کیا یہ ہے ریاستی اداروں کی مضبوطی۔۔۔۔؟؟؟؟

کیا یہ ہے ریاستی اداروں کی مضبوطی۔۔۔۔؟؟؟؟
کیا یہ ہے ریاستی اداروں کی مضبوطی۔۔۔۔؟؟؟؟

  

تحریک انصاف کے وزرا کی جانب سے آج کل الیکشن کمیشن کو خوب آڑے ہاتھوں لیا جارہا ہے۔ الیکٹرونک ووٹنگ مشین کا معاملہ حکومت نے اپنی ضد بنا لیا ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے وفاقی وزرا وقتاً فوقتاً پریس کانفرنس منعقد   کر کے  الیکشن کمیشن اور خاص طور پر چیف الیکشن کمیشنر کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے متعدد بار کہا گیا کہ 1970 کے بعد جتنے بھی انتخابات ہوئے ان پر اعتراضات اٹھائے گئے ، کبھی انتخابات دھاندلی زدہ قرار پائے تو کبھی مخالفین کی جانب سے جیتنے والی جماعت کو آر اوز کا مرہون منت قرار دیا گیا۔  یہ سب باتیں بجا کہ کبھی بھی ہماری جمہوری جماعتوں نے اپنی ہار کو کھلے دل تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی کبھی بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جیتنے والی جماعت کو کامیابی کی مبارکبا دی ۔

 ہر الیکشن کے بعد دیکھنے میں یہی آیا کہ  جیتنے والی جماعت کی کامیابی کو دھاندلی کا نتیجہ قرار دیا گیا۔ 2018 کے بعد تحریک انصاف نے  انتخابی اصلاحات کا بڑے زور و شور سے مطالبہ کیا ہے یہ خوش آئند بات ہے کہ  ملک میں ایسے انتخابی طریقہ کار کو وضع کیا جائے جس میں دھاندلی کا شائبہ نہ ہو ۔ شفاف انتخابات ہوں جن کے نتائج تمام جماعتیں بڑے دل سے تسلیم کریں ۔ ایسا انتخابی طریقہ کار جس پر  تمام جمہوری جماعتیں متفق ہوں ۔   اب تحریک انصاف کی حکومت نے انتخابی اصلاحات کے زمرے میں وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے زیر سایہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین متعارف کروائی ہے۔ 

تحریک انصاف بضد ہے کہ 2023 کے انتخابات ای وی ایم کے ذریعے ہی کروائے جائیں۔ الیکشن کمیشن حکام نے ای وی ایم کا جائزہ لینے کے بعد مشین پر 37 اعتراضات اٹھائے ہیں، جبکہ دوسری جانب اپوزیشن کی بڑی جماعتوں نے بھی ای وی ایم کے ذریعے انتخابات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے اعتراضات کے بعد وفاقی وزرا آگ بگولہ دکھا ئی دیتے ہیں ۔ غصے میں لال پیلے ہوتے وزرا نے آئینی ادارہ الیکشن کمیشن کو آگ لگانے تک کی خواہش کا اظہار کردیا ہے۔  ایک وفاقی وزیر نے چیف الیکشن کمیشنر سکندر سلطان راجہ کو  ڈائریکٹ تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر اپوزیشن کی زبان نہ بولیں، سیاست کا شوق ہے تو عہدے سے استعفیٰ دے کر الیکشن لڑ لیں۔  الیکشن کمیشن ممبران چیف الیکشن کمشنر کے فیصلوں کی مخالفت کرتے ہوئے آگے آئیں  اور ای وی ایم کے  استعمال کے لیے اپنا کردار ادا کریں ۔ تو دوسرے وزیر بولے کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کیسے ہوئی یہ راز ہی رہنے دیں۔ الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر پر بے جا تنقید کے بجائے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت ای وی ایم پر اٹھائے گئے الیکشن کمیشن کے 37 اعتراضات کو دور کرتی ۔ اپوزیشن جماعتوں کے تحفظات کو دور کرتی ۔ انتخابات اصلاحات کے معاملے پر اپوزیشن جماعتوں سے مل بیٹھ کر معاملات طے کیے جاتے۔ لیکن اعتراضات دور کیے بغیر صرف ایک ہی ضد کیے جانا کہ آئندہ انتخابات صرف ای وی ایم کے ذریعے ہی کروائے جائیں گےجیسے کہ کچھ دال میں کالا ہو۔

 دوسری طرف یہ وہی جماعت ہے جو حکومت میں آنے سے پہلے ریاستی اداروں کی مضبوطی کی بات کرتی تھی لیکن حکومت میں آنے کے بعد اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ حکومت کی ہاں میں ہاں ملانے سے انکار پر  الیکشن کمیشن کو آگ لگانے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ کیا یہ ہے ریاستی اداروں کی مضبوطی کہ  ہاں سے ہاں ملانے کے انکار پر آگ لگانے کی دھمکیاں دی جائیں؟۔ کیا یہ آئینی ادارے کی توہین نہیں کہ اس طرح براہ راست تنقید کا نشانہ بنا کر ریاستی ادارے کی تضحیک کی  جائے اور اسے پریشر میں لانے کی کوشش کی جائے۔ پھر ایک وفاقی وزیر کا بیان کہ  چیف الیکشن کمشنر کا تقرر کیسے ہوا خاموش ہی رہنے دیا جائے۔ یہاں سوال تو یہ بنتا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کا تقرر تحریک انصاف کے دور حکومت میں ہی ہوا۔ 

سکندر سلطان راجہ کا نام بھی بطور چیف الیکشن کمشنر  وزیراعظم عمران خان نے ہی تجویز کیا ۔ اپنے ہی دور حکومت میں اپنا ہی تقرر کردہ چیف الیکشن کمشنر متنازعہ کیسے بن گیا ، اور کیسے یہ کہا جارہا ہے کہ تقرر کیسے ہوا خاموش رہنے دیا  جائے، سوال تو پھر یہ بنتا ہے کہ کیا وزیراعظم عمران خان نے کس کے حکم پر سکندر سلطان راجہ کا نام  بطور چیف الیکشن کمشنر تجویز کیا؟ اب اگر ای وی ایم کے معاملے پر بات کی جائےتو  کچھ سادہ سے سوالات ہیں جن کی بنیاد پر ای وی ایم پر اعتراضات بن سکتے ہیں۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے کہ  مشین کےذریعے ای طریقہ کار سے  ووٹ کاسٹ کیا جائے گا، ظاہری طور پر ای وی ایم کے بلا تعطل استعمال کیلئے  ہمہ وقت بجلی کی فراہمی یقینی بنانا ہو گی، ہمارے ہاں ایک تو لوڈشیڈنگ کا معاملہ  ای وی ایم کے آڑے آسکتا ہے دوسرے  ہمارے ہاں ایسا الیکٹرک سسٹم ہی موجود نہیں کہ کسی قسم کی خرابی کا خدشہ نہ ہو۔ دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان میں شہریوں کی اکثریت ایسی ہے جنہیں  کمپیوٹر کا استعمال معلوم نہیں ۔ ایک شخص جو کمپیوٹر چلانا ہی جانتا نہ ہو  وہ کیسے الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر  بغیر کسی رہنمائی کے ووٹ کاسٹ کرے گا، جب ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے کسی کی رہنمائی درکار ہو گی تو پھر ووٹ خفیہ کیسے رہ پائے گا؟یہ تو پھر ووٹ کی حرمت پامال کرنے کے مترادف ہے۔

  یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب دینا حکومت کا فرض تھا لیکن ہوا کیا کہ اعتراضات کا مثبت جواب دینے کے بجائے الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے چیف الیکشن کمشنر کو اپوزیشن کا آلہ کار قرار دے کر ایک ریاستی آئینی ادارے کے سربراہ کی توہین کی جارہی ہے، ادارے پر تنقید کے جواب میں نوٹس جاری کرنے پر الیکشن کمیشن کے خلاف دھمکی آمیز حکومتی رویہ بتا رہا ہے کہ  حکومت کی نظر میں ریاستی اداروں کی کتنی عزت ہے۔ حکومت کو  یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ اداروں کیساتھ محاذ آرائی میں نقصان اداروں کو نہیں بلکہ حکومت کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   ‎

مزید :

بلاگ -