پنجاب میں ٹریفک کے تمام شعبوں کو ایڈیشنل آئی جی کے کنٹرول میں دینے کاحکم

پنجاب میں ٹریفک کے تمام شعبوں کو ایڈیشنل آئی جی کے کنٹرول میں دینے کاحکم ...

  

                          لاہور(زاہد علی خان)وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے ٹریفک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ٹریفک وارڈنز اور سابق ٹریفک پولیس کو بھی آئی جی ٹریفک پنجاب کے ماتحت کرنے کا حکم دیدیا ہے، اس وقت صرف پانچ اضلاع لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، فیصل آباد اور ملتان میں ٹریفک وارڈنز کام کر رہے ہیں جبکہ دیگر اضلاع میں سفید شرٹ اور نےلی پےنٹ یونیفارم والی پولیس تعینات ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے ایڈیشنل آئی جی ٹریفک پنجاب نسیم الزماں خان کو حکم دیا ہے وہ اس حوالے سے فوری طور پر ایک مکمل سمری بنا کر انہیں بھجوائیں تاکہ باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا جائے۔ معلوم ہوا ہے کہ وزیر اعلیٰ ٹریفک کے موجودہ نظام سے سخت نالاں ہیں اور اس وقت ٹریفک کا نظام تین شعبوں میں بٹا ہوا ہے، پانچ اضلاع میں ٹریفک وارڈنز تعینات ہیں جن کا اپنا نظام ہے، ان کو چیف ٹریفک آفیسر کمان کر رہے ہیں۔ ان کے ماتحت سینئر ٹریفک آفیسر اور ڈی ایف پی ٹریفک اور سینئر ٹریفک وارڈنزہیں۔ ان کے اوپر کوئی ڈی آئی جی عہدے کا افسر نہیں جو ان کو کمان کے لئے لیکر ان کے فنڈز اور سزا کا جزا کامعاملہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اور ریجنل پولیس آفیسر ہیں جو فنڈز سمیت دیگر معاملات میں مکمل با اختیار بنا دیئے گئے ہیں۔ جس کے باعث ٹریفک کے نظام میں بے شمار خرابیاں بھی پیدا ہو گئی ہیں اور ٹریفک کا رش سڑکوں پر بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ شہریوں اور وارڈنز کے درمیان لڑائی ، مارکٹائی سمیت بے شمار خرابیاں سامنے آ گئی ہیں۔ دوسری جانب پرانی ٹریفک پولیس بھی شاہراہوں اور اضلاع میں ٹریفک کو کنٹرول کرنے میں ناکام نظر آئی ہے، رشوت اور ٹریفک حادثات میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے، تیسری جانب پنجاب ہائی وے پٹرولنگ کو بھی سنگین نوعیت کی وارداتوں کی روک تھام کے ساتھ ساتھ ٹریفک کے نظام کو بھی بہتر بنانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ پنجاب میں ٹریفک کے تمام شعبوں کو ایڈیشنل آئی جی ٹریفک کے کنٹرول میں دیا جا رہا ہے ۔ایسی صورت میں تمام چیف ٹریفک آفیسر آئی جی کو جوابدہ ہوں گے پنجاب میں ایک ڈی آئی جی ٹریفک بھی ہو گا۔ ٹریفک پولیس کی نفری میں اضافہ کیا جائے گا اور ایسے ماہر افسران کو آگے لایا جائے گا جو ٹریفک کے نظام کو بہتر سے بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ ٹریفک پولیس اور وارڈنز کی وردی بھی تبدیل ہو سکتی ہے اور انہیں رولز کے مطابق تمام ضروری سہولیات دی جائیں گی ۔

مزید :

صفحہ آخر -