رانا مشہود کا عشائیہ

رانا مشہود کا عشائیہ
رانا مشہود کا عشائیہ
کیپشن: nasir bahseer

  

پہلے جو شخص زیر تعلیم ہوتا تھا، وزیرتعلیم بنا دیا جاتا تھا یا جس کی زیر و تعلیم ہوتی تھی، اسے وزارت تعلیم کا قلم دان تھما دیا جاتا تھا،جس کا نتیجہ یہ نکلتا تھا کہ ہر ایم پی اے تعلیم کی وزارت پر نظر جمائے رکھتا تھا۔وزیرتعلیم بننے کے بعد یہ ایم پی اے صاحب گرلز سکولوں اور گرلز کالجوں میں ہونے والی تقریبات کے مہمان خصوصی ہوتے اور اپنی دونوں، تینوں بیگمات کو تصویر دکھا کر مرعوب کرتے کہ دیکھو یہ ہے تمہارے شوہر نامدار کی عزت۔یہی وزرائے تعلیم تھے جو دراصل، تعلیم کے دشمن تھے۔ انہوں نے پنجاب کے عوام کو تعلیم، تہذیب، تعمیر اور تدریس سے دور رکھنے کی شعوری کوشش کی، کیونکہ اگر اس وقت عوام سب کچھ حاصل کر لیتے تو پھر ان کی وزارت ان کے پاس کیسے رہ سکتی تھی؟یہ واقعہ تو اب بہت پرانا ہو چکا ہے، جس کے مطابق ایک سیاستدان نے اپنے مخالف سے انتخابی رنجش کا بدلہ لینے کے لئے اس کے علاقے میں سکول بنوا دیا تھا۔کتنی دلچسپ بات ہے کہ تب دُشمنی کے اظہار کے لئے سکول بنوائے جاتے تھے اور آج جب ایک پڑھے لکھے ماہر قانون اور دانش ور رانا مشہود احمد خان وزیر تعلیم ہیں تو نئے سکول عوام دوستی کے لئے قائم کئے جا رہے ہیں۔

جب پچھلے چند مہینوں میں، مَیں نے رانا مشہود صاحب کو یوتھ سپورٹس فیسٹیول میں بہت زیادہ سرگرم دیکھا تو میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ یہ شخص جس کے پاس اس وقت پنجاب کی تین اہم وزارتیں(تعلیم، کھیل اور سیاحت) ہیں، شاید اپنے کام سے انصاف نہ کر سکے۔مَیں نے محسوس کیا کہ کھیلوں میں انہوں نے زیادہ سرگرمی دکھائی۔بڑے بڑے ریکارڈ قائم کر ڈالے۔ہزاروں لاکھوں بچوں اور نوجوانوں کو ایک ہی مقام پر سلیقے، طریقے اور ضابطے کے ساتھ لے آنا کوئی آسان کام تو نہیں۔اعتراضات بھی اٹھائے گئے کہ امتحانات کے دنوں میں بھلا ان کھیلوں کی کیا ضرورت تھی؟ یہ سوال بھی پوچھا گیا کہ یہ ریکارڈ قائم کرکے کیا فائدہ ہوگا؟ سوال اپنی جگہ درست ہوں گے، لیکن یہ فائدہ کیا کم ہے کہ ساری دنیا جو ہمیں دہشت گردی کے گھوڑے پر بٹھائے ہوئے ہے، اب ہمیں واقعتاً ایک زندہ دل قوم سمجھنے لگی ہے۔ بھارتی کرکٹ ٹیم ، اپنی حکومت کے کہنے میں آکر پاکستان کی پچ پر آکر چاہے نہ کھیلے، لیکن بہت سے غیر ملکی یہ سپورٹس فیسٹیول دیکھنے کے لئے لاہور آئے۔

میرا خیال غلط تھا کہ رانا صاحب اپنی وزارتوں سے انصاف نہیں کر پائیں گے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ اگر ان کے پاس وزارتِ تعلیم نہ ہوتی تو شاید وہ سپورٹس فیسٹیول کے انعقاد میں پوری طرح کامیاب نہ ہو پاتے۔ان کے حکم پر ہر سکول اور کالج نے اپنی اپنی بساط کے مطابق طلباءو طالبات سے بھری بسیں ان مقامات پر بھیجیں جہاں ان کی ضرورت تھی۔

چند روز قبل پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگوئج آرٹ اینڈ کلچر کی سرگرم اور فعال ڈائریکٹر ڈاکٹر صغرا صدف نے فون پر اطلاع دی کہ رانا مشہود احمد خان کے جی او آر والے گھر میں غیر ملکی ادیبوں، شاعروں، دانش وروں اور ماہرین تعلیم کے اعزاز میں ایک عشایئے کا اہتمام کیا جا رہا ہے، جس کی خود رانا صاحب میزبانی کریں گے، چنانچہ مَیں مقررہ وقت پر ہاکی کے نام ور کھلاڑی اور لیگی سیاسی کارکن رمیز چشتی کے ساتھ رانا صاحب کی اقامت گاہ پر پہنچا تو وہاں ویسا ہی سماں تھا، جیسا چند برس پہلے، ڈپٹی سپیکر ہاﺅس میں تھا، تب رانا صاحب نے اپنے دوست افتخار نسیم کے لئے ایک پُرتکلف عشایئے کا بندوبست کیا تھا،جس میں بہت سے ادیب اور شاعر بھی موجود تھے۔مجھے افتخار نسیم نے دعوت دے کر بلایا تھا۔تب بھی رانا صاحب مجھے ایک باغ و بہار شخصیت دکھائی دیئے تھے۔

آج بھی ان کی شخضیت کی تازگی اسی طرح برقرار ہے۔مَیں نے محسوس کیا ہے کہ وہ ڈرائنگ روم اور بیٹھک کی سیاست کے قائل نہیں، وہ دوستی اور دشمنی کا اظہار ڈنکے کی چوٹ پر کرتے ہیں۔اس بار بھی انہوں نے اپنے دوستوں اور ہم خیالوں کو مدعو کر رکھا تھا۔جدھر دیکھئے اک آفتاب دکھائی دیتا تھا۔مَیں جس میز پر بیٹھا تھا، وہاں پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران اپنی بیگم ڈاکٹر شازیہ قریشی کے ساتھ موجود تھے۔شاعر امجد اسلام امجد اور کارٹونسٹ جاوید اقبال بھی اپنے لطیفوں اور قہقہوں کے ساتھ وہیں براجمان تھے۔امجد صاحب کا قہقہہ پورا ہال سنتا تھا اور جاوید اقبال کا قہقہہ، جسم کی حرکت سے محسوس ہوتا تھا کہ قہقہہ لگا رہے ہیں۔برادرم نصیر الحق ہاشمی، رانا صاحب کے پرانے ملنے والے ہیں اس لئے ایک الگ شان کے ساتھ موجود تھے۔ڈاکٹر صغرا صدف ، نیلم احمد بشیر اور رخسانہ نور بھی یہیں بیٹھی تھیں۔ روزنامہ ”دن“ کے ایڈیٹر اور میرے یارِ دیرینہ میاں حبیب اپنی متانت اور سنجیدگی کو سنبھالے بیٹھے تھے۔رمیز چشتی اپنے دوستوں سے ملنے ملانے میں کہیں مصروف تھا۔ڈاکٹر عامر شہزاد، شفیق خان، سعداللہ شاہ اور شاہدہ دلاور بھی آئے ہوئے تھے۔

بھارت سے آئے ہوئے ایک پروفیسر صاحب نے رانا مشہود احمد خان کی دستار بندی کی۔پروفیسر صاحب نے اپنی گفتگو میں اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ لاہور میں دکانوں کے سائن بورڈ اردو میں لکھے جاتے ہیں۔ان کی حیرت بجا تھی۔مَیں 2004ءمیں بھارت گیا تو وہاں مسلمانوں کی دکانوں پر بھی ہندی یا انگریزی میں لکھے سائن بورڈ لگے ہوئے ہیں۔اردو کا کہیں نام و نشان نظر نہیں آتا۔جب ان پروفیسر صاحب نے لاہور میں بولی جانے والی اردو کو شک کی نگاہ سے دیکھا اور اپنی تعصب پر مبنی رائے دی تو وہاں موجود تمام پاکستانی ادیبوں میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں کہ یہ کیا فرما رہے ہیں؟ ان کے خیال میں یہ اردو، جس میں پنجابی کی آمیزش ہے، اردو ہے ہی نہیں۔لیکن اپنی بات کی انہوں نے یہ کہہ کر نفی کردی کہ اکرام چغتائی نے اردو کے لئے بہت کام کیا۔اہلِ ادب جانتے ہیں کہ یہ وہی اکرام چغتائی ہیں، جنہوں نے حافظ محمودشیرانی کی کتاب ”پنجاب میں اردو“ کا طویل مقدمہ لکھا ہے۔اگر ہمارے ان بھارتی مہمان نے پنجاب میں اردو پڑھی ہوتی تو شاید انہیں ہماری اردوئے محلہ سے پیار ہو جاتا۔ویسے سچی بات یہ ہے کہ ہم دلی اور لکھنو والوں سے جیسی اردو زبان سنتے آئے ہیں، ویسی ہمارے یہ مہمان بھی بولنے سے قاصر تھے، جس طرح ہماری اردو پنجابی زدہ ہے، ان کی اردو ہندی زدہ دکھائی دے رہی تھی۔

رانا مشہود احمد خان کے اس عشائیے میں شریک محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسروں کی بڑی تعداد دیکھ کر مجھے یقین آ گیا کہ وہ کھیلوں کے وزیر تو ہیں ہی، محکمہ تعلیم کو بھی شیر کی آنکھ سے دیکھ رہے ہیں۔کئی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر اور کئی کالجوں کے پرنسپل صاحبان موجود تھے۔ہمارے سدا بہار ڈائریکٹر کالجز رانا نسیم انجم بھی موجود تھے۔نوجوان سیکرٹری تعلیم عبداللہ سنبل دکھائی دیئے تو مَیں نے یاد دلایا کہ مَیں پہلی بار انہیں نوے کی دہائی میں ضلع کچہری لاہور میں ملا تھا، جب وہ اسسٹنٹ کمشنر تھے۔مجھے رانا صاحب کا یہ عشائیہ اس بات کا اعلان نامہ لگا کہ اب وہ سپورٹس کے ساتھ ساتھ محکمہ تعلیم پر بھی توجہ دینے والے ہیں۔

مزید :

کالم -