برازیل میں انٹرنیٹ کے مستقبل کے موضوع پر ایک عالمی کانفرنس شروع ہوگئی

برازیل میں انٹرنیٹ کے مستقبل کے موضوع پر ایک عالمی کانفرنس شروع ہوگئی

  

 برازےلےہ(ثناءنیوز)جنوبی امریکا کے ملک برازیل میں بدھ کو انٹرنیٹ کے مستقبل کے موضوع پر ایک عالمی کانفرنس شروع ہوگئی ۔، جس میں سائبر سکیورٹی سمیت دیگر اہم امور پر گفتگو ہو گی۔ امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی یا این ایس اے کی جانب سے وسیع پیمانے پر جاسوسی کے تناظر میں برازیل اور متعدد دیگر ممالک کے مطالبات پر امریکا نے انٹرنیٹ پر اپنی گرفت یا نگرانی کو کم کرنے کی حامی بھر لی ہے۔ اسی سبب سا پالو میں مقیم سائبر سکیورٹی کے ایک ماہر ولیم بیئر کا ماننا ہے کہ کانفرنس کی توجہ کا مرکز این ایس اے کے اقدامات کے رد عمل سے ہٹ کر اب تعمیری تنقید اور انٹرنیٹ کے مستقبل پر مرکوز ہو گا۔برازیل کے شہر سا پالو میں نیٹ منڈیال نامی اس دو روزہ کانفرنس کا آغاز بدھ سے ہو رہا ہے۔ ملکی صدر ڈلما روسیف آج کانفرنس کا افتتاح کریں گی۔ کانفرنس میں سائبر سکیورٹی سمیت، پرائیویسی کی حفاظت، انٹرنیٹ پر آزادی رائے اور انٹرنیٹ کے انتظامی امور کی نگران مستقبل کی ممکنہ باڈی کے ڈھانچے پر بات چیت متوقع ہے۔

اس کانفرنس میں درجنوں ممالک سے وفود شرکت کر رہے ہیں، جن میں انٹرنیٹ کمپنیوں کے اعلی عہدیداران، تکنیکی ماہرین، طلبہ اور انٹرنیٹ گروپوں کے نمائندے شامل ہیں۔ برازیل کے سیکرٹری برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی پالیسی ورجیلیو المیڈا اس کانفرنس کی سربراہی کریں گے۔ ان کے بقول اگرچہ اس کانفرنس میں پالیسی سے متعلق کوئی بڑے فیصلے نہیں کیے جائیں گے تاہم اس کے ذریعے اعلی سطحی بحث اور مستقبل میں اصلاحات کے عمل کے حوالے سے بات چیت کا آغاز ضرور ممکن ہو سکے گا۔واضح رہے گزشتہ برس ان انکشافات کے بعد کہ این ایس اے برازیل کی صدر ڈلما روسیف کی ذاتی ای میل سمیت ٹیلی فون کالز تک کی نگرانی کرتی رہی ہے، روسیف کافی نالاں تھیں۔ کچھ اسی طرز کی نگرانی جرمن چانسلر انگیلا میرکل سمیت دیگر کئی عالمی رہنماں اور عوام کی بھی کئی گئی۔ امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے سابقہ کانٹریکٹر ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے مہیا کردہ خفیہ دستاویزات سے وسیع پیمانے پر جاسوسی سے متعلق انکشافات سامنے آئے، جس سبب امریکا کڑی تنقید میں رہا۔سنوڈن کے انہی انکشافات کے تناظر میں ایسے مطالبات سامنے آئے کہ واشنگٹن انٹرنیٹ پر اپنے کنٹرول کو کم کرے۔ گزشتہ ماہ واشنگٹن حکومت نے یہ اعلان کرتے ہوئے سب کو حیران کر ڈالا کہ امریکا انٹرنیٹ کارپوریشن فار اسائنڈ نیمز اینڈ نمبرز یا ICANN کی سربراہی چھوڑ رہا ہے۔ یہ امریکی ریاست کیلیفورنیا میں قائم ایک غیر منافع بخش گروپ ہے، جو نیٹ ورک کے ڈومین نیمز اور ایڈرس طے کرتا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے یہ اعلان کیا جا چکا ہے کہ وہ ستمبر 2015 تک اس گروپ کا کنٹرول کسی ایسی بین الاقوامی باڈی کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے، جسے آئندہ ایک برس کے دوران تشکیل دیا جانا ہے۔ تاہم امریکا کی شرط ہے کہ یہ تنظیم کسی اور ملک کی حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہونی چاہیے۔

مزید :

عالمی منظر -