بند گلی میں نہ جائیں

بند گلی میں نہ جائیں
بند گلی میں نہ جائیں
کیپشن: pic

  

ذرا سی بے احتیاطی کیا گل کھلاتی ہے اس کا نظارہ ہم سب دیکھ رہے ہیں۔ میڈیا کو ایسے ہی مملکت کا چوتھا ستون نہیں کہتے وہ چاہے تو ریاست کو ہلا کر رکھ دے۔ بدقسمتی سے حامد میر پر حملے کے بعد جو آگ بھڑکی ہے وہ پھیلتی ہی جا رہی ہے۔ اس آگ پر پانی ڈالنے کی کوئی کوشش نظر آ رہی ہے اور نہ ہی مسئلہ کو دانشمندانہ طریقے سے حل کرنے کی خواہش ہی دکھائی دے رہی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جو بے احتیاطی ایک نجی چینل کی طرف سے ہوئی، وہ اب ریاست کے باقی ستون بھی کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں حکومت کو ایک ایسی قوت کے طور پر اُبھرنا چاہئے تھا جو مسئلے کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ وہ توازن بھی برقرار نہیں رکھا گیا جو ایسے حالات میں اشد ضروری ہوتا ہے۔ خود وزیر اطلاعات اور وزیر داخلہ اس معاملے میں تقسیم نظر آتے ہیں۔ دونوں کے خیالات ہی نہیں ملتے۔ ابھی کوئی ایسا موقع آیا ہی نہیں کہ جہاں وزیر اطلاعات کو یہ کہنا پڑے کہ سب جانتے ہیں ہم کس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جب یہ طے ہی نہیں ہوا کہ حامد میر پر حملہ کس نے کیا یا کرایا ہے تو وزیر اطلاعات پرویز رشید نے اپنا جھکاﺅ ایک طرف کو کیوں ظاہر کیا؟ اُنہیں اتنی تو خبر ہونی چاہئے تھی کہ اس وقت اس واقعہ کے حوالے سے ایک چینل اور آئی ایس آئی متحارب کھڑے ہیں۔ ایسے میں ان کا یہ بیان کہ ہم میڈیا کے ساتھ ہیں بے احتیاطی کے زمرے میں آتا ہے۔ اُنہیں وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی طرح ایک متوازن موقف اختیار کرنا چاہئے تھا۔ حامد میر پر حملہ قابل مذمت ہے لیکن اس کی آڑ میں قومی اداروں کے خلاف الزام تراشی کی مہم کسی بھی طرح جائز قرار نہیں دی جا سکتی۔

یہ بات خطرناک ہے کہ حکومت اپنے ہی ایک ادارے کا دفاع کرنے میں کھل کر سامنے نہیں آئی۔ اگر پہلے ہی دن حکومت آئی ایس آئی کو حملے میں ملوث کرنے کے موقف کو پر زور الفاظ میں مسترد کرتی اور جو کچھ آٹھ گھنٹے چلتا رہا اسے رکواتی تو معاملات اس حد تک نہ بگڑتے۔ تاثر اس وقت خراب ہوا جب آئی ایس آئی کے چیف پر الزام کو رد کرنے کے لئے آئی ایس پی آر کو سامنے آنا پڑا۔ یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ حکومت کو اس لڑائی سے کوئی غرض نہیں اور وہ خاموشی سے تماشا دیکھ رہی ہے۔ وزیر اعظم نوازشریف حامد میر کی عیادت کے لئے ہسپتال گئے تو باہر آکر انہوں نے حملے کی مذمت بھی کی اور ملزموں کی گرفتاری کا عزم بھی ظاہر کیا، مگر اس واقعہ میں آئی ایس آئی کو ملوث کرنے کے حوالے سے کچھ نہیں کہا۔ وزیر اعظم کی اس لاتعلقی پر مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین کو یہ مطالبہ کرنا پڑا کہ وزیر اعظم اپنے ایک ادارے کا دفاع کریں اور اسے بدنام کرنے کے لئے چلائی جانے والی مہم کا نوٹس لیں۔ اُدھر وزارت دفاع نے جیو کے خلاف پیمرا کو ریفرنس بھیج دیا ہے۔ جس میں قومی ادارے کے خلاف بے بنیاد الزامات لگانے پر جیو چینل کے خلاف کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔ ایک طرف حکومت سپریم کورٹ کے 3 ججوں پر مشتمل ایک جوڈیشل کمشن قائم کر چکی ہے اور دوسری طرف وزارتِ دفاع نے پیمرا کو کارروائی کے لئے درخواست دیدی ہے۔ کیا یہ سب کچھ جلد بازی میں ہو رہا ہے؟ جوڈیشل کمشن کی رپورٹ آنے سے پہلے کسی فریق کے خلاف کیسے کارروائی ہو سکتی ہے۔ لگتا یہی ہے کہ بالآخر اس معاملے نے اعلیٰ عدالتوں میں جانا ہے۔ ایسا ہونے کی صورت میں ریاست کا ایک اور ستون یعنی عدلیہ بھی اس مسئلے میں ایک فیصلہ کن فریق کے طور پر شامل ہو جائے گی۔ اس ساری مشق کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ہم ایک بار پھر کسی سازش کا شکار ہونے جا رہے ہیں۔ افسوس کہ ہمارے ادارے ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں، یہ نہیں سوچتے کہ کوئی ہمارا مشترکہ دشمن بھی ہو سکتا ہے، جس نے یہ سازشی بساط بچھائی ہو۔

حامد میر سے میری ہمدردی بڑھتی جا رہی ہے۔ وہ بیچارا 6 گولیاں کھا کر بستر پر پڑا ہے اور یہاں اس کے کیس کو بھول کر معاملات کس طرف چلے گئے ہیں۔ حامد میر پر حملہ کس نے کیا، اس بارے میں کِسی کے پاس بھی کوئی دو ٹوک جواب نہیں ہے۔ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی بجائے بات اس نکتے پر آکر رک گئی ہے کہ ایک ادارے کو کیوں ہدف بنایا گیا اور اس کے پس پردہ محرکات کیا تھے۔ اس ابہام زدہ فضا میں حامد میر کا تشخص بھی بُری طرح مجروح ہوا ہے۔ بعض حلقے ان کی حب الوطنی پر بھی انگلیاں اٹھا رہے ہیں اور ان کے مخصوص ایجنڈے کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ جس شخص کو آج بسترِ علالت پر پڑے ہوئے قوم کی بلا شرکت غیرے حمایت حاصل ہونی چاہئے تھی، ایک متنازعہ شخصیت بنا دیا گیا ہے۔ ایسا کس نے اور کیوں کیا، اس پر بھی غور ہونا چاہئے۔ کیا عجیب مرحلہ ہے کہ جیو ٹی وی کے ڈاکٹر عامر لیاقت کو اپنے پروگرام میں یہ انکشاف کرنا پڑتا ہے کہ جب حامد میر کو گولیاں لگیں تو بقول ڈرائیور انہوں نے کلمہ طیبہ پڑھا اور اس کے بعد ”پاکستان زندہ باد“ ”پاکستان زندہ باد“ کے نعرے لگاتے رہے۔ ایک ایسی بات کہ جسے کوئی ڈرامہ نگار بھی لکھتے ہوئے سو بار سوچے، اسے ڈاکٹر عامر لیاقت نے کتنی سادگی میں بیان کر دیا ہے۔ حامد میر کیا کسی محاذِ جنگ پر کھڑے تھے کہ انہیں زخمی حالت میں یہ نعرہ لگانے کی ضرورت پیش آ گئی بقول راوی وہ ہسپتال تک گاڑی میں بیٹھے ”پاکستان زندہ باد“ کا نعرہ لگاتے رہے۔ میرے نزدیک تو ڈاکٹر عامر لیاقت سے یہ قسط اس لئے چلوائی گئی کہ آئی ایس آئی کو ملوث کرنے کے بعد حامد میر کے بارے میں جو منفی پروپیگنڈہ شروع کیا گیا ہے، اس کا توڑ کرنا مقصود تھا۔

حالات کے اس تلاطم میں حکومت کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے۔ اس میں تو کسی کو کوئی شک رہنا نہیں چاہئے کہ فوج بطور ادارہ متحد کھڑی ہے۔ پہلے فوج کے بارے میں جو کچھ کہا جاتا تھا، اس کا ردعمل عمومی نوعیت کا ہوتا تھا۔ آئی ایس پی آر کی طرف سے چار سطری وضاحت آ جاتی تھی اور معاملہ ٹھپ ہو جاتا تھا۔ اب حالات بدل چکے ہیں فوج کی طرف سے اب صرف وضاحت نہیں آتی، ایک بھرپور ردعمل بھی آتا ہے۔ ابھی کچھ ہی دن پہلے ہمارے وزیر دفاع خواجہ آصف اوروزیرریلوے خواجہ سعد رفیق نے فوج کے بارے میں سخت زبان استعمال کی تو فوج کے اعلیٰ افسروں نے ایک اجلاس میں آرمی چیف سے سخت جوابی ردعمل دینے کی درخواست کی بلکہ ردعمل سامنے بھی آیا۔ نہ صرف یہ بلکہ وزیر اعظم نوازشریف سے آرمی چیف راحیل شریف نے ملاقات کر کے فوج میں پائی جانے والی بے چینی سے آگاہ بھی کیا۔ اب آئی ایس آئی کے خلاف الزامات لگے ہیں تو آرمی چیف نے آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر کا دورہ کرنے میں تاخیر نہیں کی۔ جہاں انہوںنے واشگاف الفاظ میں کہا کہ آئی ایس آئی کا ملکی دفاع میں کردار ناقابل فراموش ہے۔ اس کی کارکردگی مثالی ہے اور فوج اپنے اس ادارے کو فخر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ میرے لئے یہ بات تشویش کا باعث ہے کہ سول حکومت اور فوج میں فاصلے بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں جو کام وزیر اعظم کو کرنا چاہئے تھا وہ آرمی چیف نے کیا ہے۔ وزیر اعظم نوازشریف پہلے بھی آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر گئے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد بھی اگر وہ اظہار یکجہتی کے لئے آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر کا دورہ کرتے تو معاملات کو سلجھانے میں مدد مل سکتی تھی۔ ایسا نہیں ہو سکا، جس کی وجہ سے حکومت جو اس ایشو میں ایک پل کا کردار ادا کر سکتی تھی۔ تماشائی بن کر رہ گئی۔

پاکستان میں میڈیا کی آزادی بھی ایک نعمت ہے اور آئی ایس آئی جیسے عظیم قومی ادارے بھی کسی رحمت سے کم نہیں کیونکہ ہم جن مسائل و مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں اور جس طرح عالمی سطح پر ایک ناکام ریاست ثابت کر کے پاکستان کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں، ان کی موجودگی میں ایک ایسا ادارہ جو ہماری بقاء و سلامتی کی جنگ لڑ رہا ہے، ہمارے لئے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ آزاد میڈیا معاشرے کی طاقت ہے تو فوج اور اس کے ادارے معاشرے کی سلامتی کے ضامن ہیں دونوں کی بقاءہی میں پاکستان کی بقاءہے۔ پچھلے چند دنوں میں جو کچھ ہوا وہ اس لحاظ سے افسوسناک ہے کہ اس نے ہماری داخلی سلامتی اور اتحاد کو کمزور کیا ہے۔ بے شک غلطیاں اور کوتاہیاں ہوئی ہیں، مگر ان کا یہ مطلب نہیں کہ اب ہم مزید غلطیاں کر کے اپنے ہی چہرے کو بگاڑ لیں۔ اس وقت کشادہ دلی کا مظاہرہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ صرف یہی وہ عمل ہے کہ جو ہمیں اس تنگ گلی سے نکال سکتا ہے، جس میں بڑی تیزی سے داخل ہو کر واپسی کا راستہ بند کئے جا رہے ہیں۔

مزید :

کالم -