صحافیوں کی تقسیم:فیڈریشن کسی کے خلاف نہیں!

صحافیوں کی تقسیم:فیڈریشن کسی کے خلاف نہیں!
صحافیوں کی تقسیم:فیڈریشن کسی کے خلاف نہیں!
کیپشن: ch kahadam

  

یہ ہم صحافیوں اور کارکنوں کی بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ ہم خود اپنے پیشہ ورانہ مفاد کے لئے بھی متحد نہیں ہو پاتے۔ماضی میں بھی ایسا ہوا، لیکن وہ تقسیم نظریاتی کہلائی اور دونوں نظریات والے اپنے اپنے طور پر خود کو راہ راست پر جان کر ہی دوسروں سے اختلاف کرتے تھے، لیکن مفادات اس بُری طرح سامنے نہیں آتے تھے کہ پوری برادری ہی کو نقصان ہو، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی ایک اپنی تاریخ ہے جو جدوجہد سے عبارت ہے اور یہ تمام تر جدوجہد تحفظ روزگار اور آزادی صحافت کے لئے ہوتی تھی، ہم نے یہ پیشہ اپنایا اور ابتداءہی سے یونین کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی راہ بن گئی کہ روزنامہ ”امروز“ سے کیرئیر شروع کیا تھا اور یہاں ٹریڈ یونین کی روائت تھی، پاکستان ایک تھا اور فیڈریشن بھی متحدہ پاکستان کی تھی صدر ایک بازو سے ہوتا تو سیکرٹری جنرل دوسرے بازو سے چنے جاتے تھے، یہ 60کی دہائی کا دور تھا، اس کے دوران 1965ءکی پاک بھارت جنگ ہوئی اور پھر ایوب خان کے خلاف تحریک بھی چلی، ہمیں 1965ءکی جنگ اور ایوب خان کے خلاف تحریک کی کوریج کا اعزاز حاصل ہے۔

دفاع پاکستان کی جنگ کے دوران ہم نے جو محنت کی، اس کی بدولت سیز فائر کے بعد باٹا پور سیکٹر جانے کا موقع ملا اور 3بلوچ رجمنٹ کے آفیسروں سے دوستی ہوگئی،آج ان میں میجر جنرل(ر) تجمل ملک (1965ءکی جنگ میں کرنل کمانڈنٹ تھے) کرنل (ر) نفیس انصاری (65ءکی جنگ میں میجر سیکنڈ ان کمانڈ تھے) اور کیپٹن اقبال چیمہ تو ہم میں نہیں ہیں، اس وقت کے میجر نواز، میجر انور شاہ اور دوسرے حضرات سے طویل عرصہ سے ملاقات نہ ہوئی اس لئے ان کے بارے میں علم نہیں، البتہ اس رجمنٹ میں کمانڈر کے سٹاف افسر خالد نواز لیفٹیننٹ جنرل کے عہدہ تک جا کر اس وقت ریٹائر ہوئے جب جنرل (ر) مشرف کو نیچے سے ترقی دی گئی، جنرل(ر) خالد،جنرل (ر) علی قلی خان کے بعد دوسرے نمبر پر تھے، یوں ہمارا غازیوں سے بہت تعلق رہا اور ہم نے معرکہ باٹا پور کی تفصیلات بھی تحریر کی تھیں، اس کے بعد 1971ءمیں بھی کچھ تعلق رہا جب خالد نواز میجر ہو چکے تھے اور ہڈیارہ سیکٹر میں تعینات تھے۔یہ تعلق خالص پیشہ ورانہ رہا۔ہم صحافی اور یہ حضرات فوجی مجاہد تھے، اسی بناءپر ہم یہ جانتے ہیں کہ دفاع پاکستان کی جنگ میں اس وقت کے نوجوان افسروں نے بہت بہادی اور دلیری کا مظاہرہ کیا اور اگلے مورچوں پر لڑے تھے، اس لئے یہ امر بالکل واضح ہے کہ دفاع پاکستان کے لئے پاک فوج کی خدمات، بہادری اور قربانیوں سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔

اسی دوران ایوب خان کے خلاف تحریک شروع ہوئی تو ہم نے بطور رپورٹر اس کی تفصیل سے کوریج کی تھی۔ سیاسی جماعتوں کے اجلاسوں اور سیاسی تبدیلیوں کے علاوہ مظاہروں اور جلسوں کی رپورٹنگ بھی کرتے رہے تھے یوں ہمیں اگر واقعات قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تو اپنی ٹریڈ یونین کی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا، حتیٰ کہ 1970ءکی ملک گیر ہڑتال کا بھی حصہ تھے، ان دنوں مشرقی پاکستان(اب بنگلہ دیش) سے کے جی مصطفےٰ مرکزی صدر اور منہاج برنا سیکرٹری جنرل تھے یہ بہت فعال فیڈریشن تھی جس کی تنظیم ہر اخبار کے یونٹ تک بھی تھی، یوں ہم وثوق اور یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نہ تو کسی کی تابع مہمل اور نہ ہی جانبدار تھی۔یہ ہمیشہ غیر جانبدار اور کارکنوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی تنظیم تھی۔اس کے اسی کردار کی وجہ سے آج بھی منہاج برنا اور نثار عثمانی کے نام بڑے معتبر ہیں، یہ امر اور حقیقت تسلیم کرکے نظریاتی اختلاف 1970ءاور اس سے پہلے بھی ہوا، لیکن اس سے فیڈریشن کی غیر جانبدارانہ حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تھی، یہ الگ قصہ ہے کہ جدوجہد کے باعث تنظیم کے خلاف الزام تراشی ہوتی رہی۔

