعے آگ لگوائی، کارروائی حماد صدیقی اور پارٹی قیادت کی ایماء پر کی گئی، ملزم نے یہ بھی کہا معاملہ دبانے کے لئے حماد صدیقی، رؤف صدیقی نے مالکان سے رقم وصول کی۔پولیس نے ایک اور چالان میں رؤف صدیقی کو سہولت کار ملزم ظاہر کیا۔ جے آئی ٹی رپورٹ منظرعام پر آئی تو مقد مے کا ایک اور چالان پیش ہوا، اس میں پولیس نے رؤف صدیقی کو بے گناہ قرار دے دیا لیکن عدالت نے رپورٹ مسترد کر دی جس پر پولیس نے ایک اور چالان پیش کر کے رؤف صدیقی کو ملزم بنا دیا۔رحمن بھولا اور زبیر چریا نے عدالت کے سامنے قیادت کے ایماء پر آگ لگانے کا اعترا ف کیا لیکن جنوری 2019 میں اپنے بیان سے مکر گئے، جبکہ خوف سے کئی وکلائنے مقدمے کی پیروری چھوڑی دی، عدالتیں تبدیل ہوتی رہیں، گواہ منحرف ہوتے رہے لیکن رینجرز کے سپیشل پبلک پراسیکوٹر ساجد محبوب شیخ مقدمے کی پیروی کرتے رہے۔استغاثہ نے سات سو اڑسٹھ گواہوں کی فہرست عدالت میں جمع کرائی تھی۔ چارسو گواہوں کے بیانات ریکارڈ کئے، تین سو چونسٹھ گواہوں کے نام نکال دیئے گئے۔ مقدمہ میں تاخیر کی وجہ مرکزی ملزم حماد صدیقی کی عدم گرفتاری، جے آئی ٹی رپورٹ پر عمل درآمد نہ ہونے اور ملزموں کے تاخیری حربے رہے۔ المناک سانحے کے مقدمے نے 8 برسوں میں بڑے نشیب وفراز اور رکاوٹوں کو عبور کیا ہے۔دوسری طرف ترجمان ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ رؤف صدیقی کی بریت سے ثابت ہوتا ہے کہ کیس سے ایم کیو ایم کا تعلق نہیں تھا۔ایم کیو ایم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سانحہ بلدیہ کے لواحقین سے ہمدردی ہے، متاثرین کو آٹھ برس تک فیصلے کا انتظار کرنا پڑا۔ترجمان ایم کیو ایم پاکستان نے کہا کہ امید ہے اعلیٰ عدالتیں بلدیہ فیکٹری کیس کے لواحقین کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں گی، کسی سماج دشمن اور قانون شکن عناصر کی سرپرستی کی پالیسی نہ پہلے تھی نہ ہو گی۔بلدیہ فیکٹری کیس کے تفتیشی افسر ایس ایس پی ساجد سدوزئی کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہماری کوشش تھی کہ سانحہ بلدیہ کے مظلوموں کو انصاف ملے، اور نظام پر لوگوں کا اعتماد بحال ہو۔ساجد سدوزئی نے کہا کہ خوشی ہے کیس کا فیصلہ انصاف پر مبنی تھا، ہماری کوشش تھی کہ ہر پہلو پر بہتر تحقیقات کریں، تمام کارروائی میں پراسیکیوشن اور مختلف ادارے شامل تھے، کیس میں تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سپورٹ حاصل رہی۔ایس ایس پی ساجد سدوزئی کا کہنا تھا کہ فیکٹری مالکان کو ملزم نامزد نہ کرنا جے آئی ٹی کا فیصلہ تھا، پولیس انفرادی طور پر فیصلہ نہیں کر سکتی تھی، جے آئی ٹی میں فیکٹری مالکان کو متاثرہ فریق قرار دیا گیا۔جے ا?ئی ٹی میں شامل افراد کو کیس کی چارج شیٹ میں شامل نہ کرنے سے متعلق سوال پر ایس ایس پی ساجد سدوزئی کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی اور لیگل قانونی طریقے کار میں فرق ہوتا ہے، کوشش کی کہ اصل ملزمان کو نامزد کرکے سزا دلوائی جائے۔

سانحہ بلدیہ ٹاؤن

مزید :

صفحہ اول -