حامد میر پر حملے کی تحقیقات کا کیا نتیجہ نکلے گا؟

حامد میر پر حملے کی تحقیقات کا کیا نتیجہ نکلے گا؟
حامد میر پر حملے کی تحقیقات کا کیا نتیجہ نکلے گا؟
کیپشن: saad akhtar

  

معروف صحافی اور اینکر حامد میر کراچی میں ایک قاتلانہ حملہ کے دوران شدید زخمی ہو گئے۔ اس خبر کو جب بریکنگ نیوز کے طور پر تمام نجی چینلز نے اپنی معمول کی نشریات روک کر پیش کیا، تو ہر طرف کھلبلی مچ گئی۔ کیا حکومت، کیا صحافی تنظیمیں اور سول سوسائٹی سب میدان میں آ گئے اور احتجاج شروع ہو گیا۔ وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف بنفسِ نفیس زیر علاج حامد میر کی عیادت کے لئے وزیر دفاع خواجہ آصف، گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ آغا خاں ہسپتال پہنچے، جہاں اب حامد میر آئی سی یو سے ایک پرائیویٹ روم میں منتقل ہو چکے ہیں۔ اُن کے پاس اُن کے اہل خانہ اور بھائی موجود ہیں، جبکہ اُن کے لئے پورے ملک میں دعائیہ تقریبات کا سلسلہ بھی جاری ہے اور ہر مکتبہ¿ فکر اور شعبہ¿ زندگی کے افراد کی جانب سے ان کے ساتھ اظہار ہمدردی اور اظہارِ یک جہتی کیا جا رہا ہے۔

اس سارے واقعہ میں اُس وقت سنگین موڑ آیا جب حامد میر کے بھائی عامر میر نے واقعہ کی اطلاع ملتے ہی اپنا یہ بیان، ایک بڑے میڈیا گروپ جس سے حامد میر کا تعلق ہے، دیا کہ اُن پر حملہ خفیہ ایجنسی اور اُس کے سربراہ نے کرایا ہے۔ یہ میڈیا گروپ اپنے چینل پر سارا دن اس خبر کو بڑے اہتمام کے ساتھ نشر کرتا رہا ،جبکہ باقی چینلز نے مختلف رویہ اختیار کیا اور اس کے برعکس مختلف آراءکے ساتھ ٹاک شوز کا اہتمام کیا، جس کے بعد مذکورہ بڑے میڈیا گروپ نے بھی اپنی روش تبدیل کی اور معذرت کا رویہ اختیار کر لیا، تاہم اس وقت تک بہت کچھ ہو چکا تھا۔ بھارت نے جو پہلے ہی پاکستان اور اس کی ایجنسیوں کے خلاف زہر اُگلتا رہتا ہے، اس موقع کو غنیمت جانا اور پاکستانی خفیہ ایجنسی یعنی آئی ایس آئی کے خلاف الزامات کا پہاڑ کھڑا کر دیا جس سے پوری دنیا میں ہمیں سخت ندامت اٹھانا پڑ رہی ہے۔ پاکستان مخالف لابی بھی پوری دنیا میں سرگرم ہو گئی ہے۔ جس سے ایک بات تو ظاہر ہوتی ہے کہ ہمارے میڈیا کو اب بھی ”میچورٹی“ کی ضرورت ہے، کیونکہ اس کا کوئی غلط اقدام، رویہ یا پالیسی ہمارے پورے سسٹم پر سوالیہ نشان بن سکتی ہے۔ ہم دنیا کی نظروں میں پہلے ہی معتوب بنے ہوئے ہیں۔ ایبٹ آباد سے اسامہ بن لادن کی برآمدگی سمیت دہشت گردی کے پے در پے انتہائی سنگین واقعات نے حقیقت میں ہمیں کہیں کا نہیںچھو ڑا۔ صرف ہماری ساکھ ہی نہیں، ہمارا وقار اور عزت بھی داﺅ پر لگ چکی ہے۔ خیر، یہ ایک نہ ختم ہونے والی لمبی بحث ہے۔

ہمیں اب کسی لمبی بحث میں پڑے بغیر یہ سوچ لینا چاہیے اور یہ ضابطہ¿ اخلاق بنا لینا چاہیے۔ دوسروں کو کچھ بتانے اور سکھانے کا درس دینے کے بجائے پہلے انہیں خود” میچور“ ہونا چاہیے۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، یہ سوال اٹھتے رہیں گے کہ ہم وہ ذمہ داری پوری نہیں کر رہے جو ہمیں ہر حال میں پوری کرنی چاہیے جہاں تک حامد میر کے واقعہ کا تعلق ہے۔ تو وہ انتہائی افسوس ناک ہے۔ پولیس اور ذرائع کے مطابق آئی ایس آئی بھی اس واقعہ کی تحقیقات میں مصروف ہے۔ اس کے کیا نتائج سامنے آتے ہیں، کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ حکومت نے ایک اعلیٰ سطحی جوڈیشل کمیشن بھی قائم کر دیا ہے جو سپریم کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل ہے۔ کمیشن اس بات کا پتہ چلائے گا کہ اس سارے واقعہ کے پیچھے کون ہے، لیکن ذاتی طور پر میرا گمان یہی ہے کہ شاید دیگر کئی واقعات کی طرح یہ واقعہ بھی سردخانے کی نذر ہو جائے۔ اگرچہ کمیشن سے کہا گیا ہے کہ وہ 21روز کے اندر اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کرے۔ اس رپورٹ کو ”پبلک“ کرنے کی بھی بات کی گئی ہے۔ ہو سکتا ہے حکومتی بیان کے مطابق یہ رپورٹ ”پبلک“ بھی ہو جائے، لیکن ماضی کے واقعات کو دیکھتے ہوئے یہی یقین ہوتا ہے کہ اس ”واقعہ“ میں ملوث ملزموں کا بھی کوئی سراغ نہیں لگایا جا سکے گا، کیونکہ ملزموں کے بارے میں مدعی فریق کے پاس کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔ پھر مدعی حامد میر کے نزدیک بہت سے لوگ یا گروپ اُن کی جان کے دشمن ہیں۔ اُن کو دھمکیاں بھی مل رہی تھیں، لیکن کیا یہ ضروری ہے کہ جو لوگ اُنہیں دھمکا رہے تھے یہ کارروائی بھی اُنہی کی ہو۔ اس سارے تناظر میں کوئی اور فریق بھی اس کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اس لئے پولیس یا کسی اعلیٰ درجے کی ایجنسی کے لئے بھی اس واقعہ کی تفتیش کے بعد اسے منطقی انجام تک پہنچانا مشکل ہو گا۔ اس لئے لگتا ہے کہ یہ قصّہ بھی مستقبل میں قصّہ پارینہ بن جائے گا۔

حامد میر زندہ بچ گئے۔ شاید اب اُن کے اور اُن کے اہل خانہ کے لئے یہی کافی ہے، جہاں ضیاءالحق کے طیارے کا حادثہ اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے واقعات گمنامی اور چشم پوشی کی نذر ہو گئے ہوں، وہاں حامد میر جیسے صحافی پر قاتلانہ حملے کی کیا حیثیت ہے۔ کچھ دن گزریں گے تو لوگ یہ بھی بھول جائیں گے کہ کراچی کے فلائی اوور کے نزدیک کیا ہوا تھا؟

مکرمی! آپ کے روزنامہ کی وساطت سے ایک اہم مسئلے کی طرف میاں شہبازشریف وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کرتے ہیں کہ ہم اہل علاقہ سنت نگر لاہور آپ کو اس امید سے درخواست دے رہے ہیں کہ آپ یہ کام جلد کروا دیں گے اور کسی سفارش کو خاطر میں نہیں لائیں گے، ویسے بھی یہ علاقہ این اے 120میاں نوازشریف کا حلقہ ہے۔سنت نگر افغان پارک کے ساتھ کارپوریشن کی ایک ڈسپنسری ہے ،یہاں پر علاقے کے غریب لوگ اپنا علاج کرواتے ہیں اور آپ کو دعائیں دیتے ہیں۔ڈسپنسری کو کم از کم 20سال ہو گئے ہیں، اس میں زچہ بچہ کا کوئی انتظام نہیں ہے، جس کی وجہ سے لوگ بہت پریشان ہیں۔ڈاکٹر حضرات کہتے ہیں کہ ہمیں جگہ دے دیں۔ہم زچہ بچہ کا بھی سنٹر شروع کرتے ہیں، اب آپ کو اصل بات کی طرف لاتے ہیں۔ڈسپنسری کی اوپر والی منزل میں ایک شخص نے زبردستی قبضہ کیا ہوا ہے۔پانچ ماہ پہلے کی بات ہے ڈی سی او لاہور نسیم صادق ڈسپنسری اس شخص سے خالی کروانے لگے تھے، لیکن ایم پی اے درمیان میں آ گئے اور اس شخص نے ڈسپنسری خالی نہیں کی۔آپ سے گزارش ہے کہ آپ ڈسپنسری کا اوپر والا حصہ خالی کروائیں، تاکہ غریب لوگوں کا علاج ٹھیک طریقہ سے ہو سکے۔

(خواجہ عبدالحنان ماجد،مکان نمبر18،گلی نمبر19، محلہ رام نگر لاہوراور اہل علاقہ سنت نگر لاہور)

مزید :

کالم -