اس کے ذہن میں کوئی خوفناک شک پیدا ہو رہا تھا، عورتیں سہمی ہوئی نگاہوں سے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھیں

اس کے ذہن میں کوئی خوفناک شک پیدا ہو رہا تھا، عورتیں سہمی ہوئی نگاہوں سے ...
اس کے ذہن میں کوئی خوفناک شک پیدا ہو رہا تھا، عورتیں سہمی ہوئی نگاہوں سے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھیں

  

مصنف : اپٹون سنکلئیر

ترجمہ :عمران الحق چوہان 

 قسط:24

صبح سویرے روانہ ہوتے وقت یورگس نے انہیں اتنی ہدایات اور نصیحتیں کیں اور انہیں خطروں سے اتنا ڈرایا کہ عورتوں کے رنگ تو فق ہوئے سو ہوئے، ٹھنڈے دل و دماغ کاشوِیلاس بھی، جسے اپنے کاروباری ہونے پر غرور تھا، پریشان ہو گیا۔ ایجنٹ نے بیع نامہ پہلے سے تیار کر رکھا تھا۔ اس نے انہیں بیٹھنے اور دستاویز پڑھنے کےلئے کہا۔ شو ِ یلاس نے اسے پڑھنا شروع کیا جو اس کےلئے ایک مشکل کام تھا۔ اس دوران ایجنٹ خاموشی سے بیٹھا میز پر انگلیوں سے طبلہ بجا تا رہا۔ آنٹ الزبیٹا کے ماتھے پر یہ سوچ سوچ کر پسینہ آرہا تھا کہ اس طرح دستاویز کو پڑھنا کہیں اس شریف آدمی کی ایمانداری پر شک کرنے کے مترادف نہ سمجھا جائے، لیکن یعقوبس شو ِ یلاس اسے کافی دیر توجہ سے پڑھتا رہا۔ اس کے ذہن میں کوئی خوفناک شک پیدا ہو رہا تھا۔ جوں جوں وہ پڑھتا جا رہا تھا توں توں اپنے ماتھے پر انگلیاں پھیر رہاتھا۔ جہاں تک اسے نظر آرہا تھا یہ ہر گز کوئی بیع نامہ نہیں تھا۔ یہ تو صرف مکان کا کرایہ نامہ تھا ؟ قانونی اصطلاحات اور پیچیدہ لفظوں کے باوجود وہ اتنا ضرور سمجھ سکا کہ۔۔۔ ” فریقِ اوّل اتفاق کرتا ہے اور تسلیم کرتا ہے کہ وہ فریق ِ ثانی کو مکان کرائے پر دینے کےلئے رضا مند ہے !“ اور آگے لکھا تھا۔۔۔ ” ماہانہ کرایہ 12 ڈالر ماہانہ بہ میعاد 8 سال 4 ماہ ہوگا! “ پھر شو ِ یلاس نے چشمہ اتار کر ایجنٹ کی طرف دیکھا اور ہچکچاتے ہوئے اس کے متعلق سوال کیا۔

ایجنٹ نے بہت ہی شائستہ لہجے میں وضاحت کی یہ عام فارمولا ہے کہ جائےداد کرائے پر دی جاتی ہے۔ اس نے انہیں اگلا پیراگراف دکھاتے ہوئے سمجھایا لیکن شو ِ یلاس کو لفظ کرائے کی سمجھ نہیں آرہی تھی۔ جب اس نے یہ بات آنٹ الزبیٹا کو بتائی تو وہ بھی سٹپٹا گئی، یعنی وہ اگلے 9 سال تک مکان کے مالک نہیں ہوں گے ! ایجنٹ نے پھر بڑے تحمّل سے انہیں بات سمجھانا شروع کی مگر الزبیٹا کے ذہن میں یورگس کی آخری تنبیہ گونج رہی تھی، ”اگر ذرا سی بھی گڑ بڑ ہو تو اسے پیسے مت دینا بلکہ فوراً کسی وکیل سے رابطہ کرنا۔“ یہ بہت تکلیف دہ لمحہ تھا، اس نے مٹھیاں بھینچ کر اپنی طاقت مجتمع کی اور دل کی بات کَہہ دی۔ 

یعقوبس نے اس کی بات ترجمہ کرکے آگے پہنچادی۔ وہ ڈر رہی تھی کہ ایجنٹ اس بات پر بہت بر افروختہ ہوگا لیکن اس کی توقع کے برعکس وہ نا صرف بالکل ٹھنڈا رہا بل کہ انہیں خود ایک وکیل کے پاس لے جانے کی پیش کش کی جسے آنٹ نے قبول نہیں کیا۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ اسی کے کسی ساتھی کے ہتھے چڑھ جائیں۔جب آدھ گھنٹے کی تلاش کے بعد وہ وکیل کو لے کر آئے اور وکیل نے آتے ہی ایجنٹ کو بے تکلفی سے نام لے کر بلایا تو ان کی مایوسی قابل ِ دید تھی۔

