کوئی ترتیب،کوئی تنظیم؟ 

 کوئی ترتیب،کوئی تنظیم؟ 
 کوئی ترتیب،کوئی تنظیم؟ 

  

 سکول کے زمانے میں ایک کہانی پڑھی تھی کہ کس طرح پرندے قطار بنا کر اڑتے ہیں،اونٹ قطار بنا کر سفر کرتے ہیں حتیٰ کہ چیونٹیاں بھی قطار بنا کر چلتی ہیں۔ کہانی بیان کرنے والے کا مقصد یہ بتانا اور سکھانا تھا کہ اپنے روزمرہ کے معاملات میں ترتیب اور تنظیم کو شامل کر لیں تو زندگی آسان ہو جاتی ہے اور مشکل کام بھی آسانی سے اور بہتر انداز میں کئے جا سکتے ہیں۔ ہمارا مذہب بھی ہمیں ترتیب اور تنظیم کے ساتھ چلنے کی تلقین کرتا ہے۔ لیکن افسوس کہ ہم نے نصابی کتب سے کچھ سیکھا اور نہ ہی مذہبی تعلیمات کو سنجیدگی سے لیا۔ نتیجہ یہ کہ آج ہماری پوری قومی زندگی بے ڈھنگی ہو چکی ہے،بے ربط،غیر مرتب اور بے حد غیر منظم۔ میری بات کا یقین نہ آئے تو ایک نظر سڑکوں پر دوڑتی ٹریفک پر ڈال لیں، کہیں کوئی ترتیب،تنظیم نظر آ جائے تو مجھے بتائیے۔ ٹریفک جام یورپ اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں بھی ہوتے ہیں لیکن مجال ہے کہ کوئی گاڑی اپنی لین سے باہر نظر آئے،چاہے میلوں تک ہی لائن کیوں نہ بنانا پڑے اور پھر کوئی بھی ہارن نہیں دے گا،

سب کو معلوم ہوتا ہے اور اس امر کا ادراک کہ آگے کوئی مسئلہ ہے جس کی وجہ سے ٹریفک بلاک ہے۔ ہمارے ہاں تھوڑی سی بھی ٹریفک کہیں پھنس جائے تو ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ وہ نکل جائے،پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ جو بھی ہو،اس کی بلا سے پوں پوں،پاں پاں کی ایسی ایسی بلند آہنگ آوازیں آتی ہیں کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی،یہ سب ٹریفک سینس نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔ ٹریفک وارڈن زیادہ تر موٹر سائیکل والوں کو گھیرے ان کے چالان کاٹتے نظر آتے ہیں انہیں اس بات کی پروا کم ہی ہوتی ہے کہ ٹریفک کے معاملات کیسے چل رہے ہیں،ان کے طرزِ عمل سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انہیں چالانوں کی کوئی مقررہ تعداد پوری کرنے کا ہدف ملا ہو۔ ہمارے ہاں ٹریفک مسائل میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ہر بڑے شہر میں گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں ہر روڈ پر نظر آتی ہیں،اور یہ سلسلہ اتنا دراز ہوتا ہے کہ منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہو پاتا ہے، یوں بچے سکول دیر سے پہنچتے ہیں اور بڑے اپنے کاموں پر بر وقت نہیں پہنچ پاتے،ان ٹریفک جامز کی بڑی وجہ منظم ٹریفک پلاننگ کا نہ ہونا ہے،لیکن لوگوں میں ٹریفک اور سڑکوں کے استعمال کے بارے میں شعور کی کمی بھی اصلاحِ احوال کے آڑے آتی ہے۔ ٹریفک قواعدکی پاسداری ہمارے عوام کرتے ہی نہیں اور پھر خود ہی اس کے نتائج بھی بھگتتے ہیں عوام میں ٹریفک سینس کی کمی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ جہاں ٹریفک کسی وجہ سے بلاک ہو،موٹر سائیکل سوار آگے جا جا کر وہیں اپنی موٹر سائیکلیں لگاتے جاتے ہیں،جہاں سے بلاک ہوئی ہوئی ٹریفک نے کھلنا ہوتا ہے۔