اتنی مختصر سی بات لکھنے کی ضرورت یوں پیش آ گئی کہ آج کے دور میں جہاں صحافیوں اور ابلاغ کی صنعت کے کارکنوں کو گوناگوں مسائل اور مشکلات کا سامنا ہے۔وہاں صحافیوں کی اس تاریخ ساز تنظیم پر بھی بہت بُرا وقت آیا ہوا ہے اور یہ تقسیم در تقسیم ہوتی چلی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے کارکنوں کے اجتماعی مفادات کا تحفظ بھی مشکل ہوگیا ہے اور اب تو الیکٹرونک میڈیا کا بھی دور ہے، اس میڈیا کے آ جانے سے میدیا میں کارکنوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہو چکا ہے، اس کے باوجود فیڈریشن اجتماعی مفادات تک کے تحفظ میں بہت مشکلات سے دوچار ہے، اب تو یہ حالت ہوگئی یا نوبت آ گئی ہے کہ کسی صحافی پر کوئی بڑا ظلم ہو تو یہ سراپا احتجاج بن جاتے ہیں لیکن 1974-1970ءیا پھر 1977ءجیسی تحریک چلانے کے اہل نہیں ہیں، بلکہ درست مقصد پر بھی تقسیم ہو جاتے ہیں۔

جیو کے اینکر حامد میر پر قاتلانہ حملہ ہوا وہ ابھی زیر علاج ہیں، ان کا کیرئیر پرنٹ میڈیا سے شروع ہوا تھا کہ ساتھ ساتھ جیو سے منسلک ہو گئے اور آج ان کی وجہ شہرت بھی یہ الیکٹرونک چینل ہے۔پوری برادری سراپا احتجاج ہے۔بلالحاظ اختلاف سب نے آواز بلند کی اور سلسلہ اب تک جاری ہے تاہم افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس دوران بعض ایسے ناخوشگوار حالات پیدا ہوگئے جن کی وجہ سے صحافیوں کی بہت بڑی تقسیم نظر آنے لگی ہے حالانکہ حامد میر کی حد تک اس کے ساتھ اختلاف رکھنے والے بھی اس قاتلانہ حملہ پر احتجاج میں شامل ہیں۔اس دوران جو ناخوشگوار صورت حال پیدا ہوئی وہ میڈیا ہاﺅسز والوں کی اپنی چپقلش یا عداوت ہے، جس کا کارکنوں سے کوئی تعلق نہیں،بدقسمتی سے حالات کارکنوں کو اس طرف دھکیل رہے ہیں، مَیں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ پی ایف یو جے کے اراکین کی تمام تر جدوجہد حامد میر کے لئے ہے اور وہ حامد میر پر حملہ کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں دیکھنا چاہتے اور آئندہ کارکنوں کا تحفظ چاہتے ہیں، کیونکہ اختلاف رائے کا حق تو سب کو ہے ، لیکن یہ نہیں کہ اس حق کی بناءپر آپ دوسری اختلافی آواز کو ختم کرنے کے لئے اسلحہ کا سہارا لیں، بات کا جواب بات ہی سے دیا جانا چاہیے۔

گزارش یہ تھی کہ کئی بار ایسا ہوا جب کارکنوں کو ایسی صورت حال سے دوچار ہونا پڑا اور وہ اجتماعی طور پر نہ چاہتے ہوئے بھی میڈیا ہاﺅس کے مالکان کے ساتھ یکجہتی پر مجبور ہو گئے کہ اگر ادارے پر زد پڑتی ہے تو کارکن براہ راست متاثر ہوتے ہیں، اب پھر ایسی صورت حال پیدا کی جارہی ہے، جب جنگ اور جیو کو بند کرنے کا مسئلہ آئے گا تو اس کے ساتھ ہزاروں کارکنوں کی بے روزگاری کا بھی سوال پیدا ہوگا اور یہی بات پی ایف یو جے کی توجہ کا باعث بنے گی، جہاں تک ہمارے ایک ایسے دوست کا تعلق ہے جو وفاقی یونین کے انتخاب میں ہار کر بھی شکست تسلیم کرنے کو تیار نہیں تو انہوں نے یہ کہہ کر ”ہم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کو فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے“ بہت بڑی زیادتی کی ہے کہ جیسا ہم نے بیان کیا پی ایف یو جے کا یہ کردار ہی نہیں، فیڈریشن کسی کے خلاف نہیں اور نہ ہوگی۔ہمارے لئے سبھی ادارے معزز و معتبر ہیں، ہم تو کارکنوں کے مفاد کا تحفظ کریں گے، اس لئے یہ الزام ہے اور بالکل غلط اور جھوٹ ہے کہ پی ایف یو جے کبھی بھی فوج یا آئی ایس آئی کے خلاف استعمال ہوگی اور نہ کوئی ایسا کر سکتا ہے۔

 

مزید :

کالم -