کم عمری کی شادیاں،تنسیخ نکاح دعووں میں ہوشربا اضافہ

کم عمری کی شادیاں،تنسیخ نکاح دعووں میں ہوشربا اضافہ

  

ملتان(خصوصی رپورٹر)پسماندہ قدریں، غیر مساوی نظام، کم عمری کی شادیاں، مہنگائی، بے روزگاری، جوئے، منشیات کی لعنت اور مغربی میڈیا کی یلغار کے باعث فیملی کورٹس میں تنسیخ نکاح، نان نفقہ، جہیز کی واپسی اور حق مہر کے دعووں میں ہوشربا اضافہ ہوگیا۔ جبکہ سوشل میڈیا پر دوستیوں کے بعد انجام پانے والی شادیاں بھی چند ماہ نہ چل سکیں۔اور نوبت طلاق تک پہنچنے (بقیہ نمبر54صفحہ7پر)

لگی۔ عدالتوں میں زیر سماعت فیملی دعوں کی تعداد ساڑھے 7 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔تفصیل کے مطابق ملک میں جہاں سوشل میڈیا کے بے دریغ استمعال کے باعث محبت کی شادیوں میں اضافہ ہوا ہے وہاں نام نہاد محبت اور جذبات ماند پڑنے اور ایک دوسرے کی توقعات پر پورا نہ اترنے سے لڑائی جھگڑے معمول بننے کے باعث تنسیخ نکاح و دیگر کیسز میں بھی اسی شرح سے اضافہ ہورہا ہے۔جبکہ نئے شادی شدہ جوڑے بھی علیحدگی اور معاملات کے تصفیے کیلئے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹانے لگے ہیں۔ اسی طرح مہنگائی، بے روزگاری، کم عمری کی شادیاں اور منشیات کے استمعال کو بھی طلاق، نان نفقہ،جہیز کی واپسی اور حق مہر کے دعووں میں اضافہ کی اہم وجہ قرار دیا جارہا ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -