منی لانڈرنگ کیس، شہباز شریف کی عبوری ضمانت میں 24ستمبر تک توسیع 

    منی لانڈرنگ کیس، شہباز شریف کی عبوری ضمانت میں 24ستمبر تک توسیع 

  

 لاہور(نامہ نگار)لاہورہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس سرداراحمد نعیم اور مسٹر جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل ڈویژن بنچ نے مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف کی اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس میں عبوری ضمانت میں دوروز کی مزیدتوسیع کرتے ہوئے سماعت 24ستمبر تک ملتوی کردی،  گزشتہ روز عدالت کی جانب سے فوری نوعیت کے مقدمات کی سماعت کے بعد میاں شہباز شریف کی عبوری ضمانت کے علاوہ تمام کیسز ملتوی کر دیئے گئے،کیس کی سماعت شروع ہوئی تو قومی اسمبلی میں قائد احزب اختلاف میاں شہباز شریف عدالت میں پیش ہوئے،میاں شہباز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے موقف اختیار کیا کہ کل بنیادی ڈھانچہ پیش کیا تھا، پہلے تین کیسز کی موجودگی میں شہباز شریف کے خلاف چوتھا کیس شروع کیا گیا، نیب نے بدنیتی کی بنیاد پر آمدن سے زائد اثاثوں کی انکوائری کو روک رکھا تھا، نیب نے سوچ رکھا تھا کہ شہباز شریف جب حکومت کو کچھ کہیں گے، اے پی سی میں شرکت کریں گے تو ان کے خلاف یہ کیس کھولا جائے گا، میاں شہبا زشریف کے وکیل امجد پرویز نے موقف اختیار کیا کہ اس کیس میں نیب کی بدنیتی تلاش کرنا کوئی مشکل امر نہیں ہے، آیا شہباز شریف کے خلاف انکوائریز کے آغاز کرنا قانون کے مطابق تھا یا نہیں، میاں شہباز شریف کو بطور وزیراعلی نیب میں طلب کیا گیا، 15 اکتوبر 2018ء میں جب شہباز شریف صاف پانی کمپنی کیس پیش ہوئے تو انہیں آشیانہ اقبال کیس میں گرفتار کر لیا گیا، میاں شہباز شریف کو لاہور ہائیکورٹ نے نہ صرف آشیانہ اقبال بلکہ رمضان شوگر ملز کیس میں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا، محب وطن پاکستانی کی درخواست میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا، آئین کا آرٹیکل 10 (اے)بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے اور شہباز شریف کو ایف ایم یو کی رپورٹ تک فراہم نہیں کی گئی، ریفرنس میں بھی ایف ایم یو کی رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا، اگر ٹرائل میں کسی دستاویز کو ٹرائل میں شامل نہیں کیا جا رہا تو کیسے اس بنیاد پر کسی کیخلاف کارروائی کی جا سکتی ہے، فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی رپورٹ ماہانہ بنیاد پر سٹیٹ بینک کو بھجوائی جاتی ہے، کسی بھی بینک نے مشکوک ترسیلات کی شکایت نہیں کی، کیس میں کسی بینک آفیسر کو ملزم بھی نہیں بنایا گیا، منی لانڈرنگ اور مشکوک ترسیلات میں فرق ہے، جس پر نیب کے پراسیکیوٹر سید فیصل رضابخاری نے کہا کہ یہ دلائل حمزہ شہباز کے کیس میں بھی دیئے گئے تھے اور عدالت نے اس موقف کو تسلیم نہیں کیا تھا، امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ نیب کے کسی بھی کیس میں رائے حاصل کرنا یا بنانا چیئرمین نیب کی پہلی ذمہ داری ہے، سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق چیئرمین نیب پابند ہیں کہ عدالتی ذہن کا استعمال کر کے انکوائری کی منظوری دیں، نیب آرڈرینینس کے تحت چیئرمین نیب کوئی بھی حکم جاری کریں گے تو وہ جوڈیشل رائے لینے کے پابند ہیں، چیئرمین نیب کی حیثیت ایک ایس ایچ او سے زیادہ نہیں ہے،، امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ قانون سازوں نے چیئرمین نیب کو لامحدود اختیارات نہیں دیئے، محب وطن پاکستانی کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ 2000ء کے بعد سلمان شہباز اور حمزہ شہباز پاکستان میں موجود رہے، محب وطن پاکستانی کی درخواست میں درخواست گزار کا کوئی نام پتہ نہیں لکھا گیا، کسی کے اثاثوں میں اضافہ ہونا پاکستان میں کہیں بھی کوئی جرم نہیں ہے، کسی قانون میں لکھا ہوا کہ اثاثے بڑھنے کا مطلب دھوکہ دہی سے رقم حاصل کی گئی ہے،،امجد پرویز ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ نامعلوم شکایت پر انکوائری کی منظوری دینا واضح طور پر قانون کی خلاف ورزی ہے، جہاں کوئی بھی حکم قانونی تقاضوں کو نظر انداز کر کے دیا جائے گا وہ بدنیتی کی بنیاد پر جاری کیا گیا تصور ہو گا، نیب نے محب وطن پاکستانی کی شکایت اور ایف ایم یو کی رپورٹ پر انکوائری شروع کی ہے، جب آمدنی سے زائد اثاثوں کے کی انکوائری کی منظوری دی گئی تب شہباز شریف نیب کی حراست میں تھے، کیا ضرورت تھی اس محب وطن پاکستانی سے درخواست لینے کی، سٹیٹ بینک کی رپورٹ کو آسمانی صحیفے کے طور پر لیا گیا اور کیا وجہ تھی کہ اس رپورٹ کو ریفرنس کا حصہ نہیں بنایا گیا، نیب از خود کسی بھی اثاثوں کے معاملے میں مداخلت نہیں کر سکتا تھا اسی وجہ سے شہباز شریف کیخلاف محب وطن پاکستانی سے درخواست دلوائی گئی،، دو ماہ قبل وفاقی وزرا پریس کانفرنسز میں انہی کاپیوں کو لہراتے نظر آئے ہیں، عدالت میں شہزاد اکبر کی پریس کانفرنس کا حوالہ دینے پرنیب کے پراسیکیوٹر نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہر صفحہ عدالت میں پڑھیں گے تو یہ کیس تو 5 دن بھی ختم نہیں ہو گا،آپ کیس سے متعلق بات کریں، پریس کانفرنسز کو شامل کریں گے تو دلائل مکمل بھی نہیں ہوں گے، فاضل بنچ نے میاں شہباز شریف کے وکیل کو شہزا اکبر کی پریس کانفرنس کی ٹرانسکرپٹ پڑھنے کی اجازت دے دی،دوران سماعت میاں شہباز شریف نے عدالت سے بولنے کا اجازت طلب کرتے ہوئے کہا کہ جب مجھے موقع دیں گے میں ایسے ثبوت پیش کروں گا، میں نے ایسے فیصلے کئے جس نے میرے بڑے بھائی اور میرے بچوں کے کاروبار کو اربوں کا نقصان پہنچایا، جسٹس سردار احمد نعیم نے امجد پرویز ایڈووکیٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم شہزاد اکبر والی پریس کانفرنس کے ٹرانسکرپٹ کو دیکھ لیں گے، آپ بدنیتی والے دلائل پر آئیں، جس پر امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ ڈی جی نیب لاہور نے نجی ٹی وی پر بیٹھ کر میاں شہباز شریف سے متعلق گفتگو کی، میاں شہباز شریف کے خلاف متعدد انکوائریز کو چند ماہ کے دوران شروع کیا گیاہے، احتساب عدالت نے رمضان شوگر ملز کیس میں جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر قرار دیا کہ میاں شہباز شریف نیب کے پاس تمام کیسز میں گرفتار تصور ہوں گے،،  جسٹس سردار احمد نعیم نے کہا کہ آپ کو پھر جمعرات کو دلائل مکمل کرنا ہوں گے، جمرات کو صبح 10بجے کیس کی سماعت شروع ہو گی، فاضل بنچ نے مذکورہ بالا ریمارکس کے ساتھ میاں شہباز شریف کی عبوری ضمانت میں مزید2روز کی توسیع کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 24 ستمبر تک ملتوی کر دی،میاں شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر عدالت عالیہ میں سخت سیکیورٹی انتظامات کئے گئے تھے،اس موقع پرمسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ 

 شہباز شریف

مزید :

صفحہ اول -