محسن پاکستان سعودی عرب کا قومی دن

محسن پاکستان سعودی عرب کا قومی دن
محسن پاکستان سعودی عرب کا قومی دن

  

سعودی عرب کا قومی دن ہر سال 23ستمبر کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن 1932ء میں پیش آنے والے ان واقعات کی یاد کو تازہ کرتا ہے جب مملکت سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعودنے ایک بکھرے ہوئے ملک کو متحد کیا اور اسلامی اصولوں پر مبنی ایک متحدہ مملکت کے قیام کا اعلان کیا۔ 15 جنوری 1902میں شاہ عبدالعزیز نے دارالحکومت ریاض کو واگزار کروایا اور اپنے ورثے کو دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے جس کی بدولت علاقے میں آل سعود کی حکمرانی واپس آئی جہاں وہ دو ایسی مملکتوں پر حکمرانی کر چکے تھے جو جزیرۃ نما عرب اور اس کے باہر وسیع علاقے پر محیط تھیں۔ سعودی عرب ایسے حالات میں یوم الوطنی منا رہا ہے کہ جب بالعموم پوری دنیا اور بالخصوص پورا خطہ عرب امن وسلامتی اور استحکام کے براہ راست سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ 

مغربی دنیا سعودی عرب کو ایک عرصے تک دہشت گردی اور انتہاپسندی کے ساتھ نتھی کرنی کی کوشش کرتی رہی۔ بعض شدت پسند مختلف ممالک میں دہشت گردی اور تخریب کاری کے واقعات میں جب ملوث پائے جاتے تو ان میں بعض سعودی باشندے بھی نکلتے جس کی وجہ سے سعودی عرب کو عالمی دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑتا۔ اس کے علاوہ ایران اور یمن کے ساتھ سرحدی کشیدگی نے حالات کو اور پیچیدہ کردیا ہے۔اندرونی اور بیرونی ان تمام حالات ومسائل کے تناظر میں ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ 'ہم اپنی زندگیوں کے آئندہ 30 سال ان تباہ کن عناصر کی نذر نہیں ہونے دیں گے۔ ہم انتہا پسندی کو جلد ہی ختم کر دیں گے۔سعودی عرب کی خارجہ پالیسی جغرافیائی، تاریخی، مذہبی، اقتصادی، امن و سلامتی، سیاسی اصولوں اور حقائق پر مبنی ہے۔ اس کی تشکیل میں سب سے اچھی ہمسائیگی کی پالیسی، دوسرے ملکوں کے داخلی امور میں عدم مداخلت، خلیجی ممالک اور جزیرہ عرب کے ساتھ تعلقات کو مستحکم تر کرنا، عرب اور اسلامی ملکوں کے مفاد عامہ کی خاطر ان سے تعلقات کو مضبوط کرنا، ان کے مسائل کی وکالت کرنا، غیر وابستگی کی پالیسی اپنانا، دوست ممالک کے ساتھ تعاون کے تعلقات قائم کرنا اور عالمی و علاقائی تنظیموں میں موثر کردار ادا کرنا شامل ہے۔

حرمین شریفین (مکہ اور مدینہ) کی مقدس عبادت گاہوں کے خلاف سازشیں صدیوں سے چلی آرہی ہیں۔ ابرہہ نامی ایک عیسائی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش سے تقریباً دو ماہ پہلے خانہ کعبہ کو ڈھانے کے لیئے حملہ آور ہوا تھا لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے اْسکے مقابلے کے لیئے ابابلیوں (پرندوں) کی فوج بھیج دی جنہوں نے ابرہہ اور اْسکے لشکر پر سنگ باری کرکے اْسے رہتی دنیا کے لیئے نشان عبرت بنا دیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ابرہہ نے یمن کے دارالسلطنت صنعاء میں ایک عالی شان گرجا گھر بنا رکھا تھا اور چاہتا تھا کہ عرب کے لوگ خانہ کعبہ کی بجائے اْسکے گرجا گھر کو اپنی عبادت کا مرکز بنائیں۔ جب یہ ممکن نہ ہو سکا تو اس نے نعوذ باللہ خانہ کعبہ کو تباہ کرنے کی ٹھان لی اور ہاتھیوں کی فوج لے کر آیا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ہول در ہول بھیج دیئے جنہوں نے ایسی کنکریاں برسائیں کہ ابرہہ اپنے لشکر سمیت نیست و نابود ہو گیا۔یہاں تک کہ ابرہہ سمیت اس کی فوج کا ایک آدمی بھی زندہ نہ بچ سکا اور ہاتھیوں سمیت اِن کے جسموں کی بوٹیاں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر زمین پر بکھر گئیں۔

ابرہہ نے خانہ کعبہ کو گرانے کا ناپاک ارادہ صرف مذہبی جنون میں ہی نہیں کیا تھا بلکہ اس کی پشت پر کھڑی اس وقت کی عیسائی دنیا کو بحر احمر کی بحری گزرگاہ پر مکمل تسلط درکار تھا کیوں کہ اس زمانے میں جس قوت کے ہاتھ میں بحری گزرگاہیں ہوتی تھیں وہی عالمی اقتصادیات کی حکمرانی کرتی تھی۔ اسلام سے قبل چوں کہ خانہ کعبہ عربوں کا ثقافتی اور مذہبی مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ ان کا اقتصادی مرکز بھی تھا اس لیئے منہدم کرنے کے لیئے بڑے جواز کے طور پر ابرہہ نے پہلے یمن میں قائم گرجا گھر کو خود ہی تباہ کیا اور پھر اسکا الزام عربوں پر لگا کر اسلام سے پہلے بیت اللہ کو مٹانے کا ناپاک ارادہ ظاہر کیا لیکن وہ بیت اللہ کو تباہ کر سکا اور نہ ہی اسلام کو مٹا سکا۔ بعض طاقتیں دنیا کے پرامن مذہب اسلام اور مسلمانوں کی عبادت گاہ خانہ کعبہ کو مٹانے کے لیئے آج ایک بار پھر ابرہہ کی تاریخ دھرانے کے لیئے سرگرداں ہیں۔

یمن کے لوگ سعودی عرب کے ساتھ تاریخی، ثقافتی اور مذہبی نہیں بلکہ خاندانی سطح کے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں۔ اس ناطے یمنی عوام کی مدد کرنا ایک فرض ہے تاکہ یمن کو اس کے اپنے قدموں پر کھڑا کیا جا سکے اور انہیں ایک خوشحال اور پرامن زندگی کی طرف لوٹایا جا سکے۔ اسی مقصد کی خاطر ''فیصلہ کن طوفان'' کے نام سے آپریشن شروع کرنے کی ضرورت تھی کیونکہ یہ بیت اللہ کے تحفظ کی جنگ ہے۔ کسی بھی ملک میں اسلحہ کے زور پر اقتدار پر قبضہ کی خواہش کو دینی سیاسی اور اخلاقی لحاظ سے درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔ہر ملک اپنے آئین اور دستورکے مطابق ریاستی امور چلاتا ہے اور وہاں کی عوام مروجہ سیاسی نظام کے مطابق اپنے حکمرانوں کا چناؤ کرتی ہے، بعض ممالک میں جمہوری طرز عمل ہے اور بعض کے ہاں صدارتی یا شاہی نظام چل رہا ہے۔جس سے جہاں کی عوا م خوش وہیں وہ نظام انکے ہاں درست اور تسلیم سمجھا جاتا ہے، نظام اقتدار کو اسلام یا کفر قرارنہیں دیا جاسکتا، مقصود عوام الناس کی فلاح وبہبود اور نظم اجتماعی کا قیام ہونا چاہیے۔

پاکستان میں جمہوری طرز حکمرانی ہے اگر یہاں کبھی کسی گروہ نے نظام کے خلاف بغاوت کا اعلان کیا یا اسلحہ کے زور پر اقتدار پر قبضہ کی خواہش ظاہر کی اسے عوا م نے برے طریقے سے نظر انداز کردیا۔ سیاسی یا مذہبی جماعتیں جو پارلیمانی طرز سیاست پر یقین رکھتی ہیں سب نے مل کر ایسی منفی سوچ کی آگے بڑھ کرمذمت کی۔یمن میں بھی حوثیوں کی طرف سے اسلحہ کے زورپر اقتدار پر قبضے کی کوشش کی گئی جوقانونی اور اخلاقی لحاظ سے درست قرار نہیں دی جاسکتی۔اور یقینا اس طرح کاجارحانہ طرز عمل دنیا کا کوئی ببھی ملک برداشت نہیں کرسکتا۔ دنیا میں لسانی،مذہبی،گروہی یا فرقہ وارنہ بنیادوں پر اقتدار پر قبضے کی روایات کے ہمیشہ خوفناک نتائج نکلیں ہیں۔ وقتی طور پر اگر کسی نے اپنے زور بازو پر یا اپنی دہشت سے قبضہ جمابھی لیا ہے تووہ کبھی پائیدار نہیں رہا۔یمن کا مسئلہ یہ ہے کہ اسکے ہمسایہ سعودی عرب ہے، جوحرمین شریفین کی وجہ سے ایک مقدس ریاست ہے جس کے ساتھ دین اور اخوت کے رشتہ کی بنیادو پر کروڑوں مسلمانوں کے محبت وعقیدت کے جذبات ہیں۔

یمن کے ساتھ سعودی عرب 1800 کلومیٹر طویل سرحد ملتی ہے۔جہاں سے اکثرحوثیوں کی طر ف سے تخریبی کا ررائیاں جاری رہتی ہیں، اور سعودی عرب میں مداخلت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔سعودی عرب کی یہ تشویش بجا ہے، انہیں اپنے اقتدارکی نہیں بلکہ حجاز مقدس کو فتنوں سے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔یمن کا مسئلہ صرف سعودی عرب کا نہیں بلکہ امت مسلمہ کا مسئلہ بن چکا ہے۔ مشرق وسطی کے ساتھ ساتھ پاکستان پر بھی اسکے منفی اثرات پڑیں گے۔ فرقہ وارانہ آگ کا آلاؤ پوری اسلامی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔پاکستان میں رہنے والے کروڑوں مسلمانوں،حکومت اور پاک فوج کی اس ضمن میں تشویش بالکل بجا ہے۔ پاک سعودی دوستی ایمان اور دینی اخوت کے رشتے میں پروئی ہوئی ہے۔سعودی عرب پر کسی بھی قسم کی جارحیت اور حملے کو یا پاکستان پر کسی قسم کی جارحیت اور حملے کو دونوں ممالک اپنے اوپر حملہ تصور کریں گے اور برادر ملک کا اسی طرح دفاع کیاجائے گا جس طرح اپنے ملک کی سرحدوں کا تحفظ کیاجاتا ہے۔

کہا جارہا ہے کہ یہ صرف یمن کا اندرونی مسئلہ ہے اس لئے سعودی عرب اور دیگر ملکوں کو وہاں حملے نہیں کرنے چاہئیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حوثی باغی جو یمن کی آئینی و قانونی حکومت کے خلاف مسلح کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں‘ انہوں نے یمنی دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا اور پھر عدن کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے یہ کہناشروع کر دیاکہ وہ صرف یہاں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اگلا ہدف ان کا سعودی عرب ہے تو پھر سعودیہ اور اس کے حامی ممالک کس طرح اس صورتحال سے لاتعلق رہ سکتے ہیں۔خلیجی ممالک اس بات سے بھی خبردار کر چکے ہیں کہ سعودی عرب کی سرحد سے ملحقہ علاقوں میں بھاری ہتھیاروں کے ساتھ فوجی مشقیں بند کی جائیں اگر اس کے باوجود سرحدوں پر خطرات کھڑے کئے جاتے ہیں توکیا سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کو ایساکرنے والے باغیوں کی بغاوت کچلنے اور اپنے ملک کے دفاع کا پورا حق حاصل نہیں ہے۔

