امریکہ نے600فوجی مشرقی یورپ بھجنے کا اعلان کر دیا

امریکہ نے600فوجی مشرقی یورپ بھجنے کا اعلان کر دیا

  

                                            واشنگٹن (اے این این) امریکہ نے 600فوجی اہلکاروں پر مشتمل دستہ روس سے متصل مشرقی یورپی ریاستوں میں بھجوانے کا اعلان کر دیا، فوجی اہلکار میزبان ملکوں کے فوجیوں کے ساتھ تربیتی مشقیں کریں گے۔محکمہ دفاع پنٹاگون کے اعلیٰ ترجمان ریئر ایڈمرل جان کربی نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکی فوجی پولینڈ، لٹویا، لتھوانیا اور ایسٹونیا میں ہونے والی دو طرفہ فوجی مشقوں میں شریک ہوں گے۔ ترجمان کے مطابق یہ فوجی مشقیں خاص یوکرین کی صورتِ حال کے پیش نظر منعقد کی جارہی ہیں اور یہ ان ملکوں کے ساتھ امریکہ کی طے شدہ معمول کی فوجی مشقوں کے علاوہ ہیں۔ریئر ایڈمرل جان کربی کا کہنا تھا کہ امریکی فوجیوں کو فوری طور پر خطے میں بھیجا جارہا ہے اور اٹلی میں موجود امریکہ کے 150فوجی اہلکار بھی پولینڈ پہنچ جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر 450فوجی اہلکاروں کو لٹویا، ایسٹونیا اور لتھوانیا روانہ کیا جارہا ہے۔ ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ ان مشقوں کا نیٹو کے ساتھ تعلق نہیں اور یہ ان ملکوں اور امریکہ کی دو طرفہ مشقیں ہیں جن کا مقصد یورپ کی سلامتی کے تحفظ کےلئے امریکی عزم کا اظہار کرنا ہے۔ پنٹاگون ترجمان کے مطابق فوجی مشقیں ایک ماہ جاری رہیں گی جن کے بعد تازہ دم فوجی اہلکار خطے میں موجود امریکی فوجیوں کی جگہ لے لیں گے اور فوجی مشقوں کا سلسلہ پورا سال جاری رہے گا۔ترجمان کے بقول امریکہ نیٹو کے اعلامیے کی شق پانچ کے تحت خود پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں سنجیدہ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اتحاد کے کسی ایک رکن ملک پر حملہ تمام رکن ریاستوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ پنٹاگون کے ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے خطے میں اپنی زمینی فوج بھیجنے کو صرف ایک علامتی قدم نہیں سمجھنا چاہیے۔انہوں نے روس سے مطالبہ کیا کہ وہ یوکرین کی سرحد کے ساتھ تعینات اپنے اضافی فوجی دستوں کو واپس بلائے ۔

اور یوکرین کی خود مختاری کا احترام کرے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے مشرقی یورپی اتحادیوں کے ساتھ فوجی مشقوں کے انعقاد اور اپنے فوجی دستے علاقے میں بھیجنے کا مقصد ان ملکوں کی ہمت بڑھانا ہے جو یوکرین میں روس کی فوجی مداخلت کے بعد اپنی سلامتی سے متعلق خدشات کا شکار ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -