نواز شریف کی واپسی میں رکاوٹ نہیں، پارلیمنٹ نا اہلی کو ختم کر سکتی ہے: عارف علوی 

      نواز شریف کی واپسی میں رکاوٹ نہیں، پارلیمنٹ نا اہلی کو ختم کر سکتی ہے: ...

  

      کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)صدر مملکت عارف علوی نے کہا ہے کہ میں صدر نہیں بننا چاہتا تھا،کہا گیا تھا سپیکر بنائیں گے، کسی وجہ سے خان صاحب نے کہا آپ صدر بن جائیں۔نجی ٹی وی کو انٹرویو میں صدر عارف علوی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اوور سیز کیلئے ووٹنگ کی تیاری کرنی چاہیے تھی، پاکستان میں شفاف انتخابات کیلئے ووٹنگ مشین کابہت اہم کردارہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے واپس آنے میں رکاوٹ نہیں ہے، پارلیمنٹ اتفاق رائے سے نااہلی کوختم کرنا چاہے تو اس کا حق ہے، پارلیمنٹ کے بنائے گئے قوانین کے تحت ہی یہ نا اہلی ہوئی تھی، پارلیمنٹ دو تہائی سے نا اہلی پر ترمیم کرناچاہتی ہے توبات چیت میں حرج نہیں۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں واضح مینڈیٹ آنا چاہیے جو معیشت کیلئے اچھا ہے، نواز شریف کی وزارت عظمیٰ میں عمران خان کے ساتھ ایک بار پی ایم ہاؤس گیا، اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کہہ رہے تھے سینیٹ الیکشن میں بے انتہاپیسہ چلتا ہے جسے مل کر روکنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایوان صدر میں پریشان کن وقت گزر رہا ہے، ملک میں سیلاب، سیاسی معاشی بحران ہو تو ذہنی پریشانی بڑھ جاتی ہے، سب سے اپیل ہے ملک کا ماحول ایسا ہو کہ معاملہ حل کی طرف جائے، پاکستان پولرائزیشن کا متحمل نہیں ہوسکتا۔صدر عارف علوی نے کہا کہ حکومت کی تبدیلی پر چیف جسٹس سپریم کورٹ کو لکھے گئے خط کا جواب نہیں آیا، چیف جسٹس کو خط میں لیاقت علی خان کی شہادت کا ذکر کیا کہ آج تک تحقیقات کاپتہ نہیں چلا، بیگم رعنا لیاقت علی خان نے میرے والد کو سمری دی تھی جس میں تحقیقات تھیں۔عارف علوی نے کہا کہ صدر ایوب خان کی کتاب کا ٹائٹل تھا ہمیں دوست چاہئیں ماسٹر نہیں، بھٹو نے بھی کتاب لکھی کہ ہم حقیقی طور  پر آزاد نہیں ہیں، بھٹونے بھی خط لکھا تھا کہ ان کے خلاف سازش ہوئی ہے، ضیا الحق کا طیاہ گرایا گیا کس نے سازش کی؟ضیا الحق کا طیارہ گرنے کی تحقیقات کا بھی کچھ پتہ نہیں چلا، ایران کے وزیراعظم مصدق کی حکومت کو گرایا گیا، امریکی پیپرز منظر عام  پر آنے سے پتہ چلا کہ مصدق کی حکومت گرانے کیلئے 2 لاکھ ڈالر دیئے گئے تھے۔ انتخابات میں چند ماہ کا فرق رہ گیا ہے، آج بھی الیکشن کا اعلان ہوجائے تو چند ماہ تو لگیں گے، کسی کے ذہن میں اگر یہ بات ہے کہ انتخابات نہیں کرانے تو یہ خطرناک ہوگا، آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کر لیا جائے تو پاکستان کی جمہوریت مستحکم ہوگی، میں آئینی صدر ہوں کسی آمر کے ذریعے صدر نہیں بنا۔عارف علوی نے کہا کہ حکومت یا عمران خان کونہیں کہتا کہ اپنے معمول سے ہٹ جاؤ، عمران خان جلسہ جلوس کرکے عوام کو آگاہ رکھنا چاہتے ہیں تو کرتے رہیں، حکومت سے بھی کہتاہوں اپنے معمول کے کام جاری رکھیں، اگر حکومت الیکشن کی تاریخ کا اعلان کر دیتی ہے تو بہتر ہے، آپشن سارے ہونے چاہئیں، میں کوشش میں انتہائی حد تک جاؤں گا، میرا فرض بھی بنتا ہے۔

عارف علوی

مزید :

صفحہ اول -