پھر کوڑا (سالڈ ویسٹ) اکٹھا کرنے والوں کو دیکھ لیں،عین اس وقت جب بچے سکول جا رہے ہوتے ہیں اور بڑے اپنے اپنے کام کی جگہوں اور دفتروں کی طرف رواں دواں ہوتے ہیں،یہ لوگ کوڑا سمیٹ رہے ہوتے ہیں اور ٹریفک کے بہاؤ میں رکاوٹ بن رہے ہوتے ہیں۔ جب سالڈ ویسٹ کنٹینروں میں سے گاڑیوں میں منتقل کیا جا رہا ہوتا ہے تو  ظاہر ہے اس سے تعفن بھی پھیلتا ہے،وہاں سے گزرنے والے پتا نہیں کتنی بیماریوں کے جراثیم لے کر آگے جاتے ہوں گے، کچھ ایسا ہی معاملہ مرغیاں دکانوں پر سپلائی کرنے والوں کا ہے۔ صبح صبح وہ بھی سڑکوں پر اور گلی محلوں میں مرغیوں سے بھری گاڑیاں بھگا رہے ہوتے ہیں اور اس طرح تعفن کے ساتھ ساتھ بیماریاں بھی پھیلا رہے ہوتے ہیں۔ اب جو بھی ان گاڑیوں کے پیچھے پیچھے آئے گا لا محالہ اس کا تو حشر ہو جائے گا۔ ساری تیاری دھری کی دھری رہ جائے گی،بلکہ رہ جاتی ہے۔ ہم آج تک یہ سسٹم ہی نہیں بنا سکے کہ پولٹری کی سپلائی رات کے وقت کی جائے یا لوگ اپنے گھروں کا کوڑا کرکٹ شام کے وقت گھروں سے باہر رکھیں یا مختص کردہ کنٹینروں میں ڈالیں اور رات کی شفٹ میں یہ ویسٹ اٹھا لیا جائے اور جب صبح کے وقت بچے سکولوں و کالجوں کو جائیں اور بڑے دفتروں کو روانہ ہوں تو انہیں صاف ستھرا شہر دیکھنے کو ملے۔ ان کی طبیعت خوش گوار رہے اور وہ اپنے روزمرہ کے کام خوش اسلوبی سے سرانجام دے سکیں۔

ہمارے بازاروں کی حالت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ سو فٹ کا بازار ہوتا ہے لیکن دکان داروں نے تجاوزات کر کر کے اسے دس پندرہ فٹ میں تبدیل کر دیا ہوتا ہے۔ اس طرح گزرنے کا راستہ اس قدر تنگ ہو جاتا ہے کہ کھوے سے کھوا چھلتا ہے اور اگر زیادہ مسئلہ پیدا ہو جائے تو بات لڑائی جھگڑے تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ بینکوں اور کچھ سرکاری دفتروں میں اب جدید سسٹم نصب کئے جانے کے سبب حالات کچھ بہتر ہیں اور لوگ اپنی باری کا انتظار کر لیتے ہیں ورنہ تو ہر کوئی بس اپنا کام نکالنے کی کوشش میں ہوتا ہے۔

اس لمبی چوڑی تہمید کا مقصد یہ ہے کہ عوام کو بھیڑ بکریوں کا ریوڑ بنانے کی بجائے ان کو منظم بنانے اور مرتب کرنے پر بھی توجہ دی جانی چاہئے۔ معذرت کے ساتھ اور نہایت ادب کے ساتھ عرض ہے کہ کیا کسی سکول میں بچوں کو عملی تربیت کے لیے کبھی سڑک پر لایا گیا؟ انہیں کبھی یہ بتایا گیا کہ ٹریفک سگنلز کیا ہوتے ہیں اور ان کا مقصد کیا ہے؟ کیا انہیں کبھی یہ سکھایا گیا کہ سڑک کیسے پار کرتے ہیں اور سڑک پر جو پیلے رنگ کی مسلسل لائنیں ہوتی ہیں ان کا کیا مطلب ہے اور سفید لائنیں کس مقصد کے لیے لگائی گئی ہیں۔ کیا انہیں کبھی کسی نے بتایا کہ لائن اور لین میں کیا فرق ہے اورگاڑی چلاتے ہوئے لین تبدیل کرنے کی ضرورت ہو تو کیسے کی جائے؟ ان معاملات پر توجہ نہ دینے کا نتیجہ ہے کہ آج ہمیں سڑکوں پر ریوڑ نظر آتے ہیں جن میں ٹریفک سینس کا شائبہ تک نظر نہیں آتا۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کب تک چلے گا؟ زندگی میں ترتیب،تنظیم اور ربط قائم کئے بغیر ہم اقوام عالم کے شانہ بشانہ کیسے آگے بڑھ سکیں گے؟ 

مزید :

رائے -کالم -