کسی میڈیا ہاﺅس پر پابندی قبوؒ نہیں کی جائے گی، سیفما کے زیر اہتمام اجلاس میں مذمتی قرارداد

کسی میڈیا ہاﺅس پر پابندی قبوؒ نہیں کی جائے گی، سیفما کے زیر اہتمام اجلاس میں ...

  

                                   لاہور(سٹاف رپورٹر)سیفما کے زیر اہتمام سینئر صحافی حامد میر پر قاتلانہ حملے ،دیگر صحافیوں کو ملنے والی دھمکیوںاور مختلف ذرائع سے ڈرانے دھمکانے کی مہم کی شدید مذمت کی گئی ۔جبکہ میڈیا اور سکیورٹی اداروں کے درمیان تناﺅ سمیت میڈیا ہاﺅسز اور اس سے متعلقہ افراد پر پابندی کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔سیفما ہاﺅس میں منعقد ہونے والے اس سیمینار کی صدارت معروف اینکر نجم سیٹھی نے کی جبکہ اس موقع پر ممتاز دانشور و صحافی حسین نقوی،آئی اے رحمن،ارشدانصاری اور امتیاز عالم بھی شریک ہوئے ۔سیمینار میں اتفاق رائے سے منظورکی جانے والی قرار داد میں کہا گیا کہ غیر جانبدار انہ انکوائری اور جوڈیشل کمیشن نہ صرف حامد میر پرحملے کی تحقیقات کرے بلکہ میڈیا اور سکیورٹی اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعہ کے تمام پہلوﺅں کا بھی جائزہ لے ۔اصل ملزموں کا سراغ لگانے کے ساتھ ساتھ ایسے اقدامات کی سفارش بھی کرے جن کے ذریعے صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔جوڈیشل کمیشن کی سفارشات منظرعام پر لائی جائیں اور ان پر عملدرآمد بھی یقینی بنایا جائے ۔قرار داد میں یہ بھی کہا گیا کہ تمام میڈیا ہاﺅسز صحافتی ضابطہ اخلاق کی پابندی کو یقنی بنائیں اور آزادی صحافت کے ساتھ ساتھ میڈیاسے منسلک افراد کے تحفظ کے لئے یکجہتی کا اظہار کریں ۔اس حوالے سے ایک دوسرے کے خلاف زہر اگلنے یا کیچڑ اچھالنے سے اجتناب کیا جائے ۔اجلاس میں مذمتی قرارداد منظور کی گئی جس میں حامدمیر پر حملے کی شدید مذمت کی گئی اور قرار دیا گیا کہ کسی بھی صورت کسی میڈیا ہاﺅس پر پابندی قبول نہیں کی جائے گی، پیمرا کے ذمہ داران کے تقرر کا طریقہ کار الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرز پر کیاجائے، حامد میر پر حملہ کا معاملہ صرف عدالتی کمیشن دیکھے، اس موقع پر نجم سیٹھی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کوئی میڈیا کا ادارہ بند نہیں ہونا چاہیے، میڈیا کی آزادی کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے، مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کی آزادی کو دبانے کے لیے میڈیا ہاﺅس پر پابندی نہیں ہونی چاہیے، حامد میر پر حملہ آزادی صحافت پر حملہ ہے، جیو اور جنگ گروپ کے خلاف جاری پروپیگنڈا کی مذمت کرتے ہیں، آزادی صحافت کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ سیمینار میں پیمرا کے ڈھانچے کو غیر آئینی قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ وہا ں بیٹھے افسران کسی قانونی یا تکنیکی حوالے سے کسی قسم کا انصاف پر مبنی فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ حامد میر پر قاتلانہ حملے کی انکوائری کے لئے تشکیل دیا گیا جوڈیشل کمیشن ہی اس حوالے سے تمام معاملات کا خود جائزہ لے ۔

مزید :

صفحہ آخر -