فاطمہ ہلاکت کیس میں نامزد ملزم پیر فیاض شاہ کو بھی بالآخر گرفتار کرلیاگیا

فاطمہ ہلاکت کیس میں نامزد ملزم پیر فیاض شاہ کو بھی بالآخر گرفتار کرلیاگیا
فاطمہ ہلاکت کیس میں نامزد ملزم پیر فیاض شاہ کو بھی بالآخر گرفتار کرلیاگیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

خیر پور (ویب ڈیسک) خیرپور پولیس نے 10 سالہ کمسن بچی فاطمہ کی ہلاکت کے مقدمے میں نامزد پیر فیاض شاہ کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔خیرپور پولیس کے مطابق پیر فیاض شاہ کو پیر اسد شاہ کی حویلی سے پریس کانفرنس کرنے کے بعد روانگی کے وقت حراست میں لیا گیا۔

گرفتاری سے قبل پریس کانفرنس میں پیر فیاض شاہ کا کہنا تھا کہ فاطمہ ایک ذہین اور شریف بچی تھی، اس کی موت کا بہت دکھ ہے، اس کے لواحقین سیاسی افراد کے کہنے پر الزامات لگا رہے ہیں، رانی پور درگاہ کو سیاسی طور پر ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ آئی جی سندھ اور دیگر ادارے معاملے کی شفاف انکوائری کریں۔

جیو نیوز کے مطابق پیر فیاض شاہ پر الزام ہے کہ فاطمہ کے والدین نے بچی کو اس کے گھر کام کاج کیلئے رکھوایا لیکن فیاض شاہ نے اپنے گھر رکھنے کے بجائے اپنی بیٹی حنا شاہ کے حوالے کردیا جبکہ فیاض شاہ پر ملزمہ حنا شاہ کو فرار کرانے کا بھی الزام ہے۔پیر فیاض شاہ نے دو روز قبل سندھ ہائیکورٹ حیدرآباد بینچ سے عبوری ضمانت حاصل کی تھی، اس کیس میں پیر فیاض شاہ کا داماد پیر اسد شاہ پہلے ہی گرفتار ہے جبکہ ایک سہولت کار بھی پولیس کی تحویل میں ہے۔

پیر فیاض شاہ کی بیٹی اور اسد شاہ کی بیوی حنا شاہ روپوش ہے جس کی عبوری ضمانت کے حوالے سے سندھ ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر رکھا ہے۔