مولانا عبدالرحمن جامی کی یاد میں تقریب

مولانا عبدالرحمن جامی کی یاد میں تقریب
مولانا عبدالرحمن جامی کی یاد میں تقریب
کیپشن: pic

  

19اپریل کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں بادشاہی مسجد لاہور کے سابق خطیب مولانا عبد الرحمن جامی رحمہ اللہ تعالیٰ کی یاد میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس میں احباب کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی، جبکہ محترم پروفیسر خالد ہمایوں اور راقم الحروف نے جامی صاحب مرحوم کے بارے میں اپنی یادداشتوں اور تاثرات پر گفتگو کی۔

مولانا عبد الرحمن جامیؒ کا تعلق چکوال کے علاقہ سے تھا، لیکن ان کی خطابت کے جوہر گوجرانوالہ میں نکھرے اور وہ ملک کے صف اول کے خطباءمیں شمار ہونے لگے۔ ایک زمانے میں گوجرانوالہ میں جمعتہ المبارک کا سب سے بڑا اجتماع ان کی مسجد میں ہوا کرتا تھا، جو مبارک شاہ روڈ پر قبرستان کلاں کے ساتھ تعمیر کی گئی تھی۔ دور دراز سے لوگ بڑے اہتمام کے ساتھ ان کا خطاب سننے کے لئے آتے تھے اور جامی صاحبؒ کے منبر تک پہنچنے سے قبل ہی مسجد نمازیوں سے کھچا کھچ بھر جاتی تھی، پنجابی کے شیریں زبان خطیب تھے، قرآن کریم بہت اچھے لہجے میں پڑھتے تھے، اردو اور پنجابی کے اشعار ترنم کے ساتھ پڑھتے تو فضا جھومنے لگ جاتی اور ان کا خطبہ ایک الگ ذوق اور اسلوب کا حامل ہوتا تھا۔

مطالعہ کی وسعت اور تجزیہ کی گہرائی کے ساتھ عام فہم اندازِ بیان لوگوں کی سماعتوں سے گزرتا ہوا دلوں کی گہرائی میں اتر جایا کرتا تھا اور وہ روایتی طور پر اپنے سامعین کو ہنسانے اور رُلانے کا ملکہ رکھتے تھے۔ ان کی خطابت کا دورِ عروج میرا طالب علمی کا دور تھا اور میں مہینہ میں ایک آدھ جمعہ ان کے پیچھے ضرور پڑھتا تھا۔ ان کی زبان کی چاشنی اور لہجے کی حلاوت نے لوگوں کو گرویدہ کر رکھا تھا۔ سیرت النبی کے حافظ تھے، میں نے اپنے دور میں سیرت نبوی کے واقعات کا اتنا بڑا حافظ نہیں دیکھا۔ واقعات کی تفصیلات اور جزئیات پر مکمل دسترس رکھتے تھے۔ ایک جزوی سے واقعہ پر گفتگو کا آغاز کرتے اور موضوع سے ہٹے بغیر اسی موضوع کے متعلقات پر مسلسل بولتے چلے جاتے۔ پھر میرا ان سے ملاقات و رفاقت کا تعلق قائم ہوا، ان کے ہاں آنا جانا رہا اور ان کے ساتھ مختلف اسفار میں بھی شریک ہوا۔ بلکہ ایک موقع پر محکمہ سول ڈیفنس نے عوام کو شہری دفاع کی ضروریات کی طرف متوجہ کرنے کے لئے چند علماءپر مشتمل مذہبی ونگ قائم کیا تو جامی صاحب مرحوم اس ونگ کے سربراہ تھے اور مَیں ایک رضا کار کے طور پر اس ونگ کا حصہ تھا۔ ہماری باقاعدہ وردی ہوتی تھی اور ہم لوگوں کو شہری دفاع کی اہمیت کا احساس دلانے کے لئے عوامی جلسوں کا اہتمام کیا کرتے تھے۔ یہ 1965ءکی پاک بھارت جنگ کا دور تھا اور میں نے شہری دفاع کے رضا کار کے طور پر گکھڑ میں کئی راتیں مختلف پلوں پر حفاظتی پہرہ بھی دیا ہے۔

جامی صاحب مرحوم کی سرکردگی میں ہمارا طریق کار یہ تھا کہ ہم نے ایک مستقل لاﺅڈ سپیکر کا انتظام کر رکھا تھا جو ساتھ لے کر ہم چوکوں میں جاتے یا دیہات کا رخ کرتے اور لوگوں کو جمع کر کے تقریریں کیا کرتے تھے۔ ہمارے ساتھ اس مہم میں دیگر علمائے کرام کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام گوجرانوالہ کے راہ نما حضرت مولانا علامہ محمد احمد لدھیانویؒ بھی شریک، بلکہ پیش پیش ہوتے تھے۔ مولانا عبد الرحمن جامیؒ کا ذوق یہ تھا کہ وہ مختلف مکاتب فکر کے مذہبی جلسوں میں شریک ہوتے تھے اور خطاب کرتے تھے۔ سیرت نبوی اور اصلاح معاشرہ ان کے دل پسند موضوعات تھے اور اختلافی مسائل پر عام جلسوں میں اظہار خیال سے گریز کرتے تھے۔ اِسی لئے ہر مکتبہ فکر کے لوگ ان سے تعلق رکھتے تھے اور انہیں جلسوں میں خطاب کی دعوت دی جاتی تھی، مگر اپنی بات وہ انتہائی خوش اسلوبی کے ساتھ کہہ جاتے تھے، جس کی ایک ہلکی سی جھلک یہ ہے کہ میں نے انہیں اہل تشیع کے بہت بڑے جلسے میں حضرت عثمان غنیؓ کی مظلومیت اور شہادت بیان کرتے ہوئے اور لوگوں کو رلاتے ہوئے خود اپنے کانوں سے سنا ہے۔

ان کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات میں سے ایک دو واقعات کا تذکرہ مناسب سمجھتا ہوں کہ جامعہ اشرفیہ مسلم ٹاﺅن لاہور میں ایک بار محفل قرا¿ت تھی، عالم اسلام کے معروف قراءکرام الشیخ خلیل احمد الحصریؒ، قاری عبد الباسط عبد الصمدؒ، اور دیگر بہت سے نامور قاری حضرات تشریف لائے ہوئے تھے۔ ہم گوجرانوالہ سے مولانا عبد الرحمن جامیؒ کے ہمراہ ان کی گاڑی میں جو چلتی کم تھی اور اسے چلانا زیادہ پڑتا تھا، جامعہ اشرفیہ لاہور پہنچے۔ پہنچ تو جیسے کیسے گئے مگر واپسی پر گاڑی نے جواب دے دیا۔ ہم نے نصف شب کے بعد مسلم ٹاﺅن سے لاہور ریلوے سٹیشن تک آنا تھا اور کوئی سواری نہیں مل رہی تھی۔ ہم سات سے زیادہ افراد تھے، ایک رکشہ والا بمشکل ہمیں لانے کے لئے تیار ہوا اور سات آٹھ میرے جیسے بھاری بھر کم افراد کو خدا جانے کس طرح اس نے رکشے میں ٹھونسا اور تھوڑی دیر میں ریلوے سٹیشن تک پہنچا دیا۔

مولانا عبد الرحمن جامیؒ سیاسی موضوعات پر بہت کم بولتے تھے، مگر میں سیاسی ورکر تھا اور ان دنوں سیاست میرا اوڑھنا بچھونا تھی۔ غالباً نارووال میں جلسہ تھا، جامی صاحبؒ نے جلسہ والوں سے کہہ کر اپنی تقریر سے قبل مجھے دس منٹ گفتگو کے لئے دلوا دیئے۔ چند روز قبل خانہ کعبہ کے غسل میں قادیانی لیڈر چودھری ظفر اللہ خان شریک ہو چکے تھے، جس پر پورے پاکستان میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی تھی۔ مَیں نے اپنی گفتگو میں اسی پر اپنے جذبات اور غم و غصہ کا شدت کے ساتھ اظہار کر دیا، جس پر جامی صاحبؒ نے پریشانی کا اظہار بھی کیا۔

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں مولانا عبد الرحمن جامی ؒ کی یاد میں ہونے والی نشست میں جن خیالات کا اظہار میں نے کیا، ان کا خلاصہ عرض کر دیا ہے۔ پروفیسر خالد ہمایوں صاحب نے بھی تفصیل کے ساتھ اپنی یاد داشتیں بیان کیں اور میں منتظر ہوں کہ وہ انہیں قارئین کے سامنے کب پیش کرتے ہیں۔

مزید :

کالم -