بے حسی ختم کر دیں، نقصان ہوگا!

  بے حسی ختم کر دیں، نقصان ہوگا!
  بے حسی ختم کر دیں، نقصان ہوگا!

  

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے دنیا کو آگاہ کیا کہ معمول سے کہیں زیادہ بارشوں کی وجہ سے پاکستان میں آنے والے سیلاب سے ملک کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے، پاکستان کو یہ صلہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ملا جس میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر عالمی راہنماؤں سے کہا کہ پاکستان کی کھلے دل سے مدد کی جائے کہ مالی بوجھ اتنا ہے کہ پاکستان کی برداشت سے باہر ہے۔ سیکریٹری اس اجلاس سے پہلے پاکستان کا دورہ کر کے گئے تھے اور انہوں نے خود متاثرہ علاقوں کا جائزہ لیا اور متاثرین سے ملاقاتیں بھی کی تھیں۔ انتوینوگوتریس کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن نے بھی اپنے خطاب میں سیلاب سے پاکستان کو ہونے والے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اس مرحلے پر پاکستان کو مدد کی ضرورت ہے جو کی جانا چاہئے۔ ترکی کے صدر اردوان نے تو پاکستان کے حقیقی دوست ہونے کا حق ادا کیا اور زبردست وکالت کی جبکہ امریکی وزیر خارجہ بلنکن نے امریکہ کی طرف سے بھرپور تعاون کا یقین عالمی بنک اور عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے بھی ایسے ہی احساسات کا اظہار کیا گیا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اس اجلاس میں یوں تو روس، یوکرائن جنگ پر بھی بات ہوئی۔ تاہم مجموعی طور پر پاکستان میں برساتی سیلاب سے ہونے والے نقصان پر بہت توجہ مرکوز رہی، اس سے احساس ہوتا ہے کہ اس مصیبت یا آفت کے دور میں دنیا نے خصوصاً ترقی یافتہ ممالک نے ہمارے ملک کو بھلایا نہیں۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور سائیڈ لائن پر ہونے والی ملاقاتوں میں بھرپور طریقے سے کیس پیش کیا آج (جمعہ) وہ جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب بھی کریں گے اور اپنے خطاب میں بھی سیلاب سے ہونے والے نقصان پر دنیا کی توجہ مبذول کرائیں گے۔ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی تقریر میں کشمیر کا بھی منطقی دلائل سے ذکر کریں گے اور بھارتی حکومت اور وہاں کے انتہا پسندوں کی طرف سے مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے خلاف جارحانہ اقدامات سے بھی دنیا کو آگاہ کریں گے وزیر اعظم کے وفد میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو بھی ہیں وہ بھی اس دوران بہت سرگرم عمل رہے اور انہوں نے ملکی مسائل سے کماحقہ آگاہی دی جبکہ دنیا کے مختلف ممالک کے نوجوان وزرا خارجہ کے ایک اجلاس میں شرکت اور خطاب بھی کیا یوں کہا جا سکتاہے کہ جنرل اسمبلی کے اس اجلاس کے موقع پر پاکستانی وفد کی طرف سے محنت کی گئی اور اس کا جواب بھی مثبت اہداف میں ملا۔

پاکستان سیلاب کی وجہ سے جس صورت حال سے دو چار ہے وہ بہت بڑا انسانی المیہ ہے۔ ساڑھے تین کروڑ افراد متاثر ہوئے۔ ہزاروں افراد وفات پا گئے اور زخمیوں کی تعداد بھی کم نہیں بارشیں رک جانے اور پانی اترنے کا عمل شروع ہونے کے باوجود ابھی تک بلوچستان اور سندھ کا بیشتر حصہ ڈوبا ہوا ہے جنوبی پنجاب کے اضلاع ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں بھی پانی موجود ہے اس سیلاب نے درجنوں دیہات صفحہ ہستی سے مٹا دیئے۔ پختہ مکانوں کو بھی بہت نقصان ہوا جبکہ فصلیں بھی تباہ ہو گئیں۔ اس پر گندم کی بوائی بھی خطرے میں ہے کہ کسان بھائیوں کے پاس نہ تو رقم اور نہ ہی آلات ہیں جبکہ پانی اتر جانے کے بعد بھی بوائی بھی تاخیر سے ممکن ہو گی۔ یوں اب اگر موجود فصلوں، سبزیوں اور پھلوں کا نقصان ہوا تو مستقبل میں بھی خوراک کی قلت اور کمی بہت بڑا مسئلہ ہو گی لاکھوں لوگ کھلے آسمان تلے پڑے اور وبائی امراض پھوٹ پڑے ہیں، یہ اتنا بڑا المیہ اور نقصان ہے کہ اس کی بحالی میں کثیر سرمایہ اور وقت خرچ ہوگا ابھی پوری طرح اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکا۔

یہ سب اپنی جگہ اور سب کو نظر بھی آ رہا ہے لیکن بے حسی کا یہ عالم ہے کہ سیاست گری کے انداز میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ محاذ آرائی نہ صرف جاری ہے بلکہ اس میں اور بھی شدت آ رہی ہے، افواہوں اور خبروں کا بازار گرم ہے۔ پس پردہ جو کچھ ہوا یا ہو رہا ہے اس کے بارے میں ناچیز کو بھی کچھ اطلاعات ملی ہیں۔ یہ درست ہے کہ صدر مملکت عارف علوی نے جو کوشش کی اس میں اہل الرائے کی مرضی بھی شامل تھیلیکن اس حوالے سے میڈیا کا کردار بہتر نہیں تھا کہ ایسی ایسی فیک خبریں چلیں جن کی وجہ سے نقصان ہوا بہر حال جب یہ خبریں گرم تھیں تب بھی میں نے یہی عرض کیا تھا کہ یہ بہت مشکل مرحلہ ہے جو ممکن نہیں ہوگا کہ ضد کا عنصر آخری حد تک شامل ہے، میں نے ہمیشہ قومی اتفاق رائے کی حمایت کی کہ ہمارے جیسے ملک کے لئے اندرونی استحکام کی ہی ضرورت ہے لیکن بدقسمتی سے حسرت ہی ہے کہ یہ خواب پورا ہو۔

حالات حاضرہ میں نہ چاہتے ہوئے بھی یہ عرض کرنے پر مجبور ہوں کہ محترم عمران خان نے جو رویہ اختیار کیا وہ ہرگز ایک ایسے بڑے راہنما کے شایان شان نہیں جو عوامی حمایت کا دعویدار ہے خان صاحب نے نہ صرف مسلسل جلسے جاری رکھے بلکہ اب تو باقاعدہ تحریک کا اعلان کیا ہے بظاہر ان کا مطالبہ عام انتخابات کا ہے تاہم اب یہ محسوس ہوتا ہے کہ پس پردہ مقاصد مختلف ہیں کہ موجودہ سیلابی کیفیت میں جب ملک کا ایک تہائی سے بھی بڑا حصہ پانی کی زد میں ہے متاثرین تین کروڑ اور گھروں سے بے گھر ہیں کوئی بتائے کہ سیلاب زدہ علاقے میں پولنگ سٹیشن کہاں بنیں گے اور کھلے آسمان تلے بھوک اور بیماریوں کا مقابلہ کرتے ہوئے رائے دہندگان کہاں اور کیسے ووٹ ڈالیں گے، محترم خان صاحب کو تو سب کچھ چھوڑ کر سیلاب زدگان کی مدد کرنا چاہئے۔ بلا شبہ انہوں نے تین بار ٹیلی تھون کی اور بقول خود تیرہ ارب روپے اکٹھے کئے یا وعدے ہوئے تاہم ان تیرہ ارب کا نہ تو حساب بتایا گیا اور نہ ہی ایک بار کے سوا محترم کسی متاثرہ علاقے میں نظر آئے البتہ کروڑوں کے خرچ سے جلسے کرتے چلے جا رہے ہیں اور اب انہوں نے تحریک کا اعلان کر دیا ہے دیکھنا ہے کہ کپتان کے ایک بڑے کھلاڑی علی زیدی جو باتیں بہت کر لیتے ہیں یقیناً وہ دادو کے دیہات میں سیلابی پانی میں جا کر ریلی نکالیں گے اب تو یہی کہہ سکتا ہوں کہ اللہ کا خوف کرو یہ کوئی انسانی ہمدردی اور ملک کی خیر خوا ہی نہیں کہ بے خانماں افراد کی مدد کرنے کی بجائے آپ ان کے مسائل میں اضافہ کریں کہ انتظامیہ جو پہلے ہی بدنام ہے آپ کی ریلیوں کی طرف متوجہ ہو جائے اور ان کو یہ موقع آپ مہیا کر دیں کہ وہ سیلاب زدہ علاقوں سے دور ہو جائیں جہاں بھوک، افلاس اور بیماریاں ہیں۔

کہنے کو بہت کچھ ہے ایک بار پھر اپیل کروں گا کہ حالات کا حقیقی تجزیہ کریں اور انسانی ہمدردی کو اجاگر کریں۔ یہ امر بھول جائیں کہ آپ اس انداز سے ان حضرات کو خوفزدہ کر لیں گے جن کو القابات سے نوازتے رہتے ہیں اور مجھے یہ بھی یقین ہے کہ آپ کی حمایت کا احساس ہوتے ہوئے بھی اعلیٰ عدلیہ انصاف کر دے گی۔ انصافیوں سے گزارش ہے کہ وہ عمران خان کو انسان ہی رہنے دیں ان کو دیوتا نہ بنائیں کہ یہ انہی کے لئے نقصان دہ ہوگا۔ تحریک انصاف کے اندر کیا ہے یہ بھی بہت لوگوں کے علم میں ہے اس پر پھر بات کریں گے۔

مزید :

رائے -کالم -