 انھیں لگا کہ اب ان کے ہاتھ کچھ نہیں رہا۔ وہ یوں بیٹھے تھے جیسے سزائے موت کے ملزموں کو سزا سنانے کےلئے طلب کیا گیا ہو۔ اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ وہ پھنس چکے تھے ! وکیل نے دستاویز پڑھی اور پڑھ چکنے کے بعد شو ِ یلاس کو بتا یا کہ یہ معمول کے مطابق معاہدہ ہے۔ ایسی دستاویز کو خالی دستاویز کہتے ہیں جو کہ اس طرح کے سودوں میں لکھی جاتی ہے۔” اور کیا قیمت یہی طے ہوئی تھی جو اس میں لکھی ہے ؟“ اس بوڑھے وکیل نے پوچھا۔۔۔ ” 300 ڈالر بیعانہ اور بقیہ12 ڈالر ماہانہ، جب تک کہ 1500 ڈالر کی رقم ادا نہ ہو جائے؟ “ ہاں یہ تو ٹھیک تھا۔۔۔ اور کیا یہ سودا فلاں فلاں گھر کی فروخت کے حوالے سے ہوا ہے۔۔۔ گھر اور باقی سب چیزوں کا؟ ہاں، یہ بھی درست تھا۔ پھر وکیل نے اسے دکھایا کہ یہ سب کہاں کہاں لکھا ہوا ہے۔ کیا یہ سب معمول کی کارروائی تھی؟ اس میں کوئی دھوکا یا چالاکی تو نہیں تھی؟ وہ غریب لوگ تھے اور ان کے پاس ان پیسوں کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں تھا۔ اگر کوئی گڑ بڑ ہوگئی تو وہ برباد ہو جائیں گے۔ چنانچہ شو ِ یلاس ایک کے بعد دوسرا سوال پوچھتا رہا،جب کہ عورتیں سہمی ہوئی نگاہوں سے اسے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھیں۔ انہیں اس کی کسی بات کی سمجھ نہیں آرہی تھی لیکن انہیں اتنا پتا تھا کہ ان کے مقدر کا انحصار اسی پر ہے۔ جب سارے سوال ختم ہوگئے اور فیصلے کا وقت آیاکہ وہ سودا قبول کرتے ہیں یا مسترد کرتے ہیں تو آنٹ الزبیٹا کو آنسو روکنا مشکل ہو گیا۔ یعقوبس نے اس سے دو بار پوچھا کہ کیا وہ دستخط کرنے کےلئے تیار ہے ؟۔۔۔ وہ کیا کہتی! اسے کیا پتا کہ وکیل سچ کَہہ رہا ہے یا نہیں ۔۔۔ وہ اس سازش میں شریک ہے یا نہیں ؟ لیکن یہ بات وہ کہے کیسے؟ اپنے خدشات کےلئے کیا عذر پیش کرے ؟ کمرے میں موجود سب لوگوںکی نظریں اس پر مرکوز تھیںکہ وہ کیا فیصلہ کرتی ہے۔ آخر کار آنکھوں میں آنسو لیے اس نے اپنی جیکٹ کی جیبیں پھر ولنا شروع کیں جہاں اس نے زندگی بھر کی جوڑی ہوئی دولت چھپا رکھی تھی۔ اس نے پیسے نکال کر آدمیوں کے سامنے رکھ دئیے۔ اونا کمرے کے دوسرے کونے میں بیٹھی یہ سارا منظر دہشت زدگی کے عالم میں دیکھ رہی تھی۔ اس کا دل چاہ رہاتھا کہ وہ چیخ چیخ کر اپنی سوتیلی ماں سے کہے کہ وہ رک جائے، یہ ایک پھندا ہے لیکن جیسے کسی چیز نے اس کا گلا دبوچ کر اس کی آواز بند کر دی تھی۔ آنٹ الزبیٹا نے پیسے میز پر رکھ دئیے اور ایجنٹ نے انہیں گنااور ان کی رسید لکھ کر دستاویز کے ساتھ انہیں تھما دی۔ پھر اس نے اطمینان کا سانس لیااور ان سب سے ہاتھ ملایا۔ وہ اب بھی پہلے کی طرح خوش اخلاق اور شائستہ تھا۔ اونا کو لگ رہا تھا جیسے وکیل نے شو ِ یلاس سے اپنی فیس کا 1 ڈالر مانگا تھا جس پر تھوڑی سی بحث تمحیص ہوئی تھی۔ فیس ادا کر کے وہ باہر سڑک پر آئے تو اس کی سوتیلی ماں نے مکان کی دستاویز مٹھی میں دبا رکھی تھی۔( جاری ہے ) 

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -