مینارٹی رائٹس فورم کا چرچ دھماکہ کے متاثرین کو چیکس دینے کا مطالبہ

  مینارٹی رائٹس فورم کا چرچ دھماکہ کے متاثرین کو چیکس دینے کا مطالبہ

  

پشاور (سٹی رپورٹر) ایمپلی منیٹیشن مینارٹی رائٹس فورم نے مطالبہ کیا ہے کہ چرچ بم دھماکہ کے متاثرین کیلئے سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کے مطابق فوری طور پر بل صوبائی گورنمنٹ پاس کروا ئے اور متاثرین کی فلاح او بہبود کا کام شروع کریں بصورت دیگر خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف عدالتوں سے رجوع کرینگے پشاور پریس کلب میں فورم کے چیئرمین سئمیول  پیارا،بشپ ارنسٹ جیکب،کوآردنیٹر ائی ایم ار ایف اگسٹن جیکب اور دھماکے کے متاثرین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 22.09.2013کو پشاور چرچ میں ہونوالے دھماکے سے سو لوگ شہید ہو گئے تھے جبکہ دو سوں سے زیادہ زخمی ہوئے تھے جسکے بعد اس وقت کے وزیر اعظم نوازا شریف نے شہید و زخمیوں کیلئے اینڈولمنٹ فنڈ قائم کرنے کیلئے  10کروڑ کا اعلان کیا اور دس کروڑ روپے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے بھی اس فنڈ میں دینے کا اعلان کیا لیکن بد قسمتی سے وہ فنڈ قائم نہ ہو سکاانہوں نے کہا کہ سابقہ چیف جسٹس نے اس پر نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کی اور کے پی حکومت نے ہر دفعہ تال مٹول سے کام لیا اور تاخیری حربے استعمال کرنے لگے تاہم وفاقی حکومت نے دس کروڑ روپے 2015 میں خیبر پختونخوا حکومت کو فنڈ قائم کرنے کیلئے دے دئے مگر خیبر پختونخوا حکومت نے پیسے پی ڈٰ ایم اے کو متقل کیے جہاں چار سال تک وہاں پڑے رہے اور متعدد بار حکام سے ملاقاتیں ہوئی لیکن فنڈ قائم نہ ہوسکا جسکی وجہ سے کئی بچے علاج نہ ہونے کے باعث انتقال کر گئے اور کئی بچے تعلیم سے محروم ہوگئے انہوں نے کہا کہ ہم نے دوبارہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں جانے کا فیصلہ کیا اور ایک درخواست سابقہ چیف جسٹس پاکستان میاں نثار ثاقیب کو پیش کی جس پر انہوں نے نوٹس لیتے ہوئے خیبر پختونخوا حکومت سے رپورٹ طلب کی جس پر خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری نے سمری چیف منسٹری کو بھیج دی اور پی ڈٰ ایم اے سے پیسے محکمہ اوقاف کو بھجوا دئے اور ایک طویل ڈڈرافٹ کیا تاکہ ایکٹ بن سکے اور فنڈ قائم ہو سکے اور متاثرین کی فلاح و بہبود کیلئے کام شروع کیا جا سکیں لیکن بد قسمتی سے اس بل پر کوئی کام نہ ہوسکا اور یہ بل سپریم کورٹ میں جمع کروایا  جبکہ خیبر پختونخوا حکومت تا حال متاثرین کو مدد فراہم نہ کر سکی جسکی وجہ سے متاثرین دھماکہ سخت مایوسی کا شکار ہے انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کے مطابق  فوری طور پر بل صوبائی حکومت پاس کروائے بصورت دیگر عدالتوں  سے رجوع کرینگے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -