اسلامی جمعیت طلبہ کی طرف سے جامعات میں چند شعبہ جات کھولنا قبول نہیں 

  اسلامی جمعیت طلبہ کی طرف سے جامعات میں چند شعبہ جات کھولنا قبول نہیں 

  

پشاور (سٹی رپورٹر) ناظم اسلامی جمعیت طلبہ یونیورسٹی کیمپس پشاور شفیق الرحمن نے کہا ہے کہ کورونا وباء کے کیسزمیں کمی کے باوجود خیبر پختونخوا ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور صوبے کی جامعات کی انتظامیہ کی جانب سے صرف چند شعبہ جات کھولنے،ہاسٹلز بند رکھنے،آن لائن کلاسز جاری اور طلبہ سے فیس جمع کرانے کا فیصلہ طلبہ کو کسی بھی صورت قبول نہیں۔صوبائی حکومت کی تعلیم کش پالیسوں کی وجہ سے تعلیم کا شعبہ پہلے سے تباہ حال ہے اب جامعات کو کھولنے کے حوالے سے مبہم پالیسیاں اسے مزید تباہی کی طرف دھکیل رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ پشاور پیوٹا ہال سے پشاور پریس کلب تک احتجاج ریلی سے خطاب میں کیا۔اس موقع پر کیمپس جمعیت کے جنرل سیکرٹری سلمان بن احسان،عماد نظامی،جنید شفیع بھی موجود تھے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ناظم کیمپس شفیق الرحمن نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر صوبے کے تمام جامعات کے کلاسز اور ہاسٹلز کھول کر کلاسز کا اجراء کیا جائے۔جامعات میں جاری تمام آن لائن کلاسز کو بند کیا جائے اور گذشتہ چھ مہینوں کی ہاسٹلز،لائبریری،ٹورز،میس اور دیگر مدوں میں وصول کردہ فیس کو ری فنڈ کیا جائے یا اسے اگلے سمسٹر میں ایڈجسٹ کیا جائے۔انھوں نے خبردار کیا کہ تین روز کے اندر یونیورسٹی کے تمام کلاسز اور ہاسٹلز نہ کھولنے کی صورت میں اسلامی جمعیت طلبہ صوبے کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں احتجاج کریگی اور صوبے کے تمام یونیورسٹیوں اور کالجز کو دفاتر سمیت بند کیا جائے گا۔ شفیق الرحمن نے مزید کہا کہ حکومت تعلیم کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کررہی ہے اور حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گیارہ سو ارب روپے کے وفاقی کورونا ریلیف پیکج میں تعلیم کے شعبہ کے لئے ایک روپیہ بھی شامل نہیں۔صوبے کے جامعات کی اکثریت مالی اور انتظامی بحران کا شکار ہے اور اس وقت صوبے کے 14جامعات مستقل وائس چانسلرز سے محروم ہیں۔انھوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت جامعات کے لئے ایک بیل آوٹ پیکج کا اعلان کریں اور تمام جامعات میں وائس چانسلرز اور دیگر آسامیوں پر مستقل تعیناتیوں کو عمل میں لائیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -