جب میں بُرے دور سے گزر رہا تھا تو بچوں نے مجھے جھکنے نہیں دیا

جب میں بُرے دور سے گزر رہا تھا تو بچوں نے مجھے جھکنے نہیں دیا
جب میں بُرے دور سے گزر رہا تھا تو بچوں نے مجھے جھکنے نہیں دیا

  

مترجم:علی عباس

قسط:85

مجھے یہ تصور کرنا اچھا لگتا ہے کہ میں ان بچوں کےلئے متاثر کُن ہوں جن سے میری ملاقات ہوئی۔ میں بچوں کو اپنی موسیقی کی طرح چاہتا ہوں۔میرے لئے اُن کی تعریف کسی دوسرے سے زیادہ اہم ہے۔ وہ ہمیشہ بچے ہی ہوتے ہیں جو یہ جانتے ہیں کہ کون سا گیت کامیاب ہونے جا رہا ہے۔ تم وہ بچے دیکھو جو تاحال بول نہیں سکتے لیکن اس کے باوجود اُن میں آپس میں ہم آہنگی ہے۔ یہ مزاح کُن ہے لیکن وہ سخت حاضرین ہیں۔ درحقیقت وہ بہت زیادہ سخت حاضرین ہیں۔ میرے پاس بہت سارے والدین آئے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ اُن کا بچہ ”بیٹ اٹ“کے بارے میں جانتا ہے یا اسے’ ’تھرلر“ پسند ہے۔ جارج لوکاس نے مجھے بتایا تھا کہ اُس کی بیٹی کے اولین الفاظ’ ’ مائیکل جیکسن“ تھے۔ جب اُس نے مجھے یہ بتایا تو میں بہت خوش ہوا تھا۔

 میں کیلیفورنیا میں بہت سارا فارغ وقت گزارتا ہوں اور جب میں سفر کر رہا ہوتا ہوں۔۔۔ بچوں کے ہسپتالوں کا دورہ کرتا ہوں۔ میرے لئے یہ اَمر خوش کُن ہے کہ میں ان بچوں کے سامنے جلوہ گر ہوکر اور اُن سے باتیں کر کے اُنہیں خوش کرنے کا اہل ہوں، اُن کی سُنتا ہوں جو وہ کہنا چاہتے ہیں اور انہیں بہتر محسوس کراتا ہوں۔ بچوں کےلئے بیمار ہوناکسی دوسرے سے زیادہ مایوس کُن ہے۔ بچے اس کے مستحق نہیں ہیں۔ وہ اکثر اسے سمجھ تک نہیں سکتے کہ اُن کے ساتھ کیا غلط ہو رہا ہے۔ یہ خیال میرا دل دہلا دیتا ہے۔ جب میں اُن کے ساتھ ہوتا ہوں، میں اُن سے بغلگیر ہونا چاہتا ہوں اور زندگی کو اُن کےلئے بہتر بنانا چاہتا ہوں۔ اکثر بیمار بچے مجھ سے ملاقات کرنے کےلئے گھر پر یا دوروں کے دوران ہوٹل کے کمروں میں آتے ہیں۔ والدین میرے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ کیا اُن کا بچہ مجھ سے چند منٹ کےلئے ملاقات کر سکتا ہے۔ اکثر اوقات جب میں اُن کے ساتھ ہوتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں جان گیا ہوں کہ میری ماں نے پولیو کا مقابلہ کیسے کیا تھا۔ زندگی بہت زیادہ قیمتی اور مختصر ہے۔

آپ جانتے ہیں کہ جب میں اپنی جلد کے حوالے سے بُرے دور سے گزر رہا تھا اور میرے جسم میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں تو یہ بچے تھے جنہوں نے مجھے کبھی جھکنے نہیں دیا تھا۔ صرف وہی تھے جنہوں نے اس حقیقت کو تسلیم کیا تھا کہ میں مزید کم سن مائیکل نہیں رہا اور یہ کہ میں اندر سے وہی انسان تھا، اگرچہ آپ مجھے شناخت نہیں کرسکتے۔ میں اسے فراموش نہیں کر سکتا۔ بچے عظیم ہیں۔ اگر میرا کوئی دوسرا مقصد نہ ہوتا تو میں بچوں کی مددکیا کرتا اور اُن کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرتا، یہ میرے لئے کافی تھا۔ وہ حیران کُن لوگ ہیں، حیران کن۔

 میں ایک ایسا شخص ہوں جو بہت زیادہ اپنی زندگی کی گرفت میں رہا ہے۔ میری لئے کام کرنے والی ٹیم میں کام سے وابستہ لوگ غیر معمولی ہیں اور وہ مجھے تمام حقائق سے آگاہ رکھنے کی ذمہ داری بہترین طریقے سے نبھا رہے ہیں جس کے باعث مجھے ایم جے جے پروڈکشن میں ہونے والی ہر سرگرمی کے بارے میں خبر رہتی ہے چنانچہ میں متبادل راہوں کے بارے میں جان سکتا ہوں اور کوئی فیصلہ کر سکتا ہوں۔ جہاں تک میری تخلیقی صلاحیتوں کا تعلق ہے، یہ گھر کی کھیتی ہے اور میں زندگی کے اس پہلو سے کسی دوسرے کی نسبت زیادہ لطف اندوز ہوتا ہوں۔

میرا خیال ہے کہ اخبارات میں میرا تاثر اپنی ذات میں مگن شخص کا بن چکا ہے اور مجھے اس سے نفرت ہے لیکن اس تاثر کو رد کرنا مشکل ہے کیونکہ عام طور پر میں اپنے بارے میں بات نہیں کیا کرتا۔ میں ایک شرمیلا انسان ہوں۔ یہ درست ہے۔ مجھے انٹرویو دینا یا ٹاک شوز میں جلوہ گر ہوناپسند نہیں ہے۔ جب ڈبل بوائے نے مجھ سے یہ کتاب لکھنے کے بارے میں رابطہ کیاتو میری دلچسپی تھی کہ میں اُس کتاب میں کیسا محسوس ہوتا ہوں جو کہ میری ہے۔۔۔ میرے الفاظ اور میری آواز۔ مجھے امید ہے کہ یہ کچھ غلط فہمیوں کو دور کرنے میں مددگار رہے گی۔

ہر کسی کی زندگی کی بہت ساری جہتیں ہوتی ہیں اور میں مختلف نہیں ہوں۔ جب میں عوام کے درمیان موجود ہوتا ہوں تو میں اکثر جھجھک محسوس کرتا ہوں اور الگ تھلگ رہتا ہوں۔ ظاہر ہے میں کیمرے کی چمک دھمک اور لوگوں سے دور خود کو مختلف خیال کرتا ہوں۔ میرے دوست اور قریبی ساتھی آگاہ ہیں کہ وہاں ایک دوسرا مائیکل ہے جسے عجیب اور منفرد ”عوامی“ صورتحال کا سامنا کرنا مشکل لگتا ہے جہاں میں اکثر خود کو موجود پاتا ہوں۔( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -