کراچی، گلشن اقبال ہیڈمحرر کی سرپر ستی میں مافیا زکی جنت بن گیا 

  کراچی، گلشن اقبال ہیڈمحرر کی سرپر ستی میں مافیا زکی جنت بن گیا 

  

کراچی (رپورٹ/ کرائم ڈیسک) ضلع شرقی کے اہم ترین تھانہ گلشن اقبال کی حدود میں آرگنائزڈ کرائم سے منسلک جرائم پیشہ عناصر اور مافیا گروپوں کو ہیڈ محرر کی سرپرستی مل گئی۔کراچی پولیس کے ذمہ دار ذرائع کے مطابق تھانہ گلشن اقبال کا علاقہ اس وقت منظم مافیا گروپوں کی جنت بنا ہوا ہے۔تھانہ گلشن اقبال میں ہیڈ محرر ندیم گجر کی تعیناتی کے بعد سٹہ،منشیات، کال گرل اور آئس مافیا کوہفتہ وار اور ماہانہ بنیادوں پر بھاری بھتہ کی فراہمی کے عوض کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔اطلاعات کے مطابق ہیڈ محرر ندیم گجر تھانہ پی آئی بی اور تھانہ جمشید کوارٹر سمیت بعض دیگر تھانوں میں بھی ہیڈ محرر تعینات رہ چکا ہے اور یہ بات مانیٹر کی گئی ہے کہ جن جن تھانوں میں ہیڈ محرر ندیم گجر  کی تعیناتی ہوتی ہے، اس دوران وہاں آرگنائزڈ کرائم کی شرح میں اضافہ ہوجاتا ہے جبکہ وہاں جرائم پیشہ عناصر اور مافیا گروپوں کو بڑی حد تک تقویت مل جاتی ہے، پی آئی بی پولیس ذرائع کے مطابق تھانہ پی آئی بی میں تعیناتی کے دوران ہیڈ محرر ندیم گجر  تھانہ میں ڈیوٹی کے بجائے زیادہ وقت ایک مافیا گروپ کے ٹھکانے پر بسر کیا کرتا تھا اور وہاں سے ہی تھانہ کے معاملات چلائے جاتے تھے۔  پولیس ذرائع کے مطابق قابل توجہ پہلو یہ ہے کہ ایس ایچ او اور ہیڈ محرر کی تعیناتی کیلئے جو امتحان دیا جاتا ہے،ہیڈ محرر ندیم گجر  اس میں بھی فیل ہوچکا ہے،تاہم پولیس قوانین اور میرٹ کو نظرانداز کرتے ہوئے اے ایس آئی ندیم گجر کو مختلف تھانوں میں ہیڈ محرر  تعینات کیا جاتا رہا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق تھانہ گلشن اقبال کے ہیڈ محرر ندیم گجر کے جرائم پیشہ عناصر اور مافیا گروپوں سے گہرے روابط ہیں جبکہ آئس مافیا کی خصوصی ہدایت اور بھاری مالی معاونت  پر اس نے اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے کافی تگ ودو کے بعد خود کو تھانہ گلشن اقبال کا ہیڈ محرر لگوانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ پولیس ذرائع نے اس بات کی تصدیق بھی کی ہے کہ افسران بالا اور اعلی پولیس حکام کو ہیڈ محرر ندیم گجر کی غیر قانونی سرگرمیوں اور بعض شہریوں بالخصوص خواتین کو ہراساں کرنے کے حوالے سے متعدد شکایات موصول بھی موصول ہوچکی ہیں تاہم وائٹ کالر کرائم میں ملوث بعض بااثر شخصیات کی سرپرستی اور مداخلت کے سبب اعلی پولیس حکام ہیڈ محرر ندیم گجر کے خلاف قانونی کارروائی سے گریز کررہے ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -