باردانہ کے حصول میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، وزیر زراعت

باردانہ کے حصول میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، وزیر زراعت

  

لاہور(کامرس رپورٹر)گندم کی خریداری کیلئے کسان دوست پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا ۔ گندم خریداری مراکز پر کسانوں کی سہولت کیلئے متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیاگیاہے ۔ گندم کی خریداری کا ٹارگٹ پورا کرنے کیلئے ضلعی اور ڈویژنل انتظامیہ کی محکمہ زراعت او ر خوراک کے ساتھ بھرپور معاونت ہوگی ۔کسان کو مڈل مین کے استحصال کا شکار نہیں ہونے دیا جائے گا۔ کسانوں کو بینکوں سے فوری ادائیگی کو یقینی بنایا گیاہے۔ باردانہ کے حصول اور گندم کی ان لوڈنگ میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ کسان دوست پالیسی کیلئے مراکز خرید گندم پر پٹواری کا عمل دخل ختم کر دیا گیا ہے ۔ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر زراعت ڈاکٹر فرخ جاوید نے گزشتہ روز سرکٹ ہاؤس سرگودھا میں گندم کی خریداری کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے بلائے گئے اجلاس سے خطاب میں کیا۔ اجلاس میں کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ محمد آصف، ڈی سی او ثاقب منان، ایم پی ایز ڈاکٹر نادیہ عزیز، محمد منور غوث، سردار بہادر عباس میکن، ای ڈی او زراعت محمد افضل باجوہ، ڈپٹی ڈائریکٹر خوراک مقبول احمد مجوکہ، ڈی ایف سی چوہدری محمد اسلم، چوہدری عبدالرشید او ردیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں بتایا گیاکہ سرگودھا ڈویژن میں اس سال گندم کی خریداری کاہدف2 لاکھ 98 ہزار میٹرک ٹن مقرر کیا گیاہے جس میں ضلع سرگودھا کیلئے ایک لاکھ پندرہ ہزار، ضلع خوشاب سترہ ہزار، ضلع میانوالی پچاس ہزار او رضلع بھکر کیلئے ایک لاکھ سولہ ہزار میٹرک ٹن ہدف مقرر کیاگیاہے ۔ صوبائی وزیرزراعت کو بتایا گیاکہ اس سال سرگودھا ڈویژن میں16 لاکھ 43 ہزار ایکڑ رقبہ پر گندم کاشت کی گئی جس سے اچھی فصل پیدا ہونے کی امید ہے ۔ اجلاس کو بتا یا گیا کہ20 اپریل سے گندم خریداری کے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔ کمشنر اور ڈی سی او سرگودھا کی ہدایت پر موسمی حالات کے پیش نظر باردانہ کی تقسیم شروع کر دی جائے گی ۔40 کلو گرام گندم کی قیمت خرید 1200 روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ100 کلو گرام پر ڈلیوری چارجز ساڑھے سات روپے ادا کئے جائیں گے ۔ نمی کا تناسب11 فیصد تک رکھا گیا ہے ۔ پہلے پندرہ دن میں70 فیصد، دوسرے پندرہ دن میں20 او رآخری دس دن میں 10 فیصد باردانہ کا اجراء ہو گا۔ کاشتکاروں کو ایک وقت میں دو سو جیوٹ او رچار سو پی پی بوریاں جاری کی جائیں گی ۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر زراعت نے ہدایت کی کہ مارکیٹ کمیٹیاں مراکز خرید پر پینے کے ٹھنڈے پانی، ٹینٹ او ر کرسیوں کا انتظام کریں۔ ڈی سی او کی طرف سے ضلع، تحصیل او رسنٹرز پر مانیٹرنگ اور رابطہ کمیٹیاں نوٹیفائی کر دی گئی ہیں جس کے چےئرمین ڈی سی او جبکہ ارکان میں ڈی پی او، ای ڈی او زراعت، ڈی ایف سی، کاشتکار اور عوامی نمائندے شامل ہوں گے ۔ سنٹر زپر ڈی سی او کی طرف سے شکایات کے ازالہ کے لئے ایک ایک گزٹیڈ آفیسر بھی مقرر کیاجارہاہے ۔

مزید :

صفحہ آخر -