تھری جی کے 4لائسنس 1کھرب 11ارب روپے میں فروخت

تھری جی کے 4لائسنس 1کھرب 11ارب روپے میں فروخت

  

 اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) تھری جی لائسنس کی نیلامی کا عمل مکمل ہو گیا ہے اور چار لائسنس ایک سو گیارہ ارب روپے میں فروخت کر دئیے گئے ہیں۔ حصہ لینے والی چاروں کمپنیوں نے بولی جیت لی، ان میں سے زونگ فور جی لائسنس کے حصول کیلئے بھی کوالیفائی کر گیا۔تھری جی لائسنس کی نیلامی کا عمل آٹھ راؤنڈز تک جاری رہا جس میں مجموعی طور پر چاروں کمپنیوں نے 90 کروڑ 28 لاکھ ڈالر (ایک کھرب گیارہ ارب روپے)کی پیشکشیں دی گئیں۔ چوتھی بولی کے بعد پیشکش میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر اسماعیل شاہ کے مطابق زونگ کمپنی نے تھری جی کے 10 میگا ہرٹز کی نیلامی جیت لی۔ موبی لنک نے بھی تھری جی کے 10 میگا ہرٹز کو حاصل کر لیا۔ ٹیلی نار اور یو فون نے تھری جی بینڈ کے پانچ، پانچ میگا ہرٹز کا لائسنس حاصل کر لیا۔ زونگ کمپنی فور جی بینڈ لائسنس خریدنے کے لئے کوالیفائی کر گئی۔ فور جی بینڈ کا دوسرا لائسنس فروخت نہ ہو سکا جس کی نیلامی کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ اس موقع پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ماضی میں تھری جی لائسنس کی نیلامی سے صرف پچاس ارب روپے حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا تھا جبکہ ہم نے ایک سو گیارہ ارب روپے میں فروخت کئے۔ فور جی لائسنس کی نیلامی سے پچاس ارب روپے حاصل ہونگے۔ کامیاب بڈرز کو 50 فیصد ادائیگی 30 دن اور بقایا ادائیگی پانچ سال میں مساوی قسطوں میں کرنا ہو گی، تھری اور فور جی لائسنس 15 سال کی مدت کے لئے جاری کئے جائیں گے۔ٹیلی کام کمپنی یوفون نے بھی تھری جی لائسنس حاصل کر لیا ۔اس موقع پر اپنی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے یوفون کے سی ای او عبدلعزیز نے کہا ’’ یہ نہ صرف یوفون بلکہ پاکستان کی ٹیلی کمیونیکیشن کی صنعت کے لئے بھی ایک اہم سنگ میل ہے ۔ ہم پاکستان میں تھری جی ٹیکنالوجی متعارف کروانے کیلئے کچھ عرصے سے کوششیں کر رہے تھے اور ہم مسرور ہیں کہ بلا آخر ہماری کوششوں کا مثبت نتیجہ مل گیا ہے۔ انہوں نے پی ٹی اے ، متعلقہ وزارت اور حکومت پاکستان کو نیلامی کے عمل کے کامیابی سے انعقاد پر مبارک باد پیش کیاور کہا ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہمارے کسٹمرز تھری جی ٹیکنالوجی کے فوائد سے مستفید ہوں اور ہم ان کو بہترین ٹیکنالوجیکل معاونت فراہم کریں گے۔ ‘‘ اس بات کا قوی امکان ہے کہ نیکسٹ جنریشن موبائل سروسز کی بدولت مجموعی ملکی پیداوار میں اضافہ ہوگا ۔ مزید جدید سہولیات متعارف کروائی جائیں گی ،نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے اور ملک کی سماجی۔معاشرتی صورتحال میں بہتری آئے گی۔

مزید :

صفحہ اول -