ناموس صحابہ‘ اہلبیت مارچ کیلئے ضابطہ اخلاق فائنل‘ صرف قومی پرچم لانے کی اجازت 

ناموس صحابہ‘ اہلبیت مارچ کیلئے ضابطہ اخلاق فائنل‘ صرف قومی پرچم لانے کی ...

  

ملتان (سٹی رپورٹر)  24ستمبر ناموس رسالت و عظمت صحابہ و اہل بیت مارچ مقدس شخصیات کی ناموس کے تحفظ کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔ کسی کو ہرگز یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ صحابہ کرام یا اہل بیت عظام کے تقدس کو پامال کر کے مسلمانوں کے جذبات سے کھیلے۔ توہین کے واقعات تشدد اور ملک میں انارکی کو جنم دیتے ہیں، بیس کروڑ مسلمانوں کے (بقیہ نمبر3صفحہ 10پر)

مطالبات کے لیے عوامی عدالت میں آرہے ہیں۔ لاکھوں عوام حضرات صحابہ کرام و اہل بیت عظام سے محبت کے اظہار کے لیے مارچ کا بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں۔ ناموس صحابہ و اہل بیت مار چ کے لیے ضابطہ اخلاق جاری کر دیا ہے۔ ضابطہ اخلاق کے مطابق قومی پرچم کے علاوہ کوئی بھی پرچم لانے کی اجاز ت نہیں ہوگی۔ نعرہ اسٹیج سے ہی لگے گا۔ کسی غیر قانونی اور منفی سرگرمی کی ہرگز اجازت نہ ہوگی۔ باہمی اتحاد و اعتماد کے منافی کوئی عمل نہ کیا جائے۔ گاڑیاں اور موٹر سائیکل انتظامیہ کی جانب سے مقرر کردہ جگہوں پر پارک کی جائیں۔ میڈیا کے لیے بنائی گئی پریس گیلری میں جانے کی اجازت نہ ہو گی۔ علماء و مشائخ کے لیے خصوصی نشست گاہیں بنائی جائیں گی۔ جملہ مکاتب فکر کے اکابر خطاب کریں گے۔ سیکورٹی اداروں سے بھر پور تعاون کیا جائے۔ ملتان کے تاجر مہمانوں اور مارچ کے شرکاء کا اکرام کریں، تاجروں کا جذبہ قابل تحسین ہے۔ ان خیالات کا اظہار اہل سنت اتحاد کے سرپرست مولانا محمد حنیف جالندھری، کنوینئر علامہ فاروق احمد سعیدیؔ، ڈپٹی کنوینئر علامہ خالد محمود ندیم اور رابطہ سیکرٹری مولانا زبیر احمد صدیقیؔ نے اپنے مشترکہ بیان میں کیا۔ مولانا محمد حنیف جالندھری نے کہا کہ مارچ پر امن اور قانون کے دائرے میں ہوگا۔مارچ میں ایک ملین لوگوں کی شرکت کی متوقع ہے۔ علامہ فاروق خان سعیدیؔ نے کہا پنجاب بھر سے قافلے شریک ہوں گے۔ کسی بھی جگہ پر پُر امن قافلوں کے راستوں میں رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ علامہ خالد محمود ندیم نے کہا مارچ مقدس مقاصد اور مقدس شخصیات کے لیے انعقاد پذیر ہے۔ اس مبارک اجتماع کی مثال نہیں ملنی۔ مولانا زبیر احمد صدیقیؔ نے کہا ناموس صحابہ و اہل بیت مارچ وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔اہل سنت کے اتحاد کو ملک بھر میں پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ جملہ مکاتب فکر کے قائدین ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر یکجہتی و اتحاد کا مظاہرہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسی قسم کی بدنظمی اور بدامنی برداشت نہیں کی جائے گی۔ شرکاء، تلاوت قرآن کریم اور درودد شریف کا ورد جاری رکھیں۔ پوری قوم مارچ کی کامیابی کے لیے دعائیں کرے۔ ادھر اتحاد اہلسنت پاکستان ملتان کا سربراہی اجلاس منعقد ہوا اجلاس کی صدارت سرپرست اعلی قاری محمد حنیف جالندھری، علامہ محمد فاروق خان سعیدی،محمد ایوب مغل،میاں محمد آصف اخوانی،خالد محمود ندیم اور دیگر نے شرکت کی.اس موقع پر متعلقہ کمیٹیوں نے اپنی اب تک کی کارکردگی پیش کی۔جس پر قائدین نیاطمینان کا اظہار کیا قائدین اتحاد اہلسنت نے اس موقع پر کہا کہ ہم تمام صحابہ و اہل بیت کی عزت اور ناموس کے پہرہ دار ہیں کسی کو بھی اس ملک میں انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دیں قاری محمد حنیف جالندھری نے کہا کہ پاکستان کا امن ہماری اولین ترجیح ہے ملک کے امن و امان کو چند عناصر فرقہ وارانہ جنگ میں دھکیل کر تباہ کرنا چاہتے ہیں جس کی قطعا اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس موقع پر علامہ محمد فاروق خان سعیدی، محمد ایوب مغل اور علامہ خالد محمود ندیم نے کہا کہ شہر ملتان کے علماء و مشائخ بڑی تعداد میں 24 ستمبر کو گھنٹہ گھر پہنچیں گے جہاں وہ عشق مصطفی اور عظمت صحابہ و اہل بیت سے محبت کا اظہار کریں گے انہوں نے کہا کہ خانقاہوں، مزارات مساجد کے ذمہ دران، خادمین اپنے علاقے کے معززین کے ساتھ بڑی تعداد میں شرکت کریں گے انہوں نے تاجر برادری کے تعاون اور ان کی طرف سے بھرپور شرکت کے اعلان اور تعاون پر تاجر برادری کا شکریہ ادا کیا اجلاس میں تاجر رہنما طاہر محمود ملک بھی شریک تھے۔ چور دروازے سے منظور شدہ وقف اور مساجد کی حریت کے خلاف قانون ہر گز قبول نہیں کریں گے۔ حکومت فی الفور یہ قانون واپس لے۔ حضرات صحابہ کرام و اہل بیت اطہار کے ناموس کو تحفظ دیا جائے، گستاخوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو انارکی پھیلنے کا خطرہ ہے۔ ایسے واقعات سے پہلے بھی تشدد نے جنم لیا ہے۔ فرقہ وارانہ واقعات میں حکومتی مشیر ملوث ہیں۔ انہیں فی الفور عہدے سے ہٹایا جائے۔ لودھراں میں حضرت ابوبکر و عمر کی توہین کے دلخراش واقعہ پر انتظامیہ کی خاموشی تشویشناک ہے۔ ان خیالات کا اظہار وفاق المدارس العربیہ جنوبی پنجاب کے ناظم اور اہل سنت اتحاد کے سیکرٹری مولانا زبیر احمد صدیقیؔ نے ضلع بہاولپور اور ضلع بہاولنگر کے علماء و مشائخ کنونشن سے بہاولپور میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل کہ لوگ قانون ہاتھ میں لے کر خود سزائیں دینا شروع کر دیں، حکومت ناموس صحابہ کے لیے مؤثر قانون سازی کر کے گستاخون کو عبرت ناک سزائیں دے۔ کنونش میں سینکڑوں علماء و مشائخ نے شرکت کی۔ کنونش سے مفتی عطاء الرحمن، مفتی محمد مظہر شاہ اسعدی، مولانا فضل الرحمن دھرم کوٹی، مولانا ارشاد احمد، مولانا معین الدین وٹو، جمیعت علماء اسلام کے مرکزی راہنما مولانا بشیر احمد شاد، مولانا محمد عبداللہ خیر پور ٹامیوالی، مولانا سراج احمد بہاولنگر، مولانا قاری سہیل احمد صدیقیؔ، مولانا محمد صہیب، مولانا محمد اسحاق اور مولانا محمد اسعد مظہری نے بھی خطاب کیا۔ کنونش میں علماء و مشائخ نے 24ستمبر کو ناموس صحابہ و اہل بیت مارچ میں قافلوں کی شکل میں ملتان شریک ہونے کا اعلان بھی کیا۔

اجازت

مزید :

ملتان صفحہ آخر -