قوم کو مفاہمت اور اتحاد کی خوشخبری دینا چاہتے ہیں، عزام احمد

قوم کو مفاہمت اور اتحاد کی خوشخبری دینا چاہتے ہیں، عزام احمد

  

غزہ (اے این این) فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت الفتح کی سینٹرل کمیٹی کے سینئر رکن اور مفاہمتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ عزام الاحمد نے کہا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں صرف نمائشی دورے پر نہیں آئے بلکہ حقیقی معنوں میں قومی مفاہمت کا عمل آگے بڑھانے اور قوم کو قومی اتحاد کی خوش خبری دینا چاہتے ہیں۔ ایک بیان میں الفتح کے رہنما نے کہا کہ قومی مفاہمت صرف کسی ایک گروپ کی خواہش نہیں بلکہ پوری قوم کا متفقہ فیصلہ ہے۔ ہمیں اب ہر صورت میں بے اتفاقی کا باب بند کرتے ہوئے مصر کے دارالحکومت قاہرہ اور قطر کے دوحہ میں طے پائے مفاہمتی معاہدوں پرعمل درآمد کرنا ہے۔

عزام احمد نے فلسطینی جماعت حماس اور وزیراعظم اسماعیل ھنیہ کی جانب سے مفاہمت کےلئے فراخدلی کا مظاہرہ کرنے پر ان کی تحسین کی اور کہا کہ ہم رام اللہ سے جس توقع کے ساتھ غزہ آئے ہیں۔ وہ پوری ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی سیاسی جماعتوں کے درمیان بغض وعناد کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جانا چاہیے اور ہم مل کر اسی مقصد کے لیے کوششیں کررہے ہیں۔اس موقع پر حماس کے وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ قومی مفاہمت پہاڑوں کی طرح مضبوط اور ارض وطن کی طرح مقدس چیز ہے۔ ہمیں اپنی صفوں میں ان عناصر کو دیکھنا ہوگا جو ہمیں قومی وحدت سے روکنے کی سازش کرکے صہیونی دشمن کی خدمت کررہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مصر میں دو سال قبل طے پائے قومی مفاہمتی معاہدے میں ہرچیز واضح اور دوٹوک بیان کی جا چکی ہے۔ اس معاہدے میں طے پایا ہے کہ فلسطین میں ایک ہی حکومت اور ایک ہی قانون ہونا چاہیے جو تمام فلسطینیوں کا نمائندہ ہو۔اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا کہ ماضی میں طے پانے والے مفاہمتی معاہدوں میں ملک میں پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کا اعلان، تنطیم آزادی فلسطین کی تشکیل نو اور آزاد الیکشن کمیشن پر تمام جماعتوں کا اتفاق ہوچکا ہے لیکن ان نکات پرعمل درآمد نہیں کیا گیا۔ جب تک ملک میں قومی حکومت تشکیل نہیں دی جاتی اس وقت تک فلسطین میں قومی اتحاد کا مزاج پیدا نہیں ہوسکتا۔ تمام مسائل کا حل ایک ایسی حقیقی قومی نمائندہ حکومت کا قیام ہے جس میں تمام دھڑوں کو ان کی حیثیت کے مطابق نمائندگی حاصل ہو۔خیال رہے کہ فلسطین کی دو بڑی جماعتوں حماس اور الفتح کے درمیان مصالحتی مذاکرات ایک سال کے تعطل کے بعد دوبارہ شروع ہوئے ہیں۔ مذاکرات کے سلسلے میں رام اللہ سے الفتح سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہ نماں پر مشتمل ایک وفد کل منگل کو غزہ پہنچا ہے جبکہ حماس کے سیاسی شعبے کے نائب صدر ڈاکٹر موسی ابو مرزوق بھی مصالحتی بات چیت کے لیے خصوصی طور پر مصر سے غزہ آئے ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -