جسٹس(ر) کے ایم اے صمدانی مرحوم کی یاد میں

جسٹس(ر) کے ایم اے صمدانی مرحوم کی یاد میں
جسٹس(ر) کے ایم اے صمدانی مرحوم کی یاد میں

  

جسٹس کے ایم اے صمدانی مرحوم کا نام عدلیہ کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا، انہیں عزت، احترام اور روشن مثال کے طور پر پیش کیا جاتا رہے گا۔آپ گزشتہ مہینے اس جہان فانی سے رخصت ہوگئے، انہیں بونیر ضلع سوات میں اپنے مرشد کے پہلو میں دفن کردیا گیا۔زیادہ علیل ہوئے تو اپنی اہلیہ اور بیٹے مصطفی سے کہا کہ مجھے بونیر لے چلو۔وہاں پہنچنے کے ایک ہفتہ بعد خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ آپ نے سوگواران میں ایک بیوہ، تین بیٹیاں اور ایک بیٹا چھوڑا ہے۔آپ کے بچے امریکہ میں مقیم ہیں، لیکن آپ کی بیوہ نے اپنی زندگی ویلفیئر کے کاموں کے لئے وقف کررکھی ہے۔آپ انمول ہسپتال لاہور میں کینسر کے مریضوں کی مدد میں دن رات مصروف رہتی ہیں اور بونیر میں تعلیمی ادارہ بھی قائم کررکھا ہے۔ صمدانی صاحب کی وفات کے بعد آپ کا خاندان غم سے نڈھال ہے۔ان کے گھر میں ہر مکتبِ فکر کے لوگ افسوس کے لئے آ رہے ہیں۔ ججز اور وکلاءکا تو تانتا بندھا ہوا ہے۔

مرحوم نے عملی زندگی کا آغاز گورڈن کالج راولپنڈی سے بطورڈیمانسٹریٹر کیا.... بعدازاں سول سروس کا امتحان پاس کیا۔بطور اسسٹنٹ کمشنر راولپنڈی تعینات ہوگئے۔پھر جوڈیشری میں چلے گئے اور ترقی کرتے ہوئے ہائیکورٹ کے جج تعینات ہوئے۔کئی جج آئے اور چلے گئے، لیکن چند جج ایسے ہیں جو تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں، ان میں جسٹس( ر) صمدانی مرحوم کا نام بھی شامل ہے۔ جسٹس صمدانی مرحوم بہت نحیف اور کمزور تھے، لیکن ان کی آواز گرج دار اور بارعب تھی، انہیں شہرت بطور جج لاہور ہائیکورٹ مشہور زمانہ نواب محمد احمد خان قتل کیس میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی ضمانت لینے پر ملی۔یہ اس دور کی بات ہے جب ذوالفقار علی بھٹو قتل کے کیس میں پابند سلاسل تھے۔ان کی پارٹی کے کئی اہم رہنما پارٹی کا ساتھ چھوڑ چکے تھے۔

راقم کو آپ نے بتایا تھا کہ بھٹو کی ضمانت مَیں نے میرٹ پر لی تھی اور فیصلہ روٹین میں کیا تھا،جیسے ایک نارمل جج کرتاہے۔اس بات کا بالکل اندازہ نہیں تھا کہ یہ کیس آپ کی شہرت کا باعث بنے گا۔جنرل ضیاءالحق اور ان کی ٹیم کو سخت رنج ہوا۔پی سی اوآیا تو وہ حلف نہ اٹھانے کی پاداش میں گھر بھجوا دیئے گئے۔ اس طرح زندگی کا رخ تبدیل ہوگیا اور واپس پیشہ وکالت کو اختیار کرنا پڑا۔ ایک سی ایس پی آفیسر اور ہائیکورٹ کے ایماندار جج کی حیثیت سے کام کرکے نام کما چکے تھے،لیکن پیشہ ءوکالت کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں،سو 1981ءمیں لندن روانہ ہوگئے اور پانچ سال تک پرائیویٹ ملازمت کرنے کے بعد واپس آئے۔پھر 1986ءمیں لاہور میں باقاعدہ وکالت شروع کردی۔آپ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن میں تشریف بھی لائے تو وکلاءبرادری نے انہیں خوش آمدید کیا اور 1987ء میں لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر منتخب ہوگئے۔اپنے دور میں وکلاءکی ویلفیئر کے لئے کام کیا۔تادم حیات اس پیشے سے منسلک رہے۔1988ءمیں جب محترمہ بے نظیر بھٹو وزیراعظم منتخب ہوئیں تو آپ کو چیف جسٹس بننے کی آفر کی، لیکن آپ نے انکار کردیا۔ ٭

مزید :

کالم -