شاہ محمود قریشی کی یورپی یونین خارجہ امور کے سربراہ سے ملاقات ، دو طرفہ تعلقات اور افغان صورتحال پر تبادلہ خیال 

شاہ محمود قریشی کی یورپی یونین خارجہ امور کے سربراہ سے ملاقات ، دو طرفہ ...
شاہ محمود قریشی کی یورپی یونین خارجہ امور کے سربراہ سے ملاقات ، دو طرفہ تعلقات اور افغان صورتحال پر تبادلہ خیال 

  

نیویارک (ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نےاقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 76ویں اجلاس کے موقع پر یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزف بوریل سے ملاقات کی،دوران ملاقات دو طرفہ تعلقات اور افغانستان کی ابھرتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کیلئے ناگزیر ہے، افغانستان میں انسانی و معاشی بحران کے پنپتے ہوئے خطرے کے پیش نظر ، عالمی برادری کو افغانستان کی معاونت کو جاری رکھنا ہو گا ، وزیر خارجہ نے یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ کو دیگر یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ہونے والے روابط سے آگاہ کیا ۔شاہ محمود قریشی نے یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزف بوریل کے ساتھ ،افغانستان کے قریبی پڑوسی ممالک کے وزرائے خارجہ اور ایس سی او سمٹ کے موقع پر ایس سی او اور سی ایس ٹی یو کے وفود کے سربراہوں سے ہونے والی ملاقاتوں کا تذکرہ کیا۔

وزیر خارجہ نے افغانستان کے حوالے سے ، یورپی یونین کی قرارداد میں پاکستان سے متعلق ، منفی حوالوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ اس طرح کے غیر منطقی حوالہ جات، پاکستان اور یورپی یونین کے باہمی تعلقات سے مطابقت نہیں رکھتے اور امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہیں۔مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بہت سا مالی و جانی نقصان برداشت کیا ، افغانستان سے مختلف ممالک کے، سفارتکاروں اور دیگر حکام کے محفوظ انخلا کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان نے بھرپور معاونت فراہم کی.دو طرفہ تعلقات کے تناظر میں وزیر خارجہ نے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تعاون کی نوعیت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان سیاسی و سٹریٹجک ڈائیلاگ کے جلد انعقاد کی اہمیت پر زور دیا۔وزیر خارجہ اور یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ نے افغانستان پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مل کر کاوشیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

مزید :

قومی -