” مینوں معاف کر دیو “ سی سی پی او لاہور نے ارکان اسمبلی کے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے 

” مینوں معاف کر دیو “ سی سی پی او لاہور نے ارکان اسمبلی کے سامنے ہاتھ جوڑ ...
” مینوں معاف کر دیو “ سی سی پی او لاہور نے ارکان اسمبلی کے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے 

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے اراکین کمیٹی کے ساتھ اپنے ناروا رویے پر معافی مانگی اور ہاتھ جوڑ کر کہا کہ ” مینوں معاف کر دیو ، میں جنوبی پنجاب سے ہوں اور وسطی پنجاب میں آ کر پھنس جاتاہوں “ ۔ سی سی پی او کا جواب سن کر کمیٹی اراکین بھی قہقہے لگا کر ہنس پڑے ۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے استحقاق کا قاسم نون کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس دوران سی سی پی او لاہور عمر شیخ بھی کمیٹی اجلاس میں شریک ہوئے ، رانا تنویر نے کہا کہ میں اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں تھا اورمریم نواز کی نیب لاہور میں پیشی پر درج ایف آئی آر میں میرا نام شامل کر دیا گیا ۔ قاسم خان نون نے سی سی پی او سے استفسار کیا کہ کس کے کہنے پر رانا تنویر کا نام ایف آئی آر میں درج کیا گیا ۔

سی سی پی او نے جواب دیا کہ لاہور نیب کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد اصغر نے نام دیا تھا ، ابھی تک راناتنویر کے خلاف نہ چلان پیش کیا نہ انکوائری کی ، جورانا صاحب کہہ رہے ہیں اس پر ریقین رکھتاہوں اور معاملے کو دیکھوں گا ، سچ بتاﺅں تو میں رانا تنویر کے خلاف ایف آئی آر تفصیل سے نہیں پڑھ سکا ۔

سی سی پی او کے جواب پر اراکین کمیٹی نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ اتنے غیر سنجیدہ ہیں کہ ایف آئی آر بھی نہیں پڑھی ،کمیٹی نے عمر شیخ کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ رانا تنویر کا نام ایف آئی آر سے نکالا جائے ، نیب افسر آئندہ اجلاس میں پیش ہوں ۔ عمر شیخ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پیر تک رانا صاحب کا نام ایف آئی آر سے نکال کر رپورٹ دے دوں گا ۔

محسن شاہ نواز رانجھا نے پوچھا کہ ایف آئی آر میں انسداد دہشتگردی کی دفعات کیوں لگائی گئیں۔ محسن شاہ نواز رانجھا کے سوال پر سی سی پی او نے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ” آپ کے سوال کا جواب دینا ہے یا چیئرمین کمیٹی کے سوالات کا “؟ ۔ سی سی پی او کے جواب پر محسن شاہ نواز رانجھا برہم ہوئے اور کہا کہ آپ پارلیمنٹ کے سامنے پیش ہوئے ہیں میں نہیں ، مجھ سے سوال نہ کریں آپ سے جو پوچھا وہ بتائیں ۔ 

کمیٹی کے اراکین نے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے رویے کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کروایا ، اس پر وزیر مملکت علی محمد خان نے جواب دیا کہ سی سی پی او لاہور کا رویہ انتہائی نامناسب ہے ،میں حکومت کی طرف سے سی سی پی او کے رویے پر معذرت خواہ ہوں ۔ علی محمد خان کے یہ کہنے کے فوری بعد ہی سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے اپنے رویے پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ” مینوں معاف کر دیو ، میں جنوبی پنجاب سے ہوں اور وسطی پنجاب میں آ کر پھنس جاتاہوں “ ۔ سی سی پی او کا جواب سن کر کمیٹی اراکین بھی قہقہے لگا کر ہنس پڑے ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -