مالی حالات پر پاکستانی صارفین شدیدمایوسی کا شکار ہیں 

مالی حالات پر پاکستانی صارفین شدیدمایوسی کا شکار ہیں 

  

کراچی (اکنامک رپورٹر)ڈن اینڈ بریڈاسٹریٹ پاکستان اور گیلپ پاکستان نے مشترکہ طور پر  پاکستان کے صارفین کے اعتمادکے اعشاریوں پر مبنی(کنزیومرکانفیڈینس انڈیکسCCI) اپنی ابتدائی رپورٹ جاری کردی ہے۔سی سی آئی رپورٹ مجموعی معاشی صورتِ حال پر صارفین کے اعتماد اوران کے ذاتی مالی حالات کو مدِ نظر رکھ کر تیار کی گئی ہے۔ سی سی آئی انڈیکس گھریلو مالی صورتِ حال، ملکی معاشی حالات، بے روزگاری اور گھریلو بچت جیسے چار کلیدی پیرامیٹرز کا احاطہ کرتا ہے۔سروے میں صارفین کے اعتماد کے اعشاریوں کی رینج صفر سے 200پوائنٹس تک مقرر کی گئی تھی جبکہ 100پوائنٹس کو غیر جانبدارقرار دیا گیا تھا۔سروے میں 100پوائنٹس سے کم اسکور مایوسی کی نشاندہی کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگست میں کئے جانے والے صارفین کے اعتماد کا اعشاریہ 79.1پوائنٹس تھا جبکہ فروری میں یہ اعشاریہ 79پوائنٹس تھاجو مجموع طور پر پاکستانی صارفین کے اعتمادمیں کمی اور مایوسی کو ظاہر کررہے ہیں۔کووڈ 19کے اثرات کی وجہ سے اگست میں کئے جانے والے سروے میں موجودہ صورتِ حال کے بارے میں صارفین کے احساسات اور بھی زیادہ منفی ہیں۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اگست 2020میں کئے جانے والے سروے کے نتائج فروری میں کئے جانے والے سروے نتائج کے69.1پوائنٹس کے مقابلے میں 12فیصدمزیدکمی کے ساتھ 60.7پوائنٹس رہے۔انڈیکس میں گذشتہ چھ ماہ (اور آئندہ چھ میں ہونے والی متوقع تبدیلیوں کے بارے میں ملک بھر کے صارفین کی رائے کی عکاسی کی گئی ہے۔موجودہ انڈیکس میں بلوچستان اور پنجاب میں بالترتیب7اور14فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے جبکہ خیبر پختونخواہ کے صارفین میں 33فیصد کی بدترین گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے۔سند ھ میں صارفین کے اعتماد کا انڈیکس 60فیصد تھا جو انتہائی مایوسی کا اظہارکرتا ہے تاہم فروری کے سروے کے مقابلے میں موجودہ سروے میں صارفین کے اعتماد میں 10فیصد اضافہ ہوا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کروناکی وباء سے پہلے سندھ کے صارفین کا اعتماد بہت زیادہ مایوس کن تھااور اب صورتِ حال میں معمولی بہتری ہوئی ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -