راج کرُو گا خالصہ

   راج کرُو گا خالصہ
   راج کرُو گا خالصہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  کینیڈا کی سرزمین پر خالصتان تحریک کے سرگرم رہنما ہردیپ سنگھ نجر کا قتل عالمی معاملہ بن گیا ہے، رواں ہفتے یہ معاملہ بین الاقوامی حیثیت اس وقت اختیار کر گیا جب کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے ہر دیپ سنگھ کے قتل میں بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے انڈین سفارتکار کو ملک بدر کر دیا۔جسٹن ٹروڈوکا کہنا تھا کہ کینیڈا کی سر زمین پر کینیڈین شہری  کے قتل میں کسی دوسری حکومت کا ملوث ہونا نا قابل قبول اورہماری خود مختاری کی خلاف ورزی ہے۔

رقبے کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے بڑے ملک کینیڈا میں سکھوں کا ”غلبہ“ اور بھارتیہ سرکار کی سکھ برادری کے ساتھ ”کشیدگی“ آج کی بات نہیں۔بھارت میں اس کا آغاز ”تحریک خالصتان“ سے ہواجب سکھ قوم نے بھارتی پنجاب کو بھارت سے الگ کر کے ایک آزاد سکھ ملک بنانے کی جدوجہد شروع کی۔80ء کی دہائی میں ”خالصتان“ کے حصول کی تحریک زوروں پر تھی، جسے بیرون ملک مقیم سکھوں کی مالی اور اخلاقی مدد حاصل تھی۔جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے شمال مغربی ریاست پنجاب میں ”دمدمی ٹکسال“ نامی تنظیم کے سرگرم لیڈر تھے، جنہوں نے بھارت میں سکھوں پر ہونے والے مظالم کے بعد الگ ریاست کی جدوجہد شروع کر دی۔ 1983ء میں بھارتی حکومت سے لڑائی کے دوران جرنیل سنگھ اور ان کے پیش روؤں نے امرتسر میں سکھوں کے سب سے مقدس ترین مقام گولڈن ٹیمپل (دربار صاحب) میں پناہ لے لی۔عسکری ماہرین کے مطابق یہی فیصلہ تحریک کو تباہ کرنے کی وجہ بنا، جرنیل سنگھ کو گولڈن ٹیمپل میں پناہ لے کر لڑنے کی بجائے بھارتی فوج سے گوریلا طرز کی لڑائی لڑنی چاہئے تھی، کیونکہ جرنیل سنگھ کے پاس موجود اسلحے اور ساتھیوں کا بھارتی فوج کی تعداد اور اسلحے سے کوئی مقابلہ نہیں تھا ایسے میں دو بدو لڑنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ بھارتی حکومت نے گولڈن ٹمپل کو اسلحہ خانے کے طور پر استعمال ہونے اوراسے عسکریت پسندوں اور مطلوب مجرموں کی پناہ گاہ قرار دیتے ہوئے کارروائی کا فیصلہ کیا۔8 جون 1984ء کو بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے حکم پر فوج نے ”آپریشن بلیو سٹار“ کے ذریعے سکھوں کی علیحدگی پسند تحریک ”خالصتان“ کو کچل ڈالا۔اکنامک ٹائمز کے مطابق گولڈن ٹیمپل پر ہونے والے اس آپریشن میں 800 سکھ جنگجو اور 200 بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے۔اس واقعہ کے بعد اندرا گاندھی سمیت تمام وی آئی پیز کی حفاظت پر مامور سکھ اہلکاروں کو ہٹا دیا گیا، تاہم اندرا گاندھی نے سیکیورٹی اداروں کے کہنے کے باوجود سیکیورٹی سکواڈ میں موجود اپنے با اعتماد دو سکھ اہلکاروں کو ہٹانے سے منع کر دیا،جس کا نتیجہ اندرا گاندھی کے اندو ہناک قتل کے نتیجے میں برآمد ہوا۔”آپریشن بلیو سٹار“ کے صرف ساڑھے چار ماہ بعد 31 اکتوبر 1984ء صبح 9 بجے اندرا گاندھی ون صفدر یار جنگ روڈ پر واقع اپنی رہائش گاہ کے گیٹ سے باہر نکلتی ہیں جن کا رخ اپنے سرکاری دفتر کی جانب تھا۔اپنے سیکرٹری آر کے دھاون سے باتیں کرتے ہوئے جیسے ہی پھاٹک تک پہنچتی ہیں تو دو سکھ محافظ تیزی سے ان کی لپکتے ہیں، ان میں آگے والے ”بینت سنگھ“ نامی گارڈ نے پستول نکال کر اس کا رخ بھارتی وزیراعظم کی طرف کر کے گولی چلا دی۔ وہ جیسے ہی نیچے گریں تو دوسرے سیکیورٹی گارڈ ستونت سنگھ نے ان پر سٹین گن کی گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ چند ہی لمحوں میں اندرا گاندھی کا خون آلود جسم گیٹ کے ساتھ زمین پر بنے ہوئے راستے پر پڑا تھا۔ بینت سنگھ پنجابی میں چلایا ”ہم نے جو کرنا تھا وہ کر دیا، اب تمہیں جو کرنا ہے وہ کر لو“۔دھاون نے گھائل اندرا گاندھی کو کار میں ڈال کر ہسپتال پہنچایا تاہم وہ آپریشن تھیٹر میں پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ چکی تھی۔ شام چار بجے کے سرکاری اعلان میں اندرا گاندھی کی موت کی تصدیق کر دی گئی۔

سکھوں کے ہاتھوں اندرا گاندھی کی موت دراصل ”آپریشن بلیو سٹار“ کا انتقام تھا، سکھوں کو اس بات کا بھی رنج تھا کہ بھارتی فوج ”بوٹوں“سمیت ان کی مقدس ترین عبادت گاہ میں کیوں داخل ہوئی؟ اس قتل نے سارے ہندوستان کو ہلا کر رکھ دیا۔ دہلی میں سکھوں کے خلاف پُرتشدد فسادات پھوٹ پڑے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف دہلی میں تین ہزار سکھ قتل کر دیئے گئے۔ انتقام اور نفرت کی لہر اس قدر شدید تھی کہ مشہور قلم کار خشونت سنگھ اورجنرل جے ایس اروڑا جیسے نامور سکھوں کو بھی اپنا گھر چھوڑ کر کسی دوسری جگہ چھپنا پڑا۔آج 39 برس گزرنے کے باوجود سکھوں کے دلوں میں ان کے مقدس ترین مقام کی بے حرمتی کا زخم تازہ ہے۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس نے آج تک بھارتیہ سرکار اور سکھوں کو آپس میں قریب نہیں آنے دیا، آپریشن بلیو سٹار آج بھی دونوں کے درمیان حائل ہے اور ”خالصتان“ تحریک آج بھی بھارتی پنجاب اور کینیڈا سمیت دنیاکے ہر اس حصے میں کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے جہاں سکھ موجود ہیں۔

بھارتی نژاد کینیڈین شہری ہر دیپ سنگھ نجر کا قتل بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے،جنہیں 18 جون 2023 ء کو اتوار کی شام برٹش کولمبیا کے قصبے سرے میں گرو دوارہ نانک صاحب کی پارکنگ میں دو نقاب پوش افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا، پولیس نے مرنے والے کی شناخت گرو دوارے کے صدر ہر دیپ سنگھ نجر کے طور پر کی۔تاہم اب اس واقعے کے تین مہینے بعد کینیڈا کی انتہائی با اثر سکھ برادری کے شدید دباؤ پر کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈونے اس قتل کا شبہ بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ پر ظاہر کرتے ہوئے بھارتی سفارتی اہل کار کو ملک بدر کر دیا ہے، جس پر بھارت نے بھی شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے دہلی میں کینیڈین سفارکار کو اپناسامان باندھنے کی ہدایت کر دی ہے۔ بھارتی حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ کینیڈین وزیراعظم اپنے ملک میں ”علیحدگی پسندی“ کو فروغ دے رہے ہیں۔ کینیڈا میں سکھوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب جسٹن ٹروڈو نے اپنی پہلی کابینہ تشکیل دی تو اس میں چار سکھ وزراء کو بھی شامل کیا،سکھوں کے ساتھ رواداری کے باعث کینیڈا کے وزیر اعظم کو ”جسٹن سنگھ ٹروڈو“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔بھارتی حکومت اور سکھوں کے مابین چار دہائیوں پر مشتمل یہ لڑائی آج بھی جاری ہے۔آج کے موجودہ دور میں بی جے پی کی حکومت میں سکھوں پر مظالم اور بڑھ گئے ہیں، مودی حکومت نے مشرقی پنجاب کے سکھ کسانوں پر نئے قانون کے ذریعے ان کو معاشی طور پر کمزور کرنے کی کوشش کی، جبکہ دوسری جانب اب سکھ قوم کے نوجوان بھارت سے آزادی کے لئے کوششیں کر رہے ہیں۔ 

مزید :

رائے -کالم -