جماعت نہم کے مایوس کن نتائج

جماعت نہم کے مایوس کن نتائج

  

 کورونا وباء نے دنیا کے تمام ممالک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا وہاں اس کی وجہ سے پاکستان بالخصوص جنوبی پنجاب کے تعلیمی بورڈز کے سالانہ نتائج بھی انتہائی مایوس کن آئے ہیں، کورونا کے دوران مسلسل دو سال تک طلباء و طالبات کو گریس مارک دے کر اگلی کلاسوں میں پر موٹ کیا جاتا رہا ہے جس کی وجہ سے طلبہ میں تساہل پیدا ہو گیا۔گزشتہ دِنوں ملتان،ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور کے تعلیمی بورڈز نے جماعت نہم کے سالانہ نتائج کے اعلان میں کامیابی کا تناسب بالترتیب 49.83 فیصد،45.85 اور 42.21 فیصد رہا۔نہم جماعت کے خراب نتائج کے ذمہ دار جہاں طلباء و طالبات اور والدین ہیں وہاں سرکاری سکولوں کے اساتذہ اور نجی اداروں کے مالکان پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ وہ ماہانہ ہزاروں روپے فیسوں اور دیگر اخراجات کے نام پر حاصل کرتے ہیں،پہلے ہی تعلیمی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان موجود ہے خصوصا ًہائر ایجوکیشن اور اب پرائمری اور سیکنڈری تعلیم میں ایسا ہورہا ہے جس پر کسی طور اطمینان کا اظہار نہیں کیا جا سکتا۔وزیراعلیٰ پنجاب کو اس کا فوری نوٹس لے کر حالات کی بہتری کی تدبیر کرنی چاہیے۔

مزید :

رائے -اداریہ -