سیکرٹریٹ صرف ڈھونگ‘ وسیب کی توہین ناقابل  برداشت‘ رؤف خان ساسولی‘ ظہور دھریجہ

 سیکرٹریٹ صرف ڈھونگ‘ وسیب کی توہین ناقابل  برداشت‘ رؤف خان ساسولی‘ ظہور ...

  

 ملتان (سٹی رپورٹر)سرائیکی صوبہ سرائیکی قوم کا حق ہے، مہاجر صوبے کی حمایت نہیں کرتے۔ ان خیالات کا اظہار بلوچ قوم(بقیہ نمبر18صفحہ 10پر)

 پرست رہنما رؤف خان ساسولی نے سرائیکستان قومی کونسل کے صدر ظہور دھریجہ کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سرائیکی انقلابی شاعر عاشق خان صدقانی، مقصود دھریجہ، رانا سرور راجپوت بھی موجود تھے۔ رؤف خان ساسولی نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں محروم اور پسماندہ علاقوں کی ترقی کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی گئی اور نہ ہی پاکستان میں بسنے والے قوموں کے حقوق کا ذکر ہوا۔ جماعتوں کو کرسی اور اقتدار کی سیاست سے ہٹ کر انسانوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آٹا اور شوگر مافیا کے جرم ثابت ہونے کے باوجود نہ صرف یہ کہ کسی کو سزا نہیں ہوئی بلکہ چینی 100 روپے فروخت ہو کر مافیاز کو روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں کا انعام مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شوگر کے ساتھ پٹرول کا نرخ پہلے کم کرنے اور پھر ایک دم بڑھانے کی بھی تحقیقات ہونی چاہئے کہ اس عمل سے پٹرول مافیا کو نواز کر کھربوں کا فائدہ دیا گیا۔ رؤف خان ساسولی نے کہا کہ سرائیکی قوم کا اپنا وطن ہے، ان کی تہذیب و ثقافت بھی اپنی ہے اور سرائیکی صوبے کا بل سینیٹ سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ پاس ہو چکا ہے۔ سرائیکی صوبے کو ایک لحاظ سے آئینی تحفظ بھی حاصل ہو چکا ہے، موجودہ حکمرانوں کو بلا تاخیر صوبے کا قدم اٹھانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مہاجر صوبے کا ایشو سرائیکی صوبے کو سبوتاژ کرنے کیلئے اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پر اٹھایا جاتا ہے، حالانکہ سب جانتے ہیں کہ دنیا کا ہر مہاجر مقامیت اختیار کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہندکو، ہزارہ اور پوٹھوہار والے اپنے صوبے کی بات کریں تو بات بنتی ہے کہ ان کا اپنا خطہ ہے، اپنی زبان اور اپنی تہذیب و ثقافت ہے۔ انہو ں نے کہا کہ سرائیکی صوبے کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ طبقاتی جدوجہد بھی ضروری ہے کہ سرائیکی کو سب سے زیادہ نقصان نواب آف بہاولپور نے دیا اور دیگر جاگیردار بھی اقتدار کے مراکز کا طواف کرتے نظر آتے ہیں۔ اس سے قبل ظہور دھریجہ نے کہا کہ سرائیکی وسیب سے بنگالیوں والا سلوک ہو رہا ہے۔ سول سیکرٹریٹ کے نام پر تفریق پیدا کی جا رہی ہے، ڈھونگ رچائے جا رہے ہیں، وسیب کے لوگوں کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔ سو دن میں صوبے کا وعدہ ہوا مگر اٹھ سو دن گزرنے کے باوجود صوبہ کمیشن تک نہیں بنایا جا سکا۔ سرائیکی وسیب اور سرائیکی قوم کی جنوبی پنجاب کے نام سے توہین کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں بسنے والی دیگر قوموں کو شناخت اور اختیار حاصل ہے جبکہ سرائیکی قوم کو تسلیم نہ کر کے حکمران بنگالیوں والی تاریخ دہرا رہے ہیں۔ لیکن ہم ان کے کمی ہیں نہ مزارع، پاکستان ہماری سرزمین پر قائم ہے، ہم پونم کی طرز پر نئے اتحاد کیلئے کام کریں گے اور اس سلسلے میں بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخواہ کے قوم پرستوں کو مل کر نیا لائحہ عمل بنائیں گے۔

رؤف ساسولی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -