مرسی کو ہٹانے کی تجویز کی کھل کر حمایت کی تھی،عیسائی پادری

مرسی کو ہٹانے کی تجویز کی کھل کر حمایت کی تھی،عیسائی پادری

  

قاہرہ(ثناءنیوز)مصر کے قبطی عیسائی پادری پوپ تواضروس دوم نے اعتراف کیا ہے کہ ملک کے پہلے منتخب اسلام پسند صدر ڈاکٹرمحمد مرسی کے خلاف تیس جون 2013 کو شروع ہونے والی عوامی بغاوت کی تحریک اور صدر کی معزولی میں مسیحی برادری نے بھی بھرپور کردار ادا کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر کے خلاف عوامی بغاوت کے بعد ملک افراتفری کے عالم میں تھا، اس لیے اسے طوائف الملکوکی سے بچانے کے لیے انقلابیوں کا ساتھ دینا ضروری تھا۔قبطی پادری توضروس دوم نے ان خیالات کا اظہار کینڈین اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔

 ان کا کہنا تھا کہ سابق صدر محمد مرسی کی فوج کے ہاتھوں معزولی سے قبل ان سے بھی مشاورت کی گئی تھی اور انہوں نے صدر کو ہٹانے کی تجویز کی کھل کر حمایت کی تھی۔تواضروس دوم نے مزید کہا کہ مصر کے طول وعرض میں سابق صدر کے خلاف عوامی غم وغصے کی لہر پھیل چکی تھی۔ آخر کار فوج نے حکومت کو پہلے ایک ہفتے اور پھر 48 گھنٹوں میں اصلاح احوال کا الٹی میٹم دیا۔ جب صدر محمد مرسی اور ان کی حکومت اصلاح احوال میں ناکام ہو گئی اور انہوں نے عوامی مطالبات ماننے سے انکار کر دیا تو فوج نے اپنا 'فیصلہ' نافذ کر دیا۔ اس وقت عیسائی برادری، فوج اور انقلابی نوجوان ایک ہی قوت تھے۔ انہوں نے بتایا کہ شیخ الازھر ڈاکٹر احمد الطیب نے بھی آخری وقت میں ہم سے صلاح مشورہ کیا۔ میں نے ان سے کہا کہ ملک میں سخت بے چینی پائی جا رہی ہے جبکہ صدر مملکت عوامی مطالبات تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں۔ ایسے میں جو فیصلہ مسلح افواج کریں گی اسے قبول کر لیا جائے۔انہوں نے مزید بتایا کہ فوج کی جانب سے صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کا اعلان نشر ہونے سے پانچ گھنٹے پہلے ہماری مشاورت شروع ہوئی۔ ہم لوگ حکومت کی معزولی کے بارے میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے بیان کی تیاری میں مصروف رہے۔

مزید :

عالمی منظر -