نجی تعلیمی اداروں کے سکولوں کو ایک ہفتہ کے اندر کھولنے کی ڈیڈ لائن 

نجی تعلیمی اداروں کے سکولوں کو ایک ہفتہ کے اندر کھولنے کی ڈیڈ لائن 

  

      پشاور (سٹی رپورٹر)نجی تعلیمی اداروں کی تنظیمات نے حکومت کو ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا ہے کہ  یونیورسٹی تاؤن کے سیل تعلیمی ادارے ایک ہفتے کے اندرنہ کھولے گئے تو  صوبہ بھر میں تمام نجی تعلیمی ادارے بند کر کے احتجاجی تحریک کا آغاز کرینگے، پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن (پیما) کے چیرمین نذر حسین نے این ای سی ساوتھ کے چیرمین محمد اقبال، پی ایس اے کے صدر احمد علی درویش اور حیات اباد اسکولز ایسوسی ایشن کی چیرپرسن سیما جمیل کے ہمراہ  پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے یونیورسٹی ٹاون پشاور میں قائم سینکڑوں تعلیمی اداروں کو سیل کر کے تقریبا 25ہزار  طالب علموں کا مستقبل داو پر لگادیا ہے،صوبائی حکومت کے پاس ہزاروں بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لئے کوئی متبادل انتظام نہیں،نہ ہی حکومت کے پاس متبادل تعلیمی ادارے کھولنے کے لئے وسائل دستیاب ہیں، نذر حسین نے کہا کہ صوبائی حکومت خود ہی ان تعلیمی اداروں کو پہلے محکمہ تعلیم، تعلیمی بورڈ اور پی ایس آر اے کے پاس باقاعدہ فیس لے کر  اور رجسٹریشن دلا کر ان اداروں کو تعلیمی سرگرمیوں جاری رکھنے کی اجازت دی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ یہ بات درست ہے کہ رہائشی علاقوں میں تعلیمی سرگرمیاں خلاف قانون ہیں، لیکن ان علاقوں بھی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنا بھی معاشرے کے لئے بیحد ضروری ہے،بدقسمتی سے ہمارے ملک میں حکومتی سطح پر سکول جانے کی عمر کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنیکے مواقع پوری طرح  فراہم نہیں  کئے جارہے، لہذا نجی شعبہ تعلیم کے فروغ میں حکومت کی معاونت کر رہا ہے۔پریس کانفرنس سے خطاب رکتے ہوئے سیما جمیل اور دیگر نے کہا عدالت عالیہ سے عاجزانہ اپیل کرتے ہیں کہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر کے تعلیمی اداروں کو ان سیل کرادے، انہوں نے کہا کہ اج سکولوں کی بندش کی وجہ سے گرمی کے موسم میں معصوم بچے فٹ پاتھوں پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور  ہیں، انہوں نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ کے قانون کا ایک مخصوص علاقے پر نفاذ ائین اور قانون کی خلاف ورزی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ نجی تعلیمی ادارے اس ملک اور صوبے میں علم کی روشنی پھیلانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی اور تجارتی سرگرمیوں میں فرق کرے، انہوں نے اعلان کیا کہ وہ بہت جلد پشاور ہائی کورٹ میں فیصلے پر نظرثانی کے لئے درخواست بھی دائر کرینگے،انہوں نے امید ظاہر کی کہ پشاور ہائی کورٹ ہزاروں بچوں کی تعلیم کے ضیاع کو مد نظر رکھ کر اپنے فیصلے پر نظرثانی کریگا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -