وزیر اعظم ناکام ہو گئے ،فوری مستعفیٰ ہو جائیں ، بلاول بھٹو زرداری نے پھر مطالبہ کردیا

وزیر اعظم ناکام ہو گئے ،فوری مستعفیٰ ہو جائیں ، بلاول بھٹو زرداری نے پھر ...
وزیر اعظم ناکام ہو گئے ،فوری مستعفیٰ ہو جائیں ، بلاول بھٹو زرداری نے پھر مطالبہ کردیا

  

کرچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہےکہ عمران خان بحثیت وزیر اعظم اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں، اگر وہ مزید اپنا کام نہیں کر سکتے تو مستعفیٰ ہوکر کسی ایسے شخص کو دے دیں جو بہتر انداز سے پاکستان کی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرسکے،  قومی سلامتی کے نام پرجوملاقاتیں ہوتی ہیں ان کوظاہرنہیں کیا جاتا،غیر ذمہ دارانہ گفتگو کا نوٹس نہ لیا گیا تو  قومی سلامتی کے حساس موضوعات متنازعہ ہوجائیں گے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے  بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں پی پی پی کی منعقدہ اے پی سی میں حکومت اور اسکے سہولت کاروں کے خلاف پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ بن چکی ہے، اسلام آباد اے پی سی تاریخی تھی، جب سے حکومت آئی ہے پہلی بارمیاں نوازشریف اور صدر آصف علی زرداری نے کسی فورم پر ایک ساتھ شرکت کی،نوگھنٹے کی طویل مشاورت سے نہ صرف اس حکومت کے خلاف ایکشن پلان تیارکیا گیا بلکہ اس پرعمل کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی،ہمارامطالبہ یہ ہی کہ ملک میں سب کے لیے یکساں قانون ہونا چاہیے،ہم سب کے لئے جمہوریت چاہتے ہیں ہرعام شہری کے لیے جمہوریت چاہتے ہیں،سب کی برابری چاہتے ہیں جہاں سب کے لیے مساوی مواقع میسر ہوں چاہے وہ انتخابات ہوں، پارلیمان ہو، کورٹس ہوں، الیکشن کمیشن ہو یا پھر میڈیا سب کو مساوی موقع دینا چاہیے اور جمہوریت پر سینسر شپ کا بھی خاتمہ چاہتے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میرے صوبے میں وبائی صورتحال ہے،یہ نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی خبر بنی چایئے تھی،ہمارے صوبے میں شدید مشکلات ہیں،سوات، خیبر پختون خوا،گلگت بلتستان، پورے پاکستان میں سیلاب متاثرین ہیں، پورے پاکستان میں بارش اورسیلاب سے فصلیں تباہ ہوچکی ہیں،ہمارابہت نقصان ہواہے، پہلےہی کرونا صورتحال سے ہمیں بہت نقصان پہنچا، اس سے قبل ٹڈی دل نے بھی ہماری زراعت کو متاثرکیااوپرسے بارشوں سے مزید تباہی آئی، میں نے سندھ میں مرچ، کپاس، اور ٹماٹر کی فصل تباہ ہوتے دیکھی ہے، جس سے کسانوں کو بہت نقصان ہوا، میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ کسانوں کو ریلیف دیا جائے اور جس طرح دوہزار گیارہ میں ہم نے متاثرین کو پاکستان کارڈ دیا تھا، آج بھی وفاقی حکومت کو چاہیے کہ پاکستان کارڈ کا آجراء کرے، ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ زراعت کوسپورٹ کرے،وفاق کوآگے آنا پڑےگا.

بلاول بھٹو زرداری کا  کہنا تھا کہ قومی سلامتی کے نام پرجوملاقاتیں ہوتی ہیں ان کوظاہرنہیں کیا جاتا کچھ غیرذمہ دارلوگ جن کا نہ قومی سلامتی سے نہ کشمیرسے نہ گلگت بلتستان سے تعلق ہے ٹی وی چینلزپر آکر اس موضوع پربات کرتے ہیں،قومی سلامتی اورخارجہ امورکے معاملے پربلائی گئی میٹنگ کے متعلق غیرذمہ داری سے بات کی گئی،جوبھی ہے جس کابھی ترجمان ہے ان کونوٹس لینا چاہیئے ورنہ یہ قومی سلامتی کے حساس موضوعات متنازعہ ہوجائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان آج تک پلواما ہویا کوئی دوسرا قومی سلامتی کا ایشوہمیشہ ناکام رہے ہیں، وہ میٹنگزمیں موجود نہیں ہوتے،قومی سلامتی امورپر سب کوایک ہوناپڑتا ہے،اس باربھی وزیراعظم قومی سلامتی بریفنگ میں شریک نہیں ہوئے،ان کے بغیرمیٹنگ نہیں ہونی چاہیئے تھی مگر وزیر اعظم کا قومی سلامتی بریفنگز میں موجود نہ ہونا انکی مکمل ناکامی ہے، نیشنل سیکیورٹی بریفنگ میں بھی ہماری پوزیشن یہی تھی کہ وزیراعظم لیڈ کریں نہیں تواستعفی دیں۔

مزید :

قومی -