بلڈ بنکوں میں شفافیت کیلئے خفیہ چیکنگ کا فیصلہ، ٹیمیں تشکیل

بلڈ بنکوں میں شفافیت کیلئے خفیہ چیکنگ کا فیصلہ، ٹیمیں تشکیل

  

 لاہور( جاوید اقبال) مریضوں کو شفاف اور صحت مند خون کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے پرائیویٹ اور سرکاری بلڈ بنکوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے لئے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، یہ ٹیمیں بلڈ بنکوں کے خلاف خفیہ اورو پ بدل کر کارروائی کریں گی، یہ فیصلہ گزشتہ روز بلڈ ٹرانسفیوژن سروس پنجاب کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جعفر سلیم کی صدارت میں ہونے والے ہنگامی اجلاس میں کیا گیا، اجلاس میں بلڈ ٹرانسفیوژن سروس پنجاب نے مریضوں کو صحت مند اور شفاف خون کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے سخت اقدامات کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا،جس کے تحت30ٹیچنگ ہسپتالوں میں واقع33بلڈ بنکوں کو خون کا عطیہ لینے سے قبل ہر ڈورنر کے خون میں ہیلوجن گلوبن کا ٹیسٹ ضروری قرار دے دیا ہے، خون دینے والے ایسے ڈونرز جس کے خون میں ایچ سی12.5گرام سے کم ہوگی ایسے ڈونرز کا خون لینے پر پابندی عائد کردی گئی ہے، جبکہ خون فروخت کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے لئے خفیہ ٹیمیں تشکیل دینے کی منظوری دی گئی، اجلاس میں ٹیچنگ ہسپتالوں میں واقع33بلڈ بنکوں کے سربراہان نے شرکت کی، اس موقع پر ڈائریکٹر ادارہ انتقال خون پنجاب نے کہا کہ آئندہ سے خون کا عطیہ دینے والے پر ڈونر کے خون کا ایچ پی لیول کا ٹیسٹ کرنا ضروری ہوگا، ایسے ڈونرز جس کے خون کی ہیوجن گلوین کی مقدار12.5سے کم ہوگی ایسے لوگوں سے خون نہیں لیا جائے گا۔ چونکہ ایسے لوگوں سے خون لینے سے ڈونر کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں جبکہ ایسے لوگوں کا دیا ہوا خون جسمریض کو لگایا جائے گااسے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، ایسے ڈونرز جن کی عمر60سال سے زائد ہوگی ان سے خون کا عطیہ نہیں لیا جائے گا، ڈونر کا وزن 50کلو گرام سے کم نہیں ہونا چاہئے، ڈائریکٹر نے کہا کہ خون میں ہیوجن گلوین یعنی ایچ پی معائنہ کرنے پر زیادہ خرچ نہیں آتا، ایک لیٹر پانی میں 170گرام کاپر سلفیٹ یا نیلاتھوتھا ڈال کرمحلول تیار کر لیا جائے اور تھوڑا محلوم لے کر اس میں خون کا ایک قطرہ ڈالا جائے ،اگر خون کا قطرہ جار جس میں نیلا تھو تھا کا محلول موجود ہے اس کی تہہ میں جا کر بیٹھ جائے تو خون میں ایچ بی لیول 12.5سے زیادہ ہے اگر نہ بیٹھے تو خون دینے والے کا ایچ بی لیول کم ہے تو ایسے ڈونر سے خون کا عطیہ نہ لیا جائے، دریں اثناء ڈائریکٹر ادارہ انتقال خون ڈاکٹر جعفر سلیم نے’’پاکستان‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پرائیوٹ بلڈ بنکوں میں بیمار خون کی خرید وفروخت روکنے کے لئے کریک ڈاؤن جلد شروع کیا جا رہاہے، جس کے لئے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں،جو سرکاری اور پرائیویٹ بلڈ بنکوں کے خلاف کارروائی کریں گی،ایسے بلڈ بنک جہاں بیمار اور نشی لوگوں کے خون کی خرید وفروخت ہوتی ہے انہیں زوربند کریں گے بلکہ ان کے مالکان کے خلاف مقدمات بھی درج کرائیں گے، انہوں نے کہا کہ ہر حال میں مریضوں کو صحت مند اور شفاف خون کی فراہمی یقینی بنائی جائے انہوں نے کہاکہ ہر بلڈ بنک میں ایک مافیا موجود ہے جس کو ختم کر کے دم لیں گے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -