سپریم کورٹ ، چوری کے نامزد ملزم کی جگہ ہم نام شہری کو گرفتار کرنے پرمتعلقہ تفتیشی افسر کی سرزنش

سپریم کورٹ ، چوری کے نامزد ملزم کی جگہ ہم نام شہری کو گرفتار کرنے پرمتعلقہ ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )سپریم کورٹ نے 11سال پرانے چوری کے مقدمہ میںنامزد ملزم کی جگہ اس کے ہم نام شہری کو گرفتار کرنے کی کوشش پرمتعلقہ تفتیشی افسر کی سرزنش کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پنجاب پولیس کی اللہ ہی حافظ ہے ۔گیارہ سال سوئے رہنے کے بعد پولیس جس ملزم تک پہنچی وہ بھی جعلی نکلا۔چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں3رکنی بنچ نے یہ ریمارکس فیروز والا کے شہری جاوید اجمل کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرتے ہوئے دیئے ۔درخواست گزار کے وکیل رمضان چودھری نے عدالت کو بتایا کہ فیروز والا پولیس نے11برس قبل شہری جاوید سمیع کیخلاف ایک فیکٹری میں چوری کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیاتھا جس میں ابھی تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی تاہم پولیس نے اپنی نااہلی چھپانے کیلئے ایک دوسرے شہری جاوید اجمل کواصل ملزم جاوید سمیع کی جگہ ضمنی میں نامزد کردیا اور اب اسکی گرفتاری کیلئے چھاپے مار رہی ہے، انہوں نے بنچ کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ سے شہری کی عبوری ضمانت کی درخواستیں خارج ہو چکی ہیں، انہوں نے استدعا کی سپریم کورٹ پولیس کی نااہلی کا نوٹس لیتے ہوئے شہری جاوید اجمل کی ضمانت منظور کرے، چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے عدالت میں تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ شہری کو جاوید کو کس بنیاد پر چوری کے مقدمے میں نامزد کیا ہے تاہم تفتیشی افسر کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکا، اس دوران بنچ کے رکن جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ پنجاب پولیس کا اللہ ہی حافظ ہے، 11برس بعد ملزم تک پہنچی تو وہ بھی جعلی نکلا،ناقص تفتیش کے باعث پولیس کا نظام تباہ ہو چکا ہے، عدالت نے دلائل سننے کے بعد شہری جاوید اجمل کی درخواست ضمانت منظور کر لی۔

سرزنش

مزید :

صفحہ آخر -