ڈی ایچ کیو ہسپتال لودھراں کی غیرمعیاری تعمیر پر ایگزیکٹو انجینئر سمیت 11افراد گرفتار

ڈی ایچ کیو ہسپتال لودھراں کی غیرمعیاری تعمیر پر ایگزیکٹو انجینئر سمیت ...

  

                                    لاہور(شہباز اکمل جندران//انویسٹی گیشن سیل) اینٹی کرپشن نے ہسپتال کی عمارت میںغیر معیاری مٹیریل استعمال کرنے اور ناقص مشینری کی تنصیب وبے ضابطگیوں پر محکمہ صحت کے ای ڈی او ڈی جی اینٹی کرپشن کا کلاس فیلوہونے کے دعویدار سی اینڈڈبلیو کے ایگزیکٹو انجنئیرسمیت 11افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ای ڈی او ہیلتھ آصف کاظمی، ایکسئین محمد علی، ڈاکٹرعبدالقدوس ، ڈاکٹر محمود الحسن ، ڈاکٹر ریاض احمد ، ڈاکٹر اشفاق حسین ، ایس ڈی او طاہر وحید ، ایس ڈی اوامتیاز احمد ایس ڈی او محمود الحسن سب انجنئیر شاہد نذیر اور میڈیسن کمپنی کے نمائندے محمد شاہد خان کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوآرٹر ہسپتال لودھراں کی غیر معیاری تعمیر اور ناقص مشینری کی تنصیب پر گرفتار کاکیا گیا ہے۔اور دیگر انجنئیروں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنا شروع کردیئے ہیں۔ گرفتاری کے دوران ای ڈی او ڈاکٹر آصف کاظمی کو اچانک ہارٹ اٹیک ہونے پر ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔دوسری طرف سی اینڈڈبلیو کی انتظامیہ نے گرفتار ہونے کے باوجود انجنئیر وں کو معطل نہیںکیا۔ معلوم ہواہے کہ محکمہ مواصلات و تعمیرات نے 38کروڑ روپے کی لاگت سے لودھراں میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوآرٹر ہسپتال کی تعمیر مکمل کی۔ لیکن اسی دوران وزیر اعلیٰ کے نوٹس میں یہ بات لائی گئی کہ ہسپتال کی تعمیر میں نہ صرف غیر معیار ی بلڈنگ مٹیریل استعمال کیا گیا ہے۔ بلکہ ہسپتال میںنصب کی جانے والی مشینری بھی ناقص ہے۔ اس پر وزیرا علیٰ کے حکم پر محکمہ صحت وغیر ہ کی ٹیم نے معاملے کی چھان بین کرتے ہوئے سب اچھا کی رپورٹ دی۔ لیکن وزیر اعلیٰ مطمین نہ ہوئے اور وزیر اعلیٰ انسپکشن ٹیم کو نئے سرے سے انکوائری کا حکم دیا گیا۔ اس پر سی ایم آئی ٹی نے حقائق کی روشنی میں انکوائری کرتے ہوئے ہسپتال کی تعمیرا ور مشینری میں ناقص مٹیریل کے استعمال کی رپورٹ کی۔ جس پر وزیر اعلیٰ نے اینٹی کرپشن کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دیدیا۔ جواب میں اینٹی کریشن لودھراں نے سی اینڈڈبلیو کے سیکشن افسربی ون کی مدعیت میں رواں سال کا پہلا مقدمہ درج کرتے ہوئے ای ڈی او ہیلتھ آصف کاظمی، ڈی جی اینٹی کرپشن عابد جاوید کا کلاس فیلو ہونے کے دعویدار ایکسئین محمد علی، ڈاکٹرعبدالقدوس ، ڈاکٹر محمود الحسن ، ڈاکٹر ریاض احمد ، ڈاکٹر اشفاق حسین ، ایس ڈی او طاہر وحید ، ایس ڈی اوامتیاز احمد ایس ڈی او محمود الحسن سب انجنئیر شاہد نذیر اور میڈیسن کمپنی کے نمائندے محمد شاہد خان سمیت 21افراد کے خلاف متعدد دفعات کے مقدمہ درج کرتفتیش شروع کردی۔اسی دوران سی اینڈڈبلیو کے ملزم ایکسئین محمدعلی نے مبینہ طورپر دوسرے انجنئیروں کو بھی پھنسانے کی کوشش کی۔اور ایسے ایکسئین و ایس ای جن کو لودھراں میں اضافی چارج دیا گیا۔ یا پھر انہوں نے اس قدر بڑے منصوبے میں بہت کم وقت کے لیے فرائض انجام دیئے اور تکمیل شدہ کام کے عوض ٹھیکیداروں کو محض چند لاکھ روپے کی ادائیگی کی ان کے نام بھی شامل تفتیش کروادیئے۔ جس سے سپرنٹنڈنٹ انجنئیر ناصر جلال ، سپرنٹنڈنٹ انجنئیر رانا بشارت ، ایکسئن اقبال اعوان ، ایکسئین ساجد تنویر ، ایکسئین محمد باقر و دیگر کو بھی اینٹی کرپشن لودھراں کی طرف سے باربار بلایا جانے لگا۔حالانکہ مذکورہ عمارت کی تعمیر اور مشینری کی تنصیب میں ان انجنئیروں کو کردار انہتائی ناقافی تھا۔ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن ملتان کے ڈائریکٹر نصیر احمد خان کی سربراہی میں سرکل افسر ظفر عباس و دیگر پر مشتمل ٹیم نے ادارے کے ڈائریکٹر جنرل عابد جاوید کی زیر نگرانی چھاپے مارتے ہوئے گزشتہ روز ی ڈی او ہیلتھ آصف کاظمی، ایکسئین محمد علی، ڈاکٹرعبدالقدوس ، ڈاکٹر محمود الحسن ، ڈاکٹر ریاض احمد ، ڈاکٹر اشفاق حسین ، ایس ڈی او طاہر وحید ، ایس ڈی اوامتیاز احمد ایس ڈی او محمود الحسن سب انجنئیر شاہد نذیر اور میڈیسن کمپنی کے نمائندے محمد شاہد خان کو گرفتار کر لیا ہے۔اور دیگر کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنا شروع کردیئے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہواہے کہ گرفتاری کے دوران ای ڈی او ڈاکٹر آصف کاظمی کو اچانک ہارٹ اٹیک ہونے پر ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔اور محکمہ مواصلا ت وتعمیرات گزشتہ روز تک واقعے سے کم و بیش لاعلم رھا۔یہی وجہ ہے کہ سی اینڈڈبلیو کی انتظامیہ نے گرفتار ہونے کے باوجود متذکرہ بالا انجنئیر وں کو معطل نہیںکیا۔ واقعے کے سلسلے میں سی اینڈڈبلیو کی انتظامیہ کا کہناتھا کہ گزشتہ روز تک اینٹی کرپشن کی طرف سے محکمے کو انجنئیروں کی گرفتاری کے سلسلے میں تحریری طورپر آگاہ نہیں کیا گیا۔اور اینٹی کرپشن کی طرف سے تحریری اطلاع ملتے ہی گرفتار شدہ انجنئیروں کو فوری طورپر معطل کردیا جائیگا۔ اس سلسلے میں چیف انجنئیر بلڈنگز ساﺅتھ پنجاب تنویر انور اور ڈائریکٹر ایڈمن بلڈنگز ساﺅتھ پنجاب ہمایوں مظہر نے واقعے سے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا۔ تنویر انور کا کہناتھا کہ وہ ڈیرہ غازی خان دورے پر تھے اور نہیں جانتے کہ ان کے ماتحت کسی ایکسئن یا ایس ڈی او کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ملزمان کی گرفتاری کے دوران ڈی جی اینٹی کرپشن عابد جاوید بھی موقع پر موجود رہے۔

غیر معیاری تعمیر

مزید :

صفحہ آخر -