جہاں تک ایران اور سعودی عرب کے مابین اختلافات اور شیعہ سنی جنگ چھڑنے کی بات ہے تو اس کا کوئی بھی حامی نہیں ہے۔بڑی دیر سے صلیبی و یہودی کوشش کر رہے تھے کہ بیت اللہ اور مسجد نبوی والی سرزمین سعودی عرب جس کا دفاع ہر مسلمان اپنے عقیدے و ایمان کا حصہ سمجھتا ہے، کو عدم استحکام سے دوچار کیا جائے۔ آج اگر صلیبی و یہودی خطہ میں فسادات کی آگ بھڑکا کرسعودی عرب کو کمزور کرنے اور حرمین الشریفین کو نقصانات سے دوچار کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں تو سب ملکوں کو کلمہ طیبہ کی بنیاد پر متحد ہو کرسرزمین حرمین الشریفین کا تحفظ کرنا چاہیے اور کسی کواس حوالہ سے صیہونی سازشوں کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ یہ مسئلہ انتہائی حساس ہے۔ سعودی عرب کی سرحدوں کے تحفظ کیلئے ہم سب آخری حد تک جانے کیلئے تیار ہیں۔ سعودی عرب کے دفاع کیلئے پاکستانی حکومت اور افواج پاکستان میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور وہ اس بات پر متفق ہیں کہ حرمین الشریفین کی سرزمین کے تحفظ کیلئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیاجائے گا۔ پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کو واضح طور پر پیغام دینا کہ اسے پاکستانی بری، بحری اور فضائی افواج میں سے جتنی تعداداپنی مدد کیلئے درکار ہوگی پاکستان امت مسلمہ کے روحانی مرکز کے تحفظ کیلئے ضرور پیش کرے گا، خوش آئند امر ہے۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ بعض نام نہاد دانشورمخصوص ایجنڈے کے تحت اس حوالہ سے بھی قوم کے ذہنوں میں انتشار اور خلفشار پیدا کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں اور یمن میں باغیوں کی قوت کچلنے کیلئے جاری آپریشن کے خلاف خوامخواہ کے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس سے شیعہ سنی لڑائی کے پروان چڑھنے کی باتیں کر رہے ہیں جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔جب حوثی باغی سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کے حامیوں کے ساتھ مل کر مسلح کارروائیاں کر کے یمن کے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر رہے تھے ' بے گناہوں کا خون بہایا جارہا تھا' عدن کی جانب پیش قدمی اور سعودی عرب کو نشانہ بنانے کے ناپاک عزائم کا اظہارکیاجارہا تھاتواس وقت ان دانشوروں کو یہ خیال کیوں نہیں آیا کہ ایسی باغیانہ سرگرمیوں کے خلاف آواز بلند کی جائے؟ کیونکہ اس سے خطہ میں عدم استحکام کی صورتحال پیدا ہو گی اور دشمنان اسلام کو اپنے مذموم ایجنڈے پورے کرنے کا موقع ملے گا۔

یمن میں قطعی طور پر دو ملکوں کی جنگ نہیں ہے وہاں باغی ایک منتخب حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہوئے ہیں اور سرزمین حرمین الشریفین پر حملوں کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔حوثیوں کی مثال بالکل ایسے ہی ہے جس طرح پاکستان میں بعض گروہ پاک فوج اور حکومتی اداروں پر خودکش حملے اور بم دھماکے کررہے ہیں۔ انہیں بھی طاقت و قوت کے ذریعے ہی کچلنا پڑے گا۔۔ یمن کی جنگ کو ایران اور سعودی عرب کی جنگ نہیں سمجھنا چاہیے۔ بعض عناصر جب سعودی عرب کا نام سنتے ہیں تو ان کے تن بدن میں آگ سی لگ جاتی ہے۔ یہ ان کا نظریاتی تعصب ہے جس کا اظہار کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ ایک خاص نظریہ کے پیروکار ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے مفاد کے لئے غیر محسوس طریقے سے سعودی عرب کو نشانہ بنا دیں گے۔ گزشتہ دنوں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کشمیر کے ایشو پر دونوں ممالک کے درمیان تلخی پیدا کرنے کی کوشش کی۔

سعودی عرب کے بارے میں یاتاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ کشمیر کے مسئلہ پر پاکستان کے موقف کا حامی نہیں۔ جو حلقے یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں ا نکی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ اگست 2019 کے بعد سے مسئلہ کشمیر کی حمایت میں او آئی سی کی رابطہ کمیٹی کے تین اجلاس ہو چکے ہیں۔ ان میں سے دو اجلاس وزرائے خارجہ کی سطح کے تھے جن میں کشمیریوں کی حمایت میں طاقتور بیانات دیے گئے۔ او آئی سی کی قائم کردہ ایک اور کمیٹی نے اپنی توجہ شہید ہونے والے کشمیری عسکریت پسندوں کے خاندانوں کی دیکھ بھال پر مرکوز کر رکھی ہے۔ اس کمیٹی کا جدہ میں باقاعدگی سے اجلاس ہوتا ہے اور آخری اجلاس 13 جولائی 2020 کو ہوا تھا جس میں او آئی سی کے پاکستانی نمائندے نے بطور مہمانِ اعزاز شرکت کی تھی۔ اس اجلاس میں کمیٹی کے ارکان کے علاوہ دوسرے اداروں کے معزز ارکان بھی شامل تھے۔

سبھی جانتے ہیں کہ او آئی سی ایک خود مختار بین الاقوامی ادارہ ہے۔ اگرچہ اس کا صدر دفتر جدہ میں ہے لیکن اس کے سربراہان مختلف اسلامی ملکوں سے روٹیشن پر منتخب ہوتے رہتے ہیں، اور اس نے یقیناً کشمیری عوام کی حمایت میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔دسمبر 2019 میں سعودی عرب نے تجویز دی کہ مسلمان ملکوں کی پارلیمانوں کے سپیکروں کا اجلاس منعقد کیا جائے تاکہ مسئلہ کشمیر پر بحث کی جا سکے۔یہ تجویز سعودی شوریٰ کونسل کے سربراہ نے پیش کی تھی۔ کشمیر کےمعاملےمیں سعودی عرب اور پاکستان کےتصورات اور امیدیں یکساں ہیں اور سعودی عرب کی قیادت اور حکومت پاکستانی موقف کی حمایت میں بیانات دیتی اور مطالبات کرتی رہی ہیں جن کا ارتکاز کشمیر کے مسئلے کا سیاسی اور سفارتی ڈھونڈنے اور اقوامِ متحدہ کی قرارداوں کا نفاذ ہے۔سعودی عرب کی تمام معاملات کےبارے میں پالیسیاں،بشمول مسئلہ کشمیر، سیاسی اور سفارتی غور و فکر پر مبنی ہیں۔ پالیسی تشکیل دیتے وقت جذبات یا عوامیت پسند مطالبات کا عمل دخل نہیں ہوتا۔

سعودی قیادت اسلامی اور عالمی معاملات کو ذاتی مفادات یا مخصوص ایجنڈا کی ترویج کی کوششوں کو رد کرتی ہے۔ اس کے برعکس سعودی قیادت نے اپنے دوستوں اور بھائیوں کے مفادات کو ترجیح دی ہے۔ یہ وہ طریقہ کار ہے جسے سعودی عرب نے کئی عشروں سے اختیار کر رکھا ہے، جس میں قول اور فعل ہمیشہ یکساں رہے ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات سے متعلق ذرائع ابلاغ میں ہونے والی قیاس آرائیوں کو پاکستانی قیادت نے انتہائی سلیقے سے دو ٹوک انداز میں مسترد کیا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کی معاشی امداد سے انکار کا خود ساختہ پراپیگنڈا گھڑ کر اضافی جواز تراشا گیا پھر جنرل باجوہ کے پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق سعودی عرب آمد کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے خود ہی یقین دہانی کراتے ہوئے اس امر کا اعادہ کیا کہ کشمیر پر سعودی عرب کے موقف میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی یا سعودی عرب نے پاکستان کو دیا جانے والا قرضہ واپس کرنے کا کہتے ہوئے تیل سپلائی بند کر دی ہے،یہ سب باتیں قیاس آرائیاں ہیں۔

پاکستان اورسعودی عرب کےقلبی تعلقات ہیں جنکامشترکہ ہدف امن کا فروغ ہے۔ پاکستان،سعودی عرب کی سالمیت اورعلاقائی استحکام کوخطرات سےدو چار کرنےوالےایسےاقدامات پرمملکت کو اپنی مکمل حمایت اور یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔سعودی عرب اور پاکستان کےدرمیان دیرینہ دفاعی تعلقات1982 کو طے پانے والے باہمی سکیورٹی تعاون معاہدے کی روشنی میں استوار ہیں۔اس معاہدے کے تحت پاکستان، مملکت کو فوجی تربیت اور دفاعی پیداواری صلاحیت کے ضمن میں معاونت فراہم کرتا ہے، پاکستانی فوجی دستے، سعودی عرب میں تربیتی اور مشاورتی امور کی انجام دہی کے لیے مملکت میں تعینات ہیں۔

پاکستان فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف اسلامی ملکوں سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ریاض میں تشکیل دیے گئے 41 رکنی اسلامی فوجی اتحاد کے سربراہ ہیں، جو دونوں ملکوں کے قریبی فوجی تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔

پاکستانی آرمی چیف کے حالیہ دورہ ریاض سے دونوں ملکوں کے عوام کی جانب سے سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی باہمی کوششوں کی تائید ہوتی ہے۔ دونوں ملکوں کے باہمی فوجی روابط کی طرح عوامی سطح پر تعلقات بھی تمام شک وشبے سے بالا تر ہیں۔ لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں ملازمت کرتے ہیں اور لاکھوں پاکستانی ہر سال مکہ اور مدینہ اظہار عقیدت کے لیے سفر اختیار کرتے ہیں۔ امت مسلمہ اور سعودی عرب کے لیے پاکستانی عوام کی محبت کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ پاکستان، سعودی عرب تعلقات سبوتاژ کرنے کی حالیہ سازش سے سبق ملتا ہے کہ ہم ان تعلقات کا سیاسی بیانیہ ایسے ترتیب دیں جو دونوں ملکوں کے عوام کی امنگوں اور دیرپا دفاعی تعاون سے میل کھاتا ہو۔

سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان بڑھتا ہوا سیاسی تعاون باہمی طور پر مربوط علاقائی پالیسیاں اور حکمت عملی تشکیل دینے کا تقاضا کرتا ہے۔ اسلامی عقیدہ دراصل پاکستانی اورسعودی ثقافت میں رچابسا ہوا ہے۔ اس لئے دونوں ملکوں کو اپنی دوطرفہ اور علاقائی پالیسیاں اور حکمت عملی انتہائی چابک دستی سے تشکیل دینی چاہیں تاکہ ان میں اختلافات پیدا کرنے والی دشمن قوتیں ناکامی سے دوچار ہوں۔ حالیہ بحران سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ حساس موضوعات پر ’پبلک ڈپلومیسی‘ سے گریز کیا جائے تاکہ پاکستان اور سعودی عرب کی تزویراتی شراکت کے لئے ضرر رساں مخصوص مفادات کو عمومی ایجنڈے پر حاوی ہونے کا موقع نہ مل سکے